BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 October, 2008, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اتفاق رائے ورنہ امریکی پالیسیاں

پارلیمنٹ
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں سیاسی قوت کے تمام حصہ دار ایک پیچدار قومی مسلہ نمٹانے کے لیے اکٹھے ہوئے ہوں
پاکستان کے ایک اہم وزیر کا کہنا ہے کہ ملک کے زیادہ تر سیاسی رہنماؤں کو اندازہ ہی نہیں کہ پاکستان کس قسم کے خطرات سے دوچار ہے۔ ’اس معاملے میں ان کی جہالت دیکھ کر اپنے بال نوچنے کو جی چاہتا ہے۔‘

وزیر موصوف کی جھنجھلاہٹ بے وجہ نہیں۔ جب سے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اپنے پہلے امریکی دورے سے لوٹے ہیں، ان کی حکومت نے تقریباً تمام حکومتی و ریاستی امور بالائے طاق رکھ کر اپنی تمامتر توجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

گو یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں سیاسی قوت کے تمام حصہ دار ایک پیچدار قومی مسلہ نمٹانے کے لیے اکٹھے ہوئے ہوں لیکن اعلٰی سرکاری ذرائع کے مطابق جتنا کچھ اس وقت داؤ پر ہے وہ شائد پہلے کبھی نہ تھا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا پہلا امریکی دورہ موجودہ حکومت کے لیے ایک ایسا جھٹکا تھا جس نے انہیں جھنجھوڑ ڈالا۔ ’پاکستان کی مشکلات کا احساس تو ہمیں پہلے دن سے تھا لیکن ملک بھر میں پھیلی انتہا پسندی کے خلاف امریکی عزائم میں کس قدر شدت آ چکی ہے اس کا صحیح اندازہ اس دورے کے دوران ہی ہوا۔‘

ان ذرائع کے مطابق پاکستانی صدر کے ساتھ مختلف ملاقاتوں میں امریکی اہلکاروں نے اپنا سارا زور بنیادی طور پر تین نکات پر رکھا۔

پہلا یہ کہ کیا کوئی امریکہ کو یہ سمجھا سکتا ہے کہ بیت اللہ محسود جیسا جنگجو جب چاہے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ملک بھر کے صحافی اکٹھے کر لیتا ہے اور اس کی پوچھ پکڑ کرنے والا کوئی نہیں۔

قبائلی لشکر
حکومت قبائلی عمائدین اور جرگوں کا اثر رسوخ بحال کرنا چاہتی ہے جو طالبان کی آمد کے بعد بالکل ختم ہو گیا تھا
دوسرا یہ کہ پاکستان اور امریکہ کے مابین اطلاعات کے تبادلے کا معاہدہ عملی طور پر دم توڑ چکا ہے کیونکہ امریکی حکام کے مطابق جب بھی انہوں نے حملے سے پہلے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا، ان کا ہدف صاف بچ نکلا۔ ’دوسرے لفظوں میں ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں امریکی حملوں کی اطلاع حملہ ہونے کے بعد ہی ملے گی۔‘

تیسرا نکتہ یہ اٹھایا گیا کہ لگ بھگ دو سال سے پاکستان اور اس کے قبائلی علاقوں کے بیچ لوگوں کی نقل حمل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ امریکی اہلکاروں کے مطابق اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی اور غیر ملکی جنگجو قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ قبائلی علاقوں میں پناہ گزیں چند اہم لوگ وہاں سے نکل کر پاکستان کے بڑے شہروں میں داخل ہو گئے ہوں۔

’وہ ہمیں واضح طور پر یہ اشارہ دے رہے تھے کہ امریکہ کا ارادہ اپنے حملوں کو قبائلی علاقوں تک محدود رکھنا نہیں بلکہ اگر انہیں پاکستان کے کسی بھی شہر میں کسی اہم ٹارگٹ کی موجودگی کی خبر ملی تو وہ وہاں حملہ کرنے سے نہیں چوکیں گے۔‘

اور آخر میں امریکی حکام نے پاکستانی رہنماؤں کو تنبیہ کی کہ اگر وہ اس صورتحال کو قابو میں نہیں لاتے تو ’آپ صدر جارج بش کو بڑی حسرت سے یاد کر کے کہیں گے کہ وہ تو بڑا نیک آدمی تھا۔‘

ظاہر ہے کہ اس قدر سخت تنبیہ کے بعد موجودہ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ لائحہ عمل جو بنیادی طور پر پاکستان کی فوجی قیادت کی جانب سے تجویز کیا گیا تھا لیکن جس سے امریکہ بھی متفق تھا اس پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے۔

پاکستانی پارلیمنٹ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ پر ایک متفقہ قرارداد کی کوششیں دراصل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔

ندیم تاج
جنرل تاج اپنے پورے دور میں ایک دفعہ بھی امریکی دورہ نہ کر سکے جو ملکی سلامتی سے متعلق امور پر نظر رکھنے والوں کے لیے خاصے اچھنبے کی بات ہے
حکومت، فوج اور امریکہ غالباً اس بات پر متفق ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کو کسی بھی فیصلہ کن موڑ پر دھکیلنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جو بھی حکمت عملی اپنائی جائے اس کو نہ صرف سیاسی طاقت کے حصہ داروں کی بلکہ پوری قوم کی حمایت حاصل ہو۔

حکومت کی مجوزہ حکمت عملی کا ایک کلیدی عنصر یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں موجودہ فوجی آپریشن کو جاری رکھتے ہوئے طالبان جنگجووں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے۔ یہ پالیسی سابق صدر پرویز مشرف کی پالیسی سے قطعی فرق ہے جس کے مطابق ہمیشہ مذاکرات کے لیے فوجی آپریشن کو روک دیا گیا اور طالبان اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ منظم ہو گئے۔

اس کے برعکس موجودہ حکومت نہ صرف فوجی آپریشن جاری رکھنا چاہتی ہے بلکہ طالبان جنگجووں کو یہ پیغام بھی دے چکی ہے کہ اگر وہ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے کے لیے مقامی قبائلی عمائدین سے رابطہ کرنا ہو گا۔ یقیناً اس لائحہ عمل سے حکومت قبائلی عمائدین اور جرگوں کا اثر رسوخ بحال کرنا چاہتی ہے جو طالبان کی آمد کے بعد بالکل ختم ہو گیا تھا۔

پاکستان میں بیشتر مبصرین اس حکمت عملی کے حق میں ہیں لیکن ابھی کوئی بھی وثوق سے یہ کہنے کو تیار نہیں کہ یہ کہاں تک کامیاب ہو سکے گی۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان اور امریکہ کے قومی سلامتی کے اداروں میں اعتماد کا فقدان ہے جو ان دونوں ملکوں میں قابل دست اندازی اطلاعات کے تبادلے کے معاہدے کی موت کا سبب بنا۔

اعلٰی فوجی ذرائع کے مطابق اعتماد کا یہ فقدان پاکستان کے جاسوس ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ندیم تاج کے دور میں اپنے عروج کو پہنچ چکا تھا۔ پاکستان میں اس کی ایک مثال یہ دی جاتی ہے کہ جنرل تاج اپنے پورے دور میں ایک دفعہ بھی امریکی دورہ نہ کر سکے جو ملکی سلامتی سے متعلق امور پر نظر رکھنے والوں کے لیے خاصے اچھنبے کی بات ہے۔

زرداری اور بش
صدر آصف زرداری جب سے امریکی دورے سے لوٹے ہیں، حکومت نے اپنی تمام تر توجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے
عسکری مبصرین کے مطابق اس میں قصور شاید جنرل تاج کا بھی نہ تھا کیونکہ آئی ایس آئی کی سربراہی سنبھالتے ہی ان کو اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کی سیاسی مشکلات دور کرنے پر معمور کر دیا گیا۔ ابھی وہ اسی میں الجھے ہوئے تھے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آ گئی جسے ان پر بالکل اعتماد نہ تھا اور اس نے آتے ہی آئی ایس آئی اور امریکی اداروں کے بیچ رابطوں کو اور محدود کر دیا۔

اس کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ قبائلی علاقوں پر امریکی حملوں کی پیشگی اطلاع پاکستان کو ملنا بند ہو گئی۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک امر یہ ٹھہرا کہ امریکہ پاکستان کی جانب سے مہیا کی جانے والی اطلاعات کو بھی قطعی نظرانداز کرنے لگا۔

اعلٰی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ برس میں کم از کم تین بار امریکہ کو بیت اللہ محسود کے ٹھکانے کی مصدقہ اطلاع دی گئی لیکن امریکہ نے اس پر ایک بار بھی ایکشن نہ لیا۔ ان میں بیت اللہ محسود کی وہ پریس کانفرنس بھی شامل تھی جس کا شکوہ امریکی حکام نے صدر زرداری کے دورے کے دوران کیا۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل احسان نے حال ہی میں بی بی سی کو ایک انٹرویو میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ امریکہ کو بیت اللہ محسود کی جائے پناہ کا علم نہیں اور ان کے خیال میں پاکستان کی جانب سے کئی بار بیت اللہ کی کسی مخصوص علاقے میں موجودگی کی اطلاع امریکہ کو دی جا چکی ہے۔

اب حکومت کی کوشش یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں دہشتگردی کے خلاف ایک قرارداد منظور کروا کے اس کے بل بوتے پر چند مربوط اقدامات اٹھائے جائیں۔ ان میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بھرپور حملے، قبائلی عمائدین کی بحالی، امریکی جاسوس اداروں سے تعلقات میں بہتری اور قبائلی علاقوں میں بھرپور ترقیاتی کاموں کا آغاز شامل ہیں۔

متفقہ پارلیمانی قرارداد کی کاوش میں پیش پیش ایک پاکستانی وزیر کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی کئی سیاسی جماعتیں اس حقیقت کی قائل نہیں ہو سکیں کہ امریکی انتخابات کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، امریکی اسٹیبلشمنٹ اب ہر صورت پاکستان میں جاری جنگ کو اس کے آخری مرحلے میں دھکیلنے پر مصر ہے۔

ایسے میں اگر پاکستان کو اپنے مستقبل پر اختیار رکھنا ہے تو موجودہ حکومت کے خیال میں اس کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ ایک قومی اتفاق رائے کے ذریعے ایک ایسی حکمت عملی اپنائے جو پاکستان کے سیاستدانوں کی مشاورت سے پاکستان میں بنی ہو نہ کہ امریکی سی آئی اے اور پینٹاگون کے بند کمروں میں جہاں اکثر افسروں کی آنکھوں میں پاکستان کا نام سنتے ہی خون اتر آتا ہے۔

آخر پالیسی ہے کیا
دہشگردی کے خلاف حکومتی پالیسی ہے کیا؟
فوجمربوط پالیسی چاہیے
’قوم ایک ہی پالیسی پر کاربند نظر آئے‘
بھارت اور امریکہنئی سمت کی تلاش
پاکستان: ہند امریکہ جوہری معاہدے کے بعد
سوات کارروائی
سوات میں فوجی کارروائی کا ایک سال
لشکرِلشکروں کے بعد کیا؟
کیا لشکر بنانے کی پالیسی کارگر ہو گی؟
ڈرون کی تاریخ
ڈرون کیا ہیں اور ان کا استعمال کیا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد