’ڈاکٹر قدیر اور ایٹمی سمگلنگ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں بین الاقوامی امور کے ایک تحقیقی ادارے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز نے دنیا میں جوہری ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے غیر قانونی پھیلاؤ اور سمگلنگ کے بارے میں ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سمگلنگ کے نیٹ ورک سے حکومت پاکستان کے تعلق کا معاملہ تاحال بحث طلب ہے اور کئی سوالات کے جوابات حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سٹریجک سٹڈیز یعنی’آئی آئی ایس ایس‘ نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس میں ایک تو اہم سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے جس طرح کی تفتیش کی ہے وہ تسلی بخش نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں نہ تو ملکی اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی تحقیق کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ جوہری آلات، جو ڈاکٹر قدیر کے پاس تھے اور جنہیں وہ لیبیا بھیجنا چاہتے تھے مگر بھیج نہ پائے، وہ کہاں ہیں؟۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جوہری بم بنانے کا نقشہ ڈاکٹر قدیر نے جس سی ڈی پر ریکارڈ کیا تھا اس کی کاپیاں کس کس تک پہنچی ہیں۔ اور عالمی اداروں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ کہیں یہ کاپیاں دہشت گردوں تک نہ پہنچ گئی ہوں۔ اس رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے جو زیادہ تر غیر قانونی کام کیے تھے وہ انہوں نے خود ہی کیے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح طور پر پایا گیا ہے کہ حکومت اور ڈاکٹر قدیر کے نیٹ ورک کے رابطوں پر اور جوہری پھیلاؤ کی سرگرمیوں کے موضوع پر ابھی بات مکمل نہیں ہوئي ہے اور حکومت نے اب تک اس بارے میں جو وضاحت دی ہے وہ مکمل نہیں ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبد القدیر خان کی جتنی بھی سرگرمیاں تھیں وہ ملکی سلامتی سے متعلق تھیں اس لیے کیونکر یہ ممکن ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کو ان کا علم نہ ہو؟ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے جو کچھ کہا اس کے لیے انہوں نے باقاعدہ کسی اعلٰی افسر سے اجازت حاصل نہ کی ہو۔ اس کے علاوہ آئی آئی ایس ایس نے یہ بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے نیٹ ورک میں جو دوسرے جوہری سائنس داں تھے انہیں کسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں کسی کارروائی کے بعد رہا کر دیا گیا اور جن جوہری سائنس دانوں نے اسامہ بن لادن سے ملاقاتیں کی تھیں انہیں ہلکی پھلکی سزائیں دی گئیں۔ رپورٹ میں اس قسم کی باتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر خان جو کہ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کے سربراہ ہیں انہوں نے تحقیق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد جوہری ٹیکنالوجی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ اس رپورٹ میں اگر چہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گروہ کی سرگرمیوں کا گہرا مطالعہ اور تجزیہ کیا گیا ہے مگر ڈاکٹر چپ بن کے مطابق آئی آئی ایس ایس کی بدھ کو جاری ہونے والی تحقیق کا مقصد کسی ایک ملک کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ڈاکٹرقدیر کی اہلیہ کا نام خارج23 March, 2004 | پاکستان حراست پر جواب طلب18 March, 2004 | پاکستان ’معافی معاہدہ کا نتیجہ نہیں‘ 01 March, 2004 | پاکستان قدیرخان محافظِ پاکستان ہیں: وکلاء27 February, 2004 | پاکستان ’احتجاج اب بھی ہوگا‘ قاضی02 February, 2004 | پاکستان جوہری ٹیکنالوجی: منتقلی کا اعتراف02 February, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||