BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 July, 2008, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج کو مکمل علم تھا: ڈاکٹر قدیر
ڈاکٹر قدیر خان
ڈاکٹر قدیر خان کافی دنوں سے اپنےگھر میں نظر بند تھے
پاکستان کے جوہری بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان سے شمالی کوریا کو جوہری ساز وسامان کی منتقلی کا فوج کو پوری طرح سے علم تھا۔

ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سن دوہزار میں فوج کی نگرانی میں ہی سنٹری فیوج شمالی کوریا بھیجے گئے تھے۔ اس وقت جنرل مشرف فوج کے سربراہ تھے۔

ڈاکٹر خان کے مطابق یورینیم افزودہ کرنے کے آلات شمالی کوریا کے ایک طیارے میں بھیجے گئے تھے اور جہاں میں یہ سامان پاکستانی سکیورٹی اہکاروں کی نگرانی لادا گیا تھا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کے مطابق ڈاکٹر خان کی جانب سے یہ اب تک کے سنگین ترین الزامات ہیں۔ اگرچہ انہوں نے سن دو ہزار چار میں عوام کے سامنے یہ اعتراف کیا تھا کہ ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی اور ساز وسامان کی فراہمی کے لیے صرف وہ خود ذمہ دار تھے۔
لیکن کچھ عرصےسے انہوں نے اپنے اس بیان سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

 وہ شمالی کوریا کا طیارہ تھا۔ اور فوج کو اس بات کا پورا علم تھا کہ طیارے میں کیا سامان جارہا ہے
ڈاکٹر قدیر خان

حکومت پاکستان کا یہ دیرینہ موقف رہا ہے کہ اسے یا ملک کی فوج کو ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ کا بالکل علم نہیں تھا۔

ڈاکٹر خان کےمطابق ’وہ شمالی کوریا کا طیارہ تھا۔ اور فوج کو اس بات کا پورا علم تھا کہ طیارے میں کیا سامان جارہا ہے۔‘

ڈاکٹر خان سن دو ہزار چار سے اپنے ہی گھر میں نظر بند تھے لیکن نئی حکومت نے ان پر عائد پابندیوں میں خاصی نرمی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو سنٹیرفیوجز کے ایکسپورٹ کا ضرور علم رہا ہوگا کیونکہ تمام دفاعی ساز وسامان اور خصوصی پروازوں کی نگرانی فوج ہی کرتی تھی۔

نامہ نگاروں کےمطابق ڈاکٹر خان نے پہلی مرتبہ اتنا کھل کر فوج پر الزامات لگائے ہیں لیکن انہوں نے صدر کے بارے میں براہ راست کچھ نہیں کہا۔

بعد میں بی بی سی اردو سروس کے ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اے کیو خان کا کہنا تھا کہ ’صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں شمالی کوریا کو سن دو ہزار میں جن سینٹرفیوجز کی ترسیل کی بات کی ہے تو اس کا انہیں کو پتہ ہوگا انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر خان کے مطابق مارچ دو ہزار میں صدر مشرف نے انہیں کہوٹہ لیبارٹری سے بطور چیرمین الگ کر دیا تھا لہذا ان کا اس فراہمی سے کوئی تعلق نہیں۔ ’صدر مشرف ہی اس وقت صدر بھی تھے اور فوجی سربراہ بھی انہیں اس بارے میں زیادہ بہتر معلوم ہوگا۔‘

صدارتی ترجمان راشد قریشی نے پہلے ہی اس دعوی کی سختی سے تردید کی ہے۔

ڈاکٹر خان نے بعض خبررساں اداروں کے صحافیوں سے شکایت کی کہ انہوں نے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر مرچ مسالحے کے ساتھ چلایا جس سے، بقول ان کے، ملک اور خود ان کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر قدیر کی جانب سے صدر اور فوج کے خلاف مبینہ بیان ایک جاپانی خبررساں ادارے کیوڈو نے بھی چلایا ہے۔ تاہم اب معلوم نہیں کہ ڈاکٹر قدیر کے بیان کو غلط طور پر چلایا گیا ہے یا ڈاکٹر قدیر خود یہ بات کہہ کر اس سے دور ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
ڈاکٹر قدیر کی صحت کیسی؟
25 November, 2006 | پاکستان
’ڈاکٹر خان کی صحت بہتر ہے‘
28 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد