BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 July, 2008, 01:09 GMT 06:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قدیر اور پاکستانی سیاست کا جھوٹ

ڈاکٹر قدیر کے بیان کا پاکستان پر کیا اثر ہوگا؟
پہلے جب ڈاکٹر قدیر پر الزام لگا کہ وہ سینٹری فیوج ایران کو سمگل کرنے میں ملوث ہیں اور بعد میں بڑے بڑے سینٹری فیوج کے سلنڈرز کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوئی تو یہ سوال اٹھائے گئے کہ کوئی سائنسدان کم از کم اکیلا یہ سمگلنگ نہیں کرسکتا اور اس مقام سے تو بالکل نہیں جو فوج کی انتی سخت سکیورٹی میں ہے جہاں سے چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔

اس وقت تبصرہ نگار اشاروں کنایوں میں فوج کے ملوث ہونے پر الزام عائد کر رہے تھے۔ اب تازہ ترین ڈاکٹر قدیر کا وہ مبینہ انٹرویو ہے جس میں انہوں نے براہ راست پاکستانی فوج کے سینٹری فیوج کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

جاپانی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو ایسے بیان پر مبنی ہے جو ایٹمی سائنسدان نے سوالات کے تحریری جوابات کی صورت میں دیا۔

لاہور کے ایک کالم نویس دانشور عباس اطہر نے فوج کی نگرانی میں سینٹری فیوج شمالی کوریا بھجوائے جانے کے بیان کو جولائی میں شروع کیے جانے والا خطرناک کھیل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پہلے سے بحران میں مبتلا پاکستان کو مزید نازک موڑ پر لاکھڑا کیا گیا ہے۔

تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ اب اس پر امریکہ اور بین الاقوامی دنیا میں بحث و مباحثے شروع ہوں گے۔

واشنگٹن یاترا پر گئے ایک دوسرے پاکستانی تبصرہ نگار نے اس سچویشن سے نکلنے کا حل یہ فرمایا ہے کہ پاکستانی حکام یہ کہہ دیں کہ سب جھوٹ ہے اور ڈاکٹر قدیر صدر پرویز مشرف سے ذاتی پرخاش کی وجہ سے یہ بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔

طرز حکمرانی پرکتابیں لکھنے والے صدیوں پرانے دانشوروں چانکیہ اورمکیاولی کو پاکستان میں ایک منفی استعارے کے طور استعمال کیا جاتا ہے لیکن خود پاکستان کے حکمران ان کے اس فلسفے پر کہ ریاست کو جھوٹ کا ہتھیار استعمال کرنا چاہیے، پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ ایسے جھوٹ سے بھری پڑی ہے، حالیہ بڑا جھوٹ کارگل آپریشن تھا جس میں پاکستانی فوجیوں کی تابوت بند لاشیں فوجی پروٹوکول کے ساتھ ملک کے ہر شہر قصبے میں جا رہی تھیں اور پاکستانی حکام پوری دنیا میں چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ یہ تو کشمیری مجاہدین ہیں۔

بعد میں جب پاکستانی حکمرانوں نے اسے فوجی آپریشن قرار دیا اور معافی تلافی کے لیے بین الاقوامی اپیلیں کی گئیں تو کھبی قوم سے اس جھوٹ پر ندامت کا اظہار نہیں کیا گیا۔ تو کیا یہ لکھنا درست ہوگا کہ ’تھوکا ہوا چاٹ لیا گیا؟‘

اسی طرح یہ جھوٹ سنتے ہوئے میں بچے سے جوان ہوگیا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام توانائی کے حصول کا پرامن منصوبہ ہے، بعد میں ایٹمی دھماکے کر کے دو دہائیوں تک بولے جانے والے جھوٹ کا پول بڑے فخریہ انداز میں کھول دیا گیا۔

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جلاوطنی کے دوران ان میں بڑی تبدیلی آئی تھی اور صوفیائے کرام کےاسلام کی طرف راغب ہوئی تھیں جو کل انسانیت کے لیے امن کا درس دیتا ہے۔

وہ پاکستان لوٹیں تو انہیں ایک بم دھماکے کے دوران ہلاک کردیا گیا۔ان کی ہلاکت کی کئی وجوہات پیش کی گئیں، ایک یہ بھی تھی کہ انہوں نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر تک عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو رسائی دینے کی بات کی تھی۔

واضح رہے کہ انہوں نے ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے کرنے کی بات نہیں کی تھی بلکہ ایک ایسے ادارے کو رسائی کی اجازت دی جو بہرحال اس امریکی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ نہیں ہے جو براہ راست پاکستانی اسٹیلیشمنٹ سے گٹھ جوڑ میں مصروف رہتی ہے۔

اسی ادارے کے ایک عہدیدار نے تمام تر امریکی اور برطانوی حکومتی دباؤ کے باوجود یہ جھوٹی رپورٹ دینے سے انکار کر دیا تھا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر ہلاکت خیز ہتھیار موجود ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ بعض حلقوں میں یہ خوف پیدا ہوگیا ہو کہ بے نظیرمغربی جمہوری قوتوں کو ان پاکستانی سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مقابل لاکھڑا کرنا چاہتی ہیں جن پر مذہبی بنیاد پرستوں اور امریکی سی آئی اے کے گہرے اثرات ہیں۔

اگر بے نظیر بھٹو ہلاکت کے اس نظریے کو ایک لمحے کے لیے درست مان لیا جائے تو پھر جان لیں کہ اسٹیبلٹشنٹ کے لیے اس خطرناک کھیل کا آغاز ہوچکا ہے جس سے بچنے کی کوشش میں بے نظیر بھٹو کو راستے سے ہٹایا گیا اور ڈاکٹر قدیر کو کئی برس تک سب سے الگ تھلگ رکھ کرڈی بریف کیا جاتا رہا۔

دیکھنا یہ ہے کہ اب مزید کتنے جھوٹ پر سے پردے اٹھیں گے جس پر مجھے یقین ہے اسٹیبلشمنٹ پر مشتمل حاکموں کو پریشانی تو بہت ہوگی لیکن ندامت ذرہ برابر بھی نہیں۔

ڈاکٹر قدیرڈاکٹر قدیر کی باتیں
’وقت آنے پر شاید بتا دوں کہ اعتراف کیوں کیا‘
ڈاکٹر قدیرڈاکٹر قدیر کا انٹرویو
’اعترافی بیان دھوکے سے حاصل کیا گیا‘
ڈاکٹر قدیرعالمی ایٹمی سمگلر
جدید ایٹمی ہتھیاروں کے راز سمگلروں کے پاس
جوہری پلانٹ’ تیسرا ری ایکٹر‘
پاکستان جوہری پروگرام پھیلا رہا ہے: تھنک ٹینک
ڈاکٹر عبدالقدیر خان ڈاکٹر قدیر کامؤقف
کیا پاکستان سچ کا متحمل ہو سکتا ہے؟
پاکستان اور طالبان
امریکی کانگریس میں پاکستان پر نیا بِل
ڈاکٹر قدیر ڈاکٹر قدیر کا مطالبہ
’الزامات کی تحقیق کے لیے کمیشن بنائیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد