’تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر اے کیو خان نے حکومت سے قومی خفیہ راز افشاں کرنے سے متعلق ان پر الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ انہوں نے کسی بھی وکیل سے اپنی پہلی ملاقات میں کیا ہے۔ ان سے یہ ملاقات بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے آج ان کی رہائش گاہ پر کی جو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر اے کیو خان کو مبینہ طور پر حبس بےجا میں رکھے جانے کے خلاف پٹیشن کی پیروی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے ملاقات کے بعد رہائش گاہ سے نکل کر صحافیوں کی جانب ہاتھ لہرا کر اشارہ کیا۔ ملاقات کے بارے میں بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر قدیر نے ایس ایم ظفر، جسٹس (ر) اجمل میاں، جسٹس سعید الزماں صدیقی، سابق فوجی سربراہان اسلم بیگ اور وحید کاکڑ پر مشتمل یہ کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ بقول ان کے معلوم ہوسکے کہ سرکاری راز صدر پرویز مشرف نے افشاں کیے یا انہوں نے۔ جاوید اقبال جعفری کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ صدر مشرف جیسے جو لوگ قوم کے رہنما بنے پھرتے ہیں وہ ان کے ساتھ راجہ بازار چلے جائیں اور دیکھ لیں کہ عوام کپڑے کس کے پھاڑتی ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان اسلام آباد کے ای سیون سیکٹر میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے بنگلے کو جانے والے سڑک آج درجن بھر پولیس اہلکاروں نے بند کر رکھی تھی۔ اس سے قبل آج صبح اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر اے کیو خان کو حبس بےجا میں رکھنے کے خلاف مقدمے میں جاوید اقبال جعفری نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں ملنے نہیں دیا جائے گا جس پر چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ یہیں موجود ہیں اور اُن افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے سماعت کے دوران ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پندرہ جولائی تک جواب طلب کیا ہے۔ جاوید جعفری نے بتایا کہ ڈاکٹر اے کیو خان نے انہیں کہا ہے کہ وہ اب ان کے بھی وکیل ہیں۔ اس سے قبل وہ ان کی اہلیہ کی طرف سے یہ مقدمہ لڑ رہے تھے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر قدیر سے ملاقات پر اب بھی پابندیاں بدستور قائم ہیں۔ ’وہ چاہتے ہیں کہ اب ان کے دوست احباب اور رشتہ داروں سے ملاقاتوں کے لیےِ انہیں مزید حکومت کو درخواستیں نہ دینا پڑیں۔‘ ڈاکٹر قدیر نے انہیں بتایا کہ وہ پٹھان ہیں اور جو ان پر ظلم کرتا ہے وہ انہیں کبھی معاف نہیں کرتے۔ ’ان کا مورال بہت بلند ہے‘۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر قدیر کی صحت اچھی نہیں اور ’ان کے پاؤں اور مثانے کے آپریشن کی جگہ پر سوجن ہے‘۔ جاوید اقبال نے بتایا کہ ڈاکٹر قدیر کے مکان میں خفیہ اداروں کی جانب سے نصب کردہ گفتگو سننے والے آلات میں سے اکثر اب انہوں نے اتار دیے ہیں اور انہین اب ٹی وی کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ | اسی بارے میں ’شاید بتا دوں کہ اعتراف کیوں کیا‘28 May, 2008 | پاکستان حبس بےجا کیس، وفاق کو نوٹس04 July, 2008 | پاکستان ڈاکٹرقدیر، حراست پراٹارنی طلب03 July, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر، بیانات اور پابندیاں08 April, 2008 | پاکستان ’جوہری رازوں کے مبینہ دلال‘ کی رہائی23 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||