’پابندی میں نرمی، وجہ معلوم نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ ڈاکٹر قدیر پر عائد پابندیوں میں کی جانے والی حالیہ نرمی مستقل ہے یا عارضی۔ جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کئی ممالک کو غیر قانونی طور پر فراہم کرنے کے الزام میں گزشتہ چار برسوں سے اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ڈاکٹر عبدالقدیر خان بدھ کو اچانک اکیڈیمی آف سائنسز اسلام آباد پہنچ گئے تھے اور انہوں نے وہاں دو گھنٹے تک قیام کیا تھا۔ البتہ ڈاکٹر قدیر کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس نرمی کی وجہ حکومت کی تبدیلی ہے اور آیا انہیں صرف ایک مرتبہ باہر جانے کی اجازت دی یا یہ مستقل سہولت فراہم کی گئی ہے۔ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ سے جب اس نرمی کے بارے میں حکومت کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کا موقف تھا کہ نہ تو انہوں نے کوئی پابندی لگائی ہے اور نہ اٹھائی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان کے مطابق یہ معاملہ ان کے دائر اختیار میں نہیں آتا لہذٰا اس کے لیے وزارت خارجہ یا داخلہ سے رابطہ موزوں رہے گا۔ ڈاکٹر قدیر کو اکیڈیمی آف سائنسز میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں لایا گیا تھا۔ تاہم ڈاکٹر قدیر کی اہلیہ ہینی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے شوہر اکیڈمی کے سیکرٹری جنرل جنرل افتخار ملک کی وفات پر تعزیت کے لیے اکیڈیمی گئے تھے۔ جنرل افتخار اکیڈیمی کے سیکرٹری جنرل تھے اور گزشتہ ہفتے اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ ڈاکٹر قدیر خود بھی اکیڈمی کے چھ برس تک صدر رہ چکے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈاکٹر قدیر ایک جیپ میں دو چار سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ وہاں آئے۔ ڈاکٹر قدیر کے اہل خانہ نے بتایا کہ انہوں نے اس دورے کی خبر کسی کو نہیں دی اور اجازت ملنے پر چپکے سے چلے گئے۔ ڈاکٹر قدیر کو اب ان کی بیٹی سمیت سات آٹھ دوستوں سے ملنے کی اجازت ہے جن سے ذرائع کے مطابق وہ باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ سنہ دو ہزار چار میں ڈاکٹر قدیر نے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ ایٹمی راز منتقل کرنا ان کا ذاتی فعل تھا اور اس میں حکومت یا اس کا کوئی ادارہ ملوث نہیں تھا۔ اس کے بعد سے اسیر ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آزادانہ نقل و حمل اور میل جول پر گزشتہ چار برس سے عائد پابندیوں میں کوئی خاص نرمی نہیں کی گئی بلکہ گزشتہ دنوں صحافیوں کو دیے گئے یکے بعد دیگرے دو انٹرویوز کے بعد سرکاری مشینری نے ڈاکٹر خان اور ان سے منسلک لوگوں کی نگرانی مزید سخت کر دی تھی۔ | اسی بارے میں ’ڈاکٹر قدیر کا مقام بحال ہوگا‘03 February, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر ہسپتال میں داخل05 March, 2008 | پاکستان ڈاکٹر کے قتل کی سازش کا الزام06 March, 2008 | پاکستان ڈاکٹرقدیرہسپتال سےگھرمنتقل09 March, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر، بیانات اور پابندیاں08 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||