ڈاکٹر قدیر ہسپتال میں داخل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خرابی صحت کی وجہ سے بدھ کی صبح طبی معائنہ کرانے کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ڈاکٹر خان فشارِ خون کی کمی یعنی ’لو بلڈ پریشر‘ کے علاوہ بخار ہوا جو کہ شاید انہیں انفیکشن ہونے کی وجہ سے ہوا ہو۔ ڈاکٹر خان کے مثانے میں کینسر کی تشخیص کے بعد ستمبر سن دو ہزار چھ کو کراچی میں آپریشن کیا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے ان کے آپریشن کو کامیاب قرار دیا تھا۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ منگل کو ڈاکٹر خان نے کمزوری کی شکایت کی جس پر انہیں فوری طبی امداد دی گئی۔ ان کے معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ ہسپتال میں منتقلی کے بعد ڈاکٹروں کا وہ ہی پینل ان کی نگہداشت کر رہا ہے جو پہلے سے ان کا علاج معالجہ کرتے رہے ہیں۔ ان ڈاکٹروں نے امید ظاہر کی ہے کہ ڈاکٹر قدیر خان کو چند روز میں واپس اپنے گھر منتقل کردیا جائے گا۔ فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر خان کی صحت کے بارے میں عوام کو مطلع کیا جاتا رہے گا۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جوہری پھیلاؤ کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کے اقرار کے بعد سن دو ہزار چار میں وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے برطرف کر کے کئی ساتھیوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر خان نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر اعتراف کیا تھا۔ بعد میں ڈاکٹر خان نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کر کے معافی کی درخواست دی جو صدر نے قبول کر لی تھی۔ اس معافی کے بعد ان کے ساتھیوں کو رہا کردیا گیا تھا لیکن ڈاکٹر خان اس وقت سے فوج کے سخت پہرے میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی جوہری ادارے کے اہلکاروں یا امریکی تفتیش کاروں کو ڈاکٹر قدیر سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||