BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر قدیر، بیانات اور پابندیاں

ڈاکٹر قدیر
حکومت نے رہائی کے سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا: ڈاکٹر قدیر
پاکستان کے اسیر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آزادانہ نقل و حمل اور میل جول پر گزشتہ چار برس سے عائد پابندیوں میں کوئی نرمی نہیں کی گئی ہے بلکہ اس طرح کے شواہد ہیں کہ ان کی طرف سے ایک ہفتے کے دوران صحافیوں کو دیے گئے یکے بعد دیگرے دو انٹرویوز کے بعد سرکاری مشینری نے ڈاکٹر خان اور ان سے منسلک لوگوں کی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

شمالی کوریا، لیبیا اور ایران کو ایٹمی راز غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا اعتراف کرنے والے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے پیر کو فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو کے بعد سرکار میں شامل بعض وزراء کی جانب سے ڈاکٹر قدیر پر عائد پابندیوں میں نرمی کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔

تاہم بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے بلکہ اس طرح کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے کہ اسیر سائنسدان کا اخبار نویسوں سے آئندہ رابطہ نہ ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر خان کے عزیزوں پر بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ ان کے اخباری بیانات اسیر سائنسدان کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہو سکتے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے جب کراچی میں مقیم ڈاکٹر قدیر کی بہن بیگم رضیہ حسین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ بیگم رضیہ حسین اس سے پہلے اخبار نویسوں سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتی تھیں۔

اس تازہ انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا تھا کہ وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حکومت ان پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے سلسلے میں کوئی اقدام کرے لیکن وہ خود اس بارے میں حکومت سے درخواست نہیں کریں گے۔

پارلیمان کا اختیار
 ملک میں جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ بحال ہو چکی ہے اور اس کے پاس ڈاکٹر قدیر کو رہا کرنے سمیت تمام فیصلے کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن اس اختیار کو استعمال کب کیا جاتا ہے، اس بارے میں فیصلہ نہیں ہوا
فرحت اللہ بابر

ڈاکٹر قدیر کے اس بیان کے بعد بعض اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئیں کہ حکومت نے ڈاکٹر قدیر پر عائد پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے انہیں اپنے دوستوں کو اپنے گھر بلانے اور ان کے ساتھ چند روز گزارنے کی سہولت فراہم کی ہے۔

تاہم حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پارٹی ترجمان نے کہا کہ حکومت نے جب بھی کوئی ایسا قدم اٹھایا تو اس کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا لیکن فی الحال پاکستان کے ایٹمی سائنسدان پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی کوئی تجویز کسی بھی سطح پر زیر غور نہیں ہے۔

اسی حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے منسوب ایک بیان کی وضاحت کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت ڈاکٹر قدیر کی رہائی کا فیصلہ کر سکتی ہے اور غالباً وفاقی وزیر کی خواہش بھی یہی ہے لیکن ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اصل نکتہ یہ ہے کہ ملک میں جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ بحال ہو چکی ہے اور اس کے پاس ڈاکٹر قدیر کو رہا کرنے سمیت تمام فیصلے کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن اس اختیار کو استعمال کب کیا جاتا ہے، اس بارے میں فیصلہ نہیں ہوا۔

جبکہ ڈاکٹر قدیر کی رہائی کو ایک انتخابی نعرے کے طور پر استعال کرنے والی دوسری حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے چیئرمین راجہ ظفرالحق کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ڈاکٹر قدیر کی رہائی کا معاملہ حکومتی سطح پر اٹھانے پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر عدلیہ کی بحالی جیسا مسئلہ درپیش ہے اور اس کے حل ہونے کے بعد ان کی جماعت کے ایجنڈے پر ڈاکٹر قدیر کا معاملہ سرفہرست ہے۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ حکومت بننے کے بعد ان کی جماعت کے اندر ابھی اس موضوع پر باقاعدہ مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

بیگم رضیہ حسین پہلے اخبار نویسوں سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرتی تھیں

اپنے انٹرویو میں ڈاکٹر قدیر نے کہا: ’میں نے پاکستان کو دو مرتبہ بچایا۔ ایک مرتبہ اسے ایٹمی قوت بنا کر اور دوسری دفعہ جب (ایٹمی رازوں کی فروختگی) کا سارا الزام اپنے سر لے لیا۔‘

سنہ دو ہزار چار میں ڈاکٹر قدیر نے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ ایٹمی راز منتقل کرنا ان کا ذاتی فعل تھا اور اس میں حکومت یا اس کا کوئی ادارہ ملوث نہیں تھا۔

اپنے تازہ انٹرویو میں ڈاکٹر قدیر شکوہ کرنے والے لہجے میں کہا ہے کہ نئی حکومت نے ان سے رہائی کے سلسلے میں کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد