عباد الحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | اعترافی بیان کے وقت وہی منظر تھا جو نو مارچ 2007 کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے ملاقات میں دیکھا گیا: ڈاکٹر قدیر |
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی باہر منتقل کرنے کے بارے میں ان سے اعترافی بیان ڈرا دھمکا اور ورغلا کر حاصل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر قدیر نے توقع ظاہر کی ہے کہ موجودہ حکومت ان کے معاملے پر غور کرے گی کیونکہ اس حکومت میں شامل افراد خود جیل کی صعوبیتں برداشت کرچکے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ لوگوں کو کس طرح جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یہ بات ایک نجی ٹی وی کی پروگرام میں ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔ ان کے بقول جب ان سے اعترافی بیان لیا جاناتھا اس وقت وہی منظر تھا جو نومارچ سنہ دوہزار سات کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ پیش آیا تھا۔ صورت حال کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کاکہنا ہے کہ معزول چیف جسٹس کو یہ معلوم تھا کہ کسی کے وعدہ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کے سامنے ایک مثال دسمبر دو ہزار چار کے واقعہ کی مثال موجود تھی لیکن جب خود ان کے ساتھ یہ کارروائی ہوئی تو اس وقت ان کے سامنے ایسی کوئی مثال نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر قانون اور مسلم لیگ قاف کے سینیٹر ایس ایم ظفر نے انہیں بیان نہ دینے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ لوگ آپ کو دھوکہ دیں گے اور بعد میں مجرم بنادیں گے۔ ڈاکٹر قدیر خان نے اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ پاکستان کے میزائل ٹیکنالوجی رکھنے کے باوجود بھی ملک آج توانائی کے بحران اور دیگر مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل ضیاء الحق کا پہلے دن سے یہ ارداہ تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینی ہے اور جنرل ضیاء الحق نے اپنے ادارے کا اظہار عدالتی فیصلہ آنے سے پہلے کردیا تھا چنانچہ ذوالفقار علی بھٹو کا قتل ایک عدالتی قتل تھا۔ ڈاکٹر قدیر کا کہنا ہے کہ ’بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں ہم نے یہ کوشش کی تھی کہ بھٹو کی پھانسی کے معاملہ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور کئی ایسے افراد بیانات دینے کو تیار تھے جن سے صدر ضیاء کی نیت کا عندیہ ملتا ہے کہ بھٹو کو ہر صورت میں پھانسی دے دی جائے۔‘ ان کے بقول بینظیر بھٹو کو سیاسی سازشوں کی وجہ سے اس کیس کی ازسر نو سماعت کرانے کا موقعہ نہ مل سکا۔ |