BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 October, 2008, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کو جوہری سمت کی تلاش

بھارت اور امریکہ
اس سمجھوتے سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں
تقریباً تین دہائیوں تک پابندیوں کا سامنا کرنے کے بعد بھارت کو امریکہ نے سویلین جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی مہیا کر دی ہے۔ لیکن ہمسایہ ملک پاکستان جس کا جوہری پروگرام آغاز سے بھارت سے جڑا تھا اب ایک نئی سمت کی تلاش میں ہے۔

اس معاہدے سے امریکہ کو بھارت کے سویلین جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت کے بدلے امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی اور توانائی کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ امریکی صدر بش اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے معاہدے پر دستخط جولائی دو ہزار پانچ میں کیے تھے جس کے بعد کئی برسوں کے مذاکرات کے بعد واشنگٹن میں دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے گزشتہ ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی۔

اس معاہدے کے تحت بھارت نے جوہری تجربات کا حق محفوظ رکھا ہے تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں وہ معاہدہ ختم تصور کرے گا۔ لیکن کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد میں قائم قائد اعظم یونیورسٹی میں شعبہ فزکس کے سربراہ پروفیسر پرویز ہودبھائی اس تاثر سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ توازن یقیناً خراب ہوگا۔

’اس معاہدے کے تحت بھارت کو جوہری ایندھن فراہم کیا جاسکے گا جو وہ اپنی دفاعی پیداوار کی جانب لگا سکے گا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت یورینیم کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرسکے گا۔ اگرچہ بھارت میں چند ایسے ریکٹرز ہیں جو سویلین یعنی بجلی کی پیداوار کے لیے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ یورینیم صرف انہیں ریکٹرز میں استعمال ہو۔

اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بھارت اپنی پیداوار تین، چار اور دس گنا تک بڑھا سکے گا۔ بھارت تین سے تیس جوہری ہتھیار سالانہ تیار کر سکے گا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان بھی اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش کرے گا۔‘

صرف سویلین استعمال ضروری نہیں
 ’اس معاہدے کے تحت بھارت کو جوہری ایندھن فراہم کیا جاسکے گا جو وہ اپنی دفاعی پیداوار کی جانب لگا سکے گا۔ اس معاہدے کے تحت بھارت یورینیم کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرسکے گا۔ اگرچہ بھارت میں چند ایسے ریکٹرز ہیں جو سویلین یعنی بجلی کی پیداوار کے لیے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ یورینیم صرف انہیں ریکٹرز میں استعمال ہو
پروفیسر ہودبھائی

امریکہ سے شائع ہونے والے رسالے سائنس کے جنوبی ایشیا کے نامہ نگار پلو بگلہ کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی آج کے دور میں یقیناً مہنگی ہے لیکن اگر مستقبل قریب میں جب آپ کے پاس قدرتی گیس اور کوئلہ بھی ختم ہو جائے گا تو یہی توانائی کا اہم ذریعہ ہوگا۔

وہ اس تاثر سے بھی متفق نہیں کہ بھارت جوہری ایندھن ہھتیار کی تیاری کی جانب موڑ دے گا۔ ’یہ کام بین الاقوامی اصولوں اور تحفظ کے تحت ہوگا لہٰذا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔‘

پاکستانی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی گزشتہ دنوں امریکہ سے اسی قسم کے معاہدے کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکہ سے کہا کہ وہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان امتیازی سلوک نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ معاہدے کے بعد اب پاکستان کا بھی حق ہے کہ اس طرح کے معاہدے کا مطالبہ کرے۔

لیکن کئی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان نے اب تک باضابطہ طور پر اس معاہدے کا مطالبہ ہی نہیں کیا ہے۔ البتہ پروفیسر پرویز ہودبھائی کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس قسم کے معاہدے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

’پاکستان کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کے پاس کافی مقدار میں ہتھیار پہلے سے موجود ہیں۔ بھارت اگر ایسی غلطی کرتا ہے تو ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں پاکستان کو امریکہ سے ایسے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اس انکار کی وجہ وہ پاکستان میں مجموعی بجلی کا صرف دو فیصد جوہری بجلی گھروں سے پیداوار بتاتے ہیں۔ ’اس پر پیسہ اگر آپ دیکھیں تو بہت خرچ ہوتا ہے۔ جب یہ بجلی گھر خریدے جاتے ہیں تو ایک تو ان کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے اور پھر ان کو چلانا بھی بہت مہنگا پڑتا ہے۔ اس کا مقابلہ اگر تیل، گیس، پانی اور شمسی توانائی سے کریں تو یہ تو بہت مہنگا پڑتا ہے۔ اس لیے نہ پاکستان اور نہ بھارت کے لیے جوہری بجلی منافع بخش ثابت ہوئی ہے۔‘

موید یوسف امریکہ میں بوسٹن یونیورسٹی میں پڑھانے کے علاوہ کالم نگار بھی ہیں۔ اس معاہدے کو وہ کئی حوالوں سے غیرمعمولی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان پر اس کے اثرات کے اعتبار سے وہ بھی مانتے ہیں کہ اس سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

’یہ ایک غیرمعمولی معاہدہ ہے کیونکہ اس سے قبل ان رعایات کے ساتھ یہ معاہدہ نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل چین اور روس کو بھی ری پروسیسنگ کی سہولت مہیا نہیں تھی۔‘

پاکستان کو بھی سہولت ملنی چاہیے
 صرف اسرائیل، پاکستان اور بھارت اس کیٹگری میں آتے ہیں۔ اسرائیل نے چونکہ جوہری ہتھیاروں کا اعتراف نہیں کیا ہے تو پھر صرف پاکستان اور بھارت ہی دو ایسے ملک رہ جاتے ہیں۔ جب بھارت کو یہ سہولت دی تو پاکستان کو بھی دینی چاہیے۔ پاکستان کو آغاز ہی سے یہ جواز پیش کرنا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا پاکستان پر کوئی خاص اثر نہیں ہوگا کیونکہ بھارت اس کو استعمال کرکے اسے سیکھے گا۔ ’ویسے یہ بلیک باکس ٹیکنالوجی ہے جو وہ لیں گے اور ہھتیاروں کے لیے استعمال کریں گے اور انہیں بہت فائدہ ہوگا۔ اگر ایسا ہے بھی تو وہ دس کی بجائے بیس بناسکیں گے لیکن اس سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بھارت چاہے جتنے نمبر بڑھالے اس سے ہمیں اصولاً کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ ٹِٹ فار ٹیٹ میں آپ کچھ بھی کرسکتے ہیں لیکن ان کے ہتھیاروں سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔‘

بعض ماہرین کے خیال میں پاکستان نے اس معاہدے کے لیے جو مؤقف اختیار کیا وہ درست نہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کو اپنا کیس اس بنیاد پر قائم کرنا چاہیے کہ جب امریکہ بھارت کو جوکہ ایک این پی ٹی ملک نہیں ہے کو توانائی کی خاطر یہ سہولت دے رہا ہے تو پھر اسے یہ سہولت پاکستان کو بھی دینی چاہیے۔

’صرف اسرائیل، پاکستان اور بھارت اس کیٹگری میں آتے ہیں۔ اسرائیل نے چونکہ جوہری ہتھیاروں کا اعتراف نہیں کیا ہے تو پھر صرف پاکستان اور بھارت ہی دو ایسے ملک رہ جاتے ہیں۔ جب بھارت کو یہ سہولت دی تو پاکستان کو بھی دینی چاہیے۔ پاکستان کو آعاز ہی سے یہ جواز پیش کرنا چاہیے تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اسے غلط سمجھا کہ بھارت یہ معاہدہ جوہری ہتھیاروں کے لیے کر رہا ہے۔ اصل میں بھارت کو یہ ڈیل چاہیے تھی کہ وہ اپنا سٹیٹس منوانا چاہتا تھا این پی ٹی پر دستخظ کیے بغیر۔ یہی انہوں نے کیا ہے باقی جو نمبر بڑھیں گے ہتھیاروں کے وہ ایک سائڈ افیکٹ تو ہے لیکن یہ ان کا مقصد نہیں تھا۔

پرویز ہودبھائی کے خیال میں بھارت اس معاہدے کے ذریعے دیگر ٹیکنالوجیز تک رسائی چاہتا تھا۔ ’اس معاہدے کا مقصد کچھ اور ہے کیونکہ بھارت کے لیے دیگر ٹیکنالوجی حاصل کرسکنے کے لیے راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس طرح بھارت کے لیے یہ زیادہ مفید ہے۔‘

ماضی میں جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں جو بھی کردار ہو اب حکومت پاکستان کی طرح یہاں کی حزب اختلاف بھی جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کی خواہاں ہے۔

مسلم لیگ نون کے چوہدری نثار علی خاں کہتے ہیں کہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے لیے پاکستان کو بالکل اجازت ہونی چاہیے۔

’جہاں تک بھارت کے ساتھ معاہدے کی بات ہے تو یہ انڈیا سپیسفک ہے۔ باوجود اس کے کہ بھارت اور پاکستان دو علاقائی طاقتیں ہیں جن کے جوہری پروگرام کافی مقابلے اور ردعمل میں ہیں۔ دھماکے بھی ہم نے ایک دوسرے کے بعد کیے۔ ایسے میں امریکہ کا بھارت سے یہ معاہدے پاکستان کے مفادات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ یہ راستہ پاکستان کے لیے بھی کھلا ہونا چاہیے۔‘

لیکن موید یوسف جیسے ماہرین کے خیال میں امریکہ سے تو یہ معاہدہ موجودہ حالات میں ممکن نہیں لیکن پاکستان کو اس جیسے معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔

بعض مبصرین کے خیال میں بھارت سے اس ڈیل کے ذریعے امریکہ علاقے میں چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا چین اور پاکستان کے درمیان کسی ایسے معاہدے کی وہ شدید مخالفت کرے گا۔ ایسے میں کیا پاکستان کو چین کی جانب دیکھنا چاہیے؟

پرویز ہودبھائی کہتے ہیں کہ امریکہ کی اپنی معیشت رو بہ زوال ہے جبکہ چین پھل پھول رہا ہے۔ ’امریکہ چین کو ایک عالمی خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ چین کے اثر کو کم کرنے کے لیے شاید وہ بھارت میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔‘

ماہرین کے خیال میں پاکستان ضرور چاہے گا کہ چین کے ساتھ اس قسم کا معاہدہ ہو۔ تاہم پروفیسر ہودبھائی کے مطابق پاکستان کی شبیہہ بھارت سے مختلف ہے۔

’پاکستان سے جوہری ٹیکنالوجی برآمد کی گئی ہے۔ دنیا ہمیں اور نظروں سے دیکھتی ہے۔ اگر چین نے ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کی تو نیوکلیر سپلائرز گروپ اور آئی اے ای اے اس کی مخالفت کریں گے۔ امریکہ تو ضرور کرے گا وہ کہہ چکا ہے کہ اس طرح کا معاہدہ پاکستان کے ساتھ نہیں ہوسکتا اور نہ ہی چین اور پاکستان کے درمیان ہوسکتا ہے۔ تو یہ آسان ہرگز نہیں ہوگا۔‘

عالمی سٹیٹس کا معاملہ
 آپ چین سے جاکر یہ ٹیکنالوجی لے بھی لیتے ہیں تو آپ پھر بھی اس کلب کا رکن نہیں بن سکتے ہیں۔ چین سے وہ عالمی سٹیٹس آپ کو نہیں ملے گا جو بھارت کو امریکہ سے ملا ہے۔ اس معاہدے سے ایک پینڈورا بکس کھل گیا ہے اب روس بھی آپ سے بات کرے گا فرانس بھی کرے گا کیونکہ ان کا یہ ایک معاشی مفاد ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا قانونی ہونے کا مسئلہ حل ہو پائے گا یا نہیں۔ پاکستان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ آسان نہیں ہوگا
موید یوسف

لیکن موید یوسف کے مطابق چین سے معاہدے کی صورت میں بھی پاکستان کو وہ رتبہ نہیں ملے گا جو بھارت کو اس معاہدے سے ملا ہے۔

’اگر میرا مؤقف درست ہے اور آپ چین سے جاکر یہ ٹیکنالوجی لے بھی لیتے ہیں تو آپ پھر بھی اس کلب کا رکن نہیں بن سکتے ہیں۔ چین سے وہ عالمی سٹیٹس آپ کو نہیں ملے گا جو بھارت کو امریکہ سے ملا ہے۔ اس معاہدے سے ایک پینڈورا بکس کھل گیا ہے اب روس بھی آپ سے بات کرے گا فرانس بھی کرے گا کیونکہ ان کا یہ ایک معاشی مفاد ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا قانونی ہونے کا مسئلہ حل ہو پائے گا یا نہیں۔ پاکستان کے ماضی کو دیکھتے ہوئے یہ آسان نہیں ہوگا۔‘

امریکہ سے اس معاہدے کا امکان نہیں اور چین سے ملنے میں فائدہ نہیں لیکن ایسی مخالف کے باوجود موید یوسف کے مطابق پاکستان کو کوششیں ترک نہیں کرنی چاہیں۔ ’اگر تو یہ آپ کو بجلی کے لیے چاہیے تو پھر پاکستان کو جدوجہد کی ضرورت ہی نہیں لیکن اگر یہ آپ کو سفارتی مقاصد کے لیے چاہیے تو پھر ضرور کرنا چاہیے۔‘

بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے گزشتہ دنوں پاکستان سے بھی اس قسم کے معاہدے کی حمایت کی تھی۔ جسے اچھا شگون اور پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانا قرار دیا جاتا ہے۔

کئی لوگوں کے خیال ہے کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے سویلین استعمال کے اجازت دے دے ورنہ ماضی کی طرح پاکستان دوسرے ذرائع سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

ملائم سنگھ یادونئی بحث
ہند امریکہ جوہری ڈيل ہندو ہے یا مسلمان؟
بایاں محاذ اور حکومتہند امریکہ تعلقات
جوہری معاہدے پر بائیں بازو سے بڑھتے اختلافات
بلیک مارکیٹ
جوہری ڈیزائن کا الیکٹرانک ڈیٹا
جوہری نظام غیر یقینی حالات
پاکستانی جوہری اثاثوں پر امریکی تشویش
جوہری پاکستان
مشرف کا بیان اور جوہری ذخائر پر عالمی توجہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد