BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 March, 2008, 17:07 GMT 22:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر کے قتل کی سازش کا الزام

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
سن دو ہزار چھ میں ڈاکٹر خان کے مثانے میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی
پاکستانی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل اکرام چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے موکل کو نئی حکومت بننے سے پہلے ہی قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر قدیر کو کچھ ہوا تو وہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سمیت تمام حکومتی شخصیات کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروائیں گے جو ان کی سیکیورٹی پر معمور تھیں۔

اکرام چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کی حالت گزشتہ چار دن سے خراب تھی اور انہیں جان بوجھ کر طبی امداد فراہم نہیں کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پچھلے دروازے سے ہسپتال لے کر گئی انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت یہ سارا کچھ امریکہ کے دباؤ کے تحت کر رہی ہے کیونکہ حکومت کو معلوم ہوگیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر کی نظر بندی کی قلعی کھلنے والی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں ڈاکٹر قدیر کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے حوالے کرنے کی باتیں کر رہی ہیں وہ اسی طرح کے ردعمل کے لیے تیار رہیں جو اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں عوام نے حکمران جماعت کے بارے میں ظاہر کیا ہے۔

وزیرِ داخلہ کا ردِ عمل
 مذکورہ وکیل کا بیان اس قابل نہیں ہے کہ اس کے جواب میں وزارت داخلہ کوئی بیان جاری کرے
حامد نواز

اکرام چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق حکومت نے ڈاکٹر قدیر سے منسوب کرکے جو بھی بیانات جاری کیے ہیں وہ تمام من گھڑت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اور وہ آج بھی محسن پاکستان ہیں۔

اس ضمن میں جب بی بی سی نے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت داخلہ سے رابطہ کریں۔

نگراں وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مذکورہ وکیل کا بیان اس قابل نہیں ہے کہ اس کے جواب میں وزارت داخلہ کوئی بیان جاری کرے۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر خان نے کمزوری کی شکایت کی تھی جس پر انہیں فوری طبی امداد دی گئی۔ ان کے معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر خان کی صحت کے بارے میں عوام کو مطلع کیا جاتا رہے گا۔

شاید یہ انفیکشن ہے
 ڈاکٹر خان کو فشارِ خون کی کمی یعنی ’لو بلڈ پریشر‘ کے علاوہ بخار کی شکایت تھی اور شاید یہ انہیں انفیکشن ہونے کی وجہ سے ہوا ہو
اطہر عباس

واضح رہے کہ اپنے گھر میں نظر بند ڈاکٹر عبدالقدیر کو بدھ کو صحت کی خرابی کے باعث کے آر ایل ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا تھا کہ ڈاکٹر خان کو فشارِ خون کی کمی یعنی ’لو بلڈ پریشر‘ کے علاوہ بخار کی شکایت تھی اور شاید یہ انہیں انفیکشن ہونے کی وجہ سے ہوا ہو۔
بے نظیر بھٹو ڈاکٹر قدیر پر بیان
’بےنظیر بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں‘
ڈاکٹر قدیرسی آئی اے کا کردار
ڈاکٹرقدیر کو سی آئی اے نے گرفتاری سے بچایا
ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک کے بارے میں معلومات کیسے ملیںایٹمی سکینڈل کیا ہوا
ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک کا پتہ کیسے چلا
مشرف نے کیا کہا؟
جوہری تنازعہ پر جنرل مشرف کی باتیں سنیں
ڈاکٹر خان کا مستقبل اب مشرف کے ہاتھ میںمشرف کے ہاتھ میں
ڈاکٹر خان کا مستقبل اب مشرف کے ہاتھ میں
ڈاکٹر قدیر خانقربانی کے بکرے
حکومت سارا الزام سائنسدانوں پر ڈال رہی ہے
قدیرخان کون ہیں؟
’پاکستانی ایٹم بم کے خالق‘ کے حالات زندگی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد