’ڈاکٹر قدیر کا مقام بحال ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے کہا ہے کہ انتخابات کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبد القدیر خان رہا ہو جائیں گے۔ مشاہد حسین نے، جنہوں نےحال ہی گھر میں نظر بند ڈاکٹر عبد القدیر خان سے ملاقات کی تھی، کہا کہ انہیں امید ہے کہ انتخابات کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان کے حالات بدلیں گے اور وہ نہ صرف رہا ہوں گے بلکہ انہیں ان کا مقام بھی ملے گا۔ مشاہد حسین نے بی بی سی اردو کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی مشکلات پر کسی کا کنٹرول نہیں تھا۔’ بعض اوقات وسیع تر ملکی مفاد کے لیے کسی ایک فرد کو قربانی دینی پڑتی ہے اورعبد القدیر خان نے یہ قربانی تھی‘۔
لوگوں نےمشاہد حسین سے کئی بار یہ سوال بھی پوچھا کہ وہ ایک پڑھے لکھے شخص ہوتے ہوئے بھی ایسے لوگوں کو اپنا لیڈر کیوں مانتے ہیں جو’صحیح طرح بات بھی نہیں کر سکتے۔‘ مشاہد حسین نے کہا جس طرح چودھری شجاعت حسین پاکستان مسلم لیگ قاف کے صدر ہیں اسی طرح وہ اس جماعت کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف قائد اعظم کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نواز شریف کو نہیں چھوڑا بلکہ نواز شریف انہیں’قید میں چھوڑ کر‘ جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کرکے اپنے خاندان کے ہمراہ ملک سے چلے گئے۔’ٹیم کا کپتان لڑائی کے دواران ٹیم کو چھوڑ کر چلا نہیں جاتا۔ہمارے تو شہزادے دوست نہیں۔ ہم نے یہیں رہ کر حالات کا سامنا کیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان واشنگٹن اور لندن میں بننے والی پالیسیوں پر ٹھپہ لگاتا ہے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ ان کی جماعت کی حکومت نےعراق پر امریکی حملے کی مخالفت کی، وہاں اپنی فوج بھیجنے سے انکار کیا، حماس کے وزیر اعظم کو پاکستان بلایا اور امریکہ کی مرضی کے خلاف ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن پر بات چیت کی۔ مشاہد حسین نے کہا کہ بلوچستان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں تھا جس سے وہاں احساس محرومی پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بلوچستان کے مسائل سے متعلق ایک رپورٹ دی جسے تمام سیاسی جماعتوں نے سراہا لیکن بدقسمتی سے اس رپورٹ پر عمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں کچھ لوگ صوبائی خود مختاری کے حق میں نہیں ہیں اور ایسے ہی لوگ سمجھتے ہیں کہ مضبوط مرکز ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔
مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مضبوط صوبے مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں اور مضبوط مرکز کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ’عدلیہ پر حملے‘ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں دہرے معیار نہیں ہونے چاہیں۔جن ججوں نے اب پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا انہوں نے پرویز مشرف کے پہلے پی سی او کے تحت حلف لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کےساتھ جو کچھ ہوا وہ اچھا نہیں تھا۔ مشاہد حسین نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ کے ساتھ رویے سے جو مثبت چیز سامنے آئی ہے وہ پاکستان کی مڈل کلاس اور سول سوسائٹی کا رول ہے۔ انہوں نے کہا وکلاء کی تحریک سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان کے لوگوں میں بڑی ہمت ہے اور اسی جہدوجہد کا نتیجہ ہے کہ جنرل (ریٹائرڈ) مشرف مسٹر مشرف ہو چکے ہیں اور فوج ’سیاسی گند‘ سے جان چھڑانا چاہ رہی ہے۔ | اسی بارے میں جوہری ٹیکنالوجی: منتقلی کا اعتراف02 February, 2004 | پاکستان سائنسدان یا قربانی کے بکرے؟21 January, 2004 | پاکستان ’سینٹریفیوج ایران کوفراہم کیے‘ 10 March, 2005 | پاکستان ڈاکٹر قدیر کو معاف کر دیں: کابینہ05 February, 2004 | پاکستان ’مشرف کو علم تھا‘03 February, 2004 | پاکستان جوہری تنازعہ پر لوگوں کا ردِعمل05 February, 2004 | پاکستان ڈاکٹر خان: مستقبل مشرف کے ہاتھ میں02 February, 2004 | پاکستان قدیرخان کی زندگی پر ایک نظر23 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||