قدیر: طلباء، سول سوسائٹی کااحتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کو پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے مقامی کالجوں کے طلباء کو ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملنے سے روک دیا جس پر انہوں نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر اسلام آباد کے علاقے ای سیون میں واقع اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ طلباء نے ڈاکٹر قدیر سے مملنے سے روکے جانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اقدام کے خلاف تحریک چلائیں گے جو ڈاکٹر عبدالقدیر کی رہائی اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے تک جاری رہے گی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا خالق کہا جاتا ہے اور پاکستان نے دس سال پہلے اٹھائیس مئی کو ایٹمی دھماکے کیے تھے ججن کے نتیجے میں پاکستان دنیا میں ایٹمی طاقت رکھنے والا پہلا اسلامی ملک بن گیا تھا۔ طلباء اور سول سوسائیٹی کے ارکان ان دھماکوں کی دسویں سالگرہ کے حوالے سے ڈاکٹر قدیر سے ملنا اور انہیں تحائف پیش کرنا چاہتے تھے تاہم وہاں تعینات پولیس اور سکیورٹی کے اہلکاروں کی بھاری نفری نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ پاکستان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ایک قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے تاہم انہیں سنہ دو ہزار چار میں اُس وقت اُن کے گھر میں ہی نظر بند کردیا گیا جب انہوں نے سرکاری ٹی وی پر اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔
صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر خان کی ان سرگرمیوں میں پاکستان ملوث نہیں ہے تاہم انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر سے پوچھ گچھ کے لیے کسی کو اجازت نہیں دی۔ تین سال سے زائد کی نظر بندی کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر پر عائد پابندیاں نرم کی گئی ہیں اور انہیں اپنے رشتہ داوں سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے۔ چند روز قبل انہوں نے اکیڈمی آف سائنسز کا بھی دورہ کیا تھا جہاں پر انہوں نے اپنے قریبی دوستوں سے ملاقات کے علاوہ ڈاکٹر افتخار ملک کی وفات پر تعزیت بھی کی تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کا آئندہ ہفتے کراچی جانے کا بھی امکان ہے۔ جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکن راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد کے قریب چاغی پہاڑ کے ماڈل کے سامنے جمع ہوئے اور ڈاکٹر عبدالقدیر کے حق میں نعرے بازی کی۔ ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سردار محمد اسلم نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی کے خلاف درخواست کی سماعت اُن کی علالت کی وجہ سے متلوی کر دی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی ختم کرنے کی درخواست بیرسٹر اقبال جعفری کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹرقدیرہسپتال سےگھرمنتقل09 March, 2008 | پاکستان ڈاکٹر کے قتل کی سازش کا الزام06 March, 2008 | پاکستان ڈاکٹر قدیر ہسپتال میں داخل05 March, 2008 | پاکستان ’بےنظیر بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں‘27 September, 2007 | پاکستان ڈاکٹر قدیر خان: کینسر کی تشخیص22 August, 2006 | پاکستان ’قدیرنےسینٹی فیوج کوریا کودیئے‘24 August, 2005 | پاکستان حملہ: ڈاکٹر قدیر کا دامادگرفتار12 August, 2005 | پاکستان ’سینٹریفیوج ایران کوفراہم کیے‘ 10 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||