جوہری پھیلاؤ، آئی اے ای اے کی تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری توانائی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی یا آئے اے ای اے نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے جوہری سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر سے وابستہ گروہ نے جوہری ہتھیاروں کی معلومات کمپیوٹرز میں رکھی تھیں جو باقی دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ لیبیا کے جوہری امور کے بارے میں ادارے نے اپنی خفیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر سے وابستہ گروہ نے جوہری ہتھیاروں کی جو معلومات الیکٹرانک ڈیٹا یا برقی طور پر کمپیوٹرز میں رکھیں تھیں ان میں ہتھیاروں کے نمونے بھی شامل تھے۔ ادارے نے تشویش ظاہر کی کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق یہ معلومات باقی دنیا کے لئے بہت سنگین خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معلومات کو الیکٹرانک ڈیٹا کی شکل میں کمپیوٹرز پر رکھنے کی وجہ سے نیٹ ورک کے لیے یہ آسان ہو گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے متعلق تازہ ترین معلومات کو تقسیم کر سکے۔
تاہم رپورٹ نے لیبیا کو جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں بالکل پاک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سن 2004 کے بعد سے جوہری نگران انسپکٹروں نے وہاں کسی قسم کی پیش رفت نہیں دیکھی۔ جب بی بی سی اردو سروس نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سابق اعلیٰ سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے اس معاملے میں رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ ایک کمپیوٹر پر سب کچھ رکھا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے معلوم نہیں کہ اس رپورٹ میں کن ممالک کی طرف اشارہ ہے کیا گیا ہے لیکن پاکستان میں کوئی اتنا بے وقوف نہیں ہے کہ ہر چیز، جوہری ہتھیاروں کا مکمل ڈیزائن ایک کمپیوٹر پر ڈال کر رکھ دے کہ یہ لے لو۔ ایسی بات نہیں ہوتی۔‘ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیار بہت پیچیدہ چیز ہوتی ہے۔ ’اس میں کیمیکل، الیکٹرونک، مکینیکل اور دوسری ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ استعمال ہوتی ہے اور ہر شعبہ کی ڈیزائننگ علیحدہ علیحدہ جگہ پر ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ ایک جگہ پر مہیا ہو۔ یہ سب کچھ ایک جگہ پر نہیں رکھا جاتا۔‘ انہوں نے کہا کہ ویسے تو دنیا میں ہر ملک اپنے معلومات کمپیوٹرز پر ہی رکھتا ہے لیکن جوہری ہتھیار کا ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کوئی ایسی چیز نہیں کہ اسے ایک کمپیوٹر پر رکھا جائے۔ |
اسی بارے میں ’نظر بندی کے ساتھ زباں بندی‘21 July, 2008 | پاکستان ’ایٹمی سائنسدان فوجی ٹارگٹ ہے‘ 15 July, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر کے الزام کی تردید05 July, 2008 | پاکستان ’تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے‘04 July, 2008 | پاکستان فوج کو مکمل علم تھا: ڈاکٹر قدیر04 July, 2008 | پاکستان ڈاکٹرقدیر، حراست پراٹارنی طلب03 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||