ڈاکٹر قدیر کے الزام کی تردید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جوہری امور کے مجاز ادارے ’سٹریٹجک پلاننگ ڈویژن‘ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد قدوائی نے ڈاکٹر قدیر خان کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کو سینٹری فیوجز فوج کی نگرانی میں فراہم کیے گئے تھے۔ سنیچر کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سے جوہری ٹیکنالوجی اور آلات کی بیرون ملک منتقلی میں حکومت، فوج یا انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی، سمیت کوئی ادارہ ملوث نہیں۔ تاہم انہوں نے اپنا مؤقف دوہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے اپنے طور پر حکومت سے چھپ کر ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی۔
ایک سوال کے جواب میں خالد قدوائی نے کہا کہ ڈاکٹر خان کا معاملہ اب عدالت میں ہے اور ان کی رہائی وغیرہ کے بارے میں حکومت نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر پرویز مشرف جب آرمی چیف بنے اور ان کے علم میں آیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہیں تو انہوں نے معلومات اکٹھی کیں اور اس کی روشنی میں ان سے پوچھ گچھ ہوئی۔ ان کے بقول پہلے تو ڈاکٹر قدیر خان نے تسلیم نہیں کیا لیکن بعد میں کہا کہ اگر صدر انہیں معافی دے دیں تو وہ معلومات دینے کو تیار ہیں۔ قدوائی کے بقول جب ڈاکٹر خان آمادہ ہوئے تو انہیں مشروط معافی دی گئی۔ شرائط میں تھا کہ وہ کوئی ایسا بیان نہیں دیں گے جس سے ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو اور دوسری شرط یہ تھی کہ ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کے علاوہ اگر کسی ملک کا معاملہ سامنے آیا تو بھی معافی کے فیصلے پر نظر ثانی ہوگی۔
لیکن جیسے ہی ان کی سکیورٹی میں نرمی کی تو ان کے بقول انہوں نے انٹرویو دینے شروع کیے اور فوج پر جوہری پھیلاؤ کا ’جھوٹا‘ الزام لگا دیا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر خان نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس کی تردید اور وضاحت کرنی پڑی ہے۔ بعض دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق کی جانب سے اس طرح کے سنگین الزامات سے پاکستان کے جوہری پروگرام اور سلامتی کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ پاکستان حکومت تو کہتی رہی ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے اور اس بارے میں تفتیش کا باب بند ہوچکا لیکن بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ڈاکٹر خان کے اس نئے بیان نے ایک نیا پنڈوڑا باکس کھول دیا ہے۔ | اسی بارے میں فوج کو مکمل علم تھا: ڈاکٹر قدیر04 July, 2008 | پاکستان ’تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے‘04 July, 2008 | پاکستان کیا پاکستان سچ کا متحمل ہو سکتا ہے؟05 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||