ایٹمی ہتھیاروں کے عام ہونے کا خوف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی امور کے لیے اقوام متحدہ کی تنظیم انٹرنیشل اٹامک انرجی ایجنسی، آئی اے ای اے کے ایک سابق انسپکٹر یہ انکشاف کرنے والے ہیں کہ بین الاقوامی سمگلروں کے ایک گروہ نے جدید ایٹمی ہتھیار سازی کے راز اور نقشے حاصل کر لیے ہیں۔ انسپکٹر ڈیوڈ البرائٹ نے سنہ 2006 میں ایسے ہی ایک گروہ کے خلاف تحقیقات کی تھیں جس کے مبینہ سربراہ پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر خان تھے۔ اسی ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ کو قبل از وقت دیکھنے والے واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں عندیہ دیا گیا ہے کہ شاید ان ایٹمی رازوں کو کسی غیر ذمہ دار حکومت کو فروخت کر دیا گیا تھا۔ یہ راز ایسی تفصیلات پر مشتمل ہیں جن کی مدد سے جدید ایٹمی ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں۔ غیر ترقی یافتہ ایٹمی ہتھیاروں کے برخلاف ان رازوں کی مدد سے بنائے جانے والے ہتھیاروں کو ایسے بلاسٹک میزائلوں کے ذریعے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جو ایران اور دوسرے درجن بھر ترقی پذیر ملک استعمال کر رہے ہیں۔
دو ہزار چار میں ڈاکٹر قدیر نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے اپنا نیٹ ورک تباہ کیے جانے سے قبل ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی راز فراہم کیے تھے۔ تاہم گزشتہ ماہ بی بی سی کو دیے جانے والے انٹرویو میں ڈاکٹر قدیر نے کہا تھا کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹ ہیں اور انہیں نے یہ کہہ کر اس اعتراف پر آمادہ کیا گیا تھا کہ اس سے ’قومی مفاد‘ وابستہ ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مسٹر البرائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ان رازوں کو سویٹزرلینڈ کے ایک تاجر کے کمپیٹر پر دیکھا۔ بعد میں ان کمپیوٹروں پر موجود مواد کو سوئس حکومت نے آئی اے ای اے کی نگرانی میں ضائع کیا۔ لیکن اقوام متحدہ کے اہلکار اس امکان کو رد نہیں کرتے کہ مسٹر البرائٹ کی رسائی سے قبل ان رازوں میں کسی اور کو بھی شریک کیا جا چکا ہو گا۔ پوسٹ نے ان اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’جدید تر ایٹمی ہتھیاروں کے یہ راز شاید پہلے ہی دنیا کی کئی حکومتوں کو فروخت کیے جا چکے ہوں گے‘۔ یہ راز سوئس تاجر فریڈرک ٹائنر اور ان کے بیٹوں مارکو اور اُرس کے کمپیوٹروں پر محفوظ تھے۔ ان لوگوں پر اب سویٹزرلینڈ میں سمگلنگ میں ملوث ہونے کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ مذکورہ کمپیوٹر فائلوں کی تباہی کے بعدگزشتہ مئی میں سوئس صدر پاسکل کاؤچ پن نے کہا تھا کہ یہ کارروائی اس لیے کی گئی تھی کہ یہ کسی دہشت گرد تنظیم یا کسی غیر ذمہ دار حکومت کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ | اسی بارے میں قدیر: طلباء، سول سوسائٹی کااحتجاج28 May, 2008 | پاکستان ’ڈاکٹر قدیر کا مقام بحال ہوگا‘03 February, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر ہسپتال میں داخل05 March, 2008 | پاکستان ڈاکٹر کے قتل کی سازش کا الزام06 March, 2008 | پاکستان ڈاکٹرقدیرہسپتال سےگھرمنتقل09 March, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر، بیانات اور پابندیاں08 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||