BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 July, 2008, 08:14 GMT 13:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا پاکستان سچ کا متحمل ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
ڈاکٹر قدیر کےصبر کا پیمانہ لبریز ہونے کی ایک وجہ انہوں نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے وعدوں کا پاس نہ ہونا اور ان کے خلاف ’جھوٹا پروپگینڈا‘ شروع کروانا بتایا ہے
پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے تازہ بیان سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق تمام صورتحال واضع کر دی ہے۔ صدارتی اور فوجی تردید اپنی جگہ لیکن وہ اپنا موقف قدرے واضع کرتے چلے جا رہے ہیں کہ اس تمام عمل میں وہ اکیلے ملوث نہیں تھے۔

اپنی پوزیشن واضع کرنے کے لیے وہ کافی بےچین دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کا پاکستان کے جوہری طاقت بننے کی سالگرہ کے دن یعنی اس سال اٹھائیس مئی سے بیرونی دنیا سے جو کم از کم ٹیلیفون کے ذریعے ہی جو رابطہ بحال ہوا ہے وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے بظاہر اپنی اس حالت کے ذمہ دار شخص صدر پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ ان کا تازہ بیان بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ ایک کمیشن کے ذریعے عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ریاستی راز انہوں نے نہیں صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ میں افشاں کیئے ہیں۔

ڈاکٹر قدیر کا جواب
 حکومت کی جانب سے ان پر سرکاری راز افشاں کرنے کے الزام کے جواب میں ڈاکٹر قدیر کا مؤقف ہے کہ صدر پرویز مشرف کی کتاب میں ان سے زیادہ حساس اور خفیہ معلومات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ایسے میں بظاہر ڈاکٹر قدیر بڑے سوچے سمجھے طریقے سے حکومتی الزامات کا جواب دے رہے ہیں
تاہم موجودہ حکومت کے لیے اس مطالبے کو تسلیم کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ایک تو وہ پہلے ہی کئی دیگر سیاسی اور آئینی مسائل میں اتنی گھری ہوئی ہے کہ ایک اور ’فرنٹ‘ کھولنا اس کے لیے مناسب نہیں ہوگا چاہے اس سے صدر پرویز مشرف کو کمزور کرنے میں مدد ہی کیوں نہ ملے۔

ڈاکٹر قدیر کی اہلیہ ہینڈرینہ خان گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ میں حبس بےجا میں رکھے جانے کے مقدمے میں اپنا مؤقف بھی عدالت کو چار صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی خط میں پیش کر چکی ہیں۔ اس خط میں جسے عدالت نے بطور پٹیشن شامل سماعت کر لیا تھا ہنڈرینہ خان نے ان کے شوہر کو حراست میں رکھنے کے علاوہ ان پر عائد کیئے جانے والے الزامات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے قومی مفاد میں ساڑھے چار برس تک خاموش رہنا برداشت کیا ہے اب اور نہیں کر سکتے۔ اس صبر کے پیمانے کے لبریز ہونے کی ایک بڑی وجہ انہوں نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے نہ صرف ان کےساتھ کیئے گئے وعدوں کا پاس نہ کرنا بلکہ الٹا ان کے خلاف فوج کے تعلقات عامہ، وزارت خارجہ اور اطلاعات کے ذریعے ’جھوٹا پروپیگینڈا‘ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

ان کے شوہر پر عائد کیئے جانے والے الزامات میں جن کی وہ تردید چاہتی ہیں یہ الزام سرفہرست ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں اکیلے ملوث تھے۔ باقی الزامات میں یہ کہ انہوں نے یہ سب کچھ پیسے کی خاطر کیا (جس کا حکومت کوئی ثبوت ابھی تک فراہم نہیں کرسکی ہے)، ان کی ملک کے اندر اور باہر لاتعداد بینک اکاؤنٹس، جائیدادیں اور کاروبار ہیں اور یہ کہ وہ ہالینڈ سے واپسی پر تکنیکی نقشے چوری کرکے لائے تھے (جبکہ ڈچ پارلیمانی کمیشن نے انہیں ایسے کسی الزام سے بری کر دیا تھا)۔

آزاد کمیشن
 اپنے مؤقف سے جہاں وہ اپنے آپ کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں وہیں صدر پرویز مشرف اور فوج کو بھی ساتھ گھسیٹ سکتے ہیں۔ اس قسم کے بیانات نہ پہلے ہیں اور نہ آخری ہوں گے۔ اس مسئلے کا حل شاید غیرجانبدار کمیشن ہے۔ لیکن کیا یہ ملک اور اس کے ادارے اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے سچ کو برداشت کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟
حکومت کی جانب سے ان پر سرکاری راز افشاں کرنے کے الزام کے جواب میں ڈاکٹر قدیر کا مؤقف ہے کہ صدر پرویز مشرف کی کتاب میں ان سے زیادہ حساس اور خفیہ معلومات کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ایسے میں بظاہر ڈاکٹر قدیر بڑے سوچے سمجھے طریقے سے حکومتی الزامات کا جواب دے رہے ہیں۔

ان کی اہلیہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب وہ اگلے پندرہ دن تک کوئی انٹرویو نہیں دیں گے اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گی۔ تاہم انہوں نے اپنی پوزیشن واضع کر کے صدر اور فوج کے لیے جو مشکل پیدا کی ہے اس کا اثر زائل کرنے کی کوششیں یقیناً شروع ہوچکی ہوں گی۔

اس طرح کے مؤقف سے جہاں وہ اپنے آپ کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں وہیں صدر پرویز مشرف اور فوج کو بھی ساتھ گھسیٹ سکتے ہیں۔ اس قسم کے بیانات نہ پہلے ہیں اور نہ آخری ہوں گے۔ اس مسئلے کا حل شاید غیرجانبدار کمیشن ہے۔ لیکن کیا یہ ملک اور اس کے ادارے اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے سچ کو برداشت کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور صدر پرویز مشرف کے درمیان جو شخصیات کی جنگ جاری ہے وہی صورت اب ڈاکٹر قدیر اور صدر کے درمیان بیانات کی جنگ نے بھی اختیار کر لی ہے۔ شک تو پہلے سے تھا لیکن اب ڈاکٹر قدیر کے تازہ بیان سے کم از کم یہ واضع ہوگیا ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں، جتنا زیادہ گندے کپڑے عوامی مقامات میں دُھلیں گے اس کا نقصان فریقین کو کم اور پاکستان کو زیادہ ہونے کا احتمال ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد