BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 October, 2008, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں آپریشن کا ایک سال

سوات میں طالبان نے پلوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں فوجی آپریشن کا تقریباً ایک سال پورا ہونے والا ہے لیکن تاحال وہاں پر تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس سکیورٹی فورسز کے چالیس ہزار سے زائد پیشہ ور اہلکار محض’ پندرہ سو‘ سے زائد مبینہ عسکریت پسندوں کا مکمل طور پر صفایا نہیں کرسکے ہیں۔

پچھلے سال اکتوبر میں فوج اس دلیل کے ساتھ سوات میں داخل ہوگئی تھی کہ وہاں پر مولانا فضل اللہ کی قیادت میں مسلح طالبان اپنی طرزِ فکر کا اسلام نافذ کرکے امن و امان کو خراب کرناچاہتے ہیں۔

اکتوبر میں فوجی کارروائی شروع ہوگئی اور یوں پاکستان کا سوئٹزر لینڈ کہلانے والی وادی سوات اب بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہے۔

 فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد وادی سوات کے زیادہ تر پُلوں کو مسلح طالبان نے تباہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کی نقل وحرکت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گرڈ اسٹیشن کی تباہی کی وجہ سے آپریشن سے قبل چوبیس گھنٹے بجلی سے مستفید ہونے والے شہریوں کو اس وقت محض دو گھنٹے بجلی میسر ہے۔

دو مرحلوں میں ہونے والی فوجی کارروائی اب تک بظاہر کامیاب نظرنہیں آرہی ہے۔ ضلع سوات میں تعلیم یافتہ حلقے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’فوجی آپریشن نے وادی سوات کو محفوظ نہیں بلکہ غیر محفوظ بنادیا ہے۔‘

اس بات کے لیے ان کے پاس بے شمار دلائل موجود ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جب فوجی کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی اس وقت مسلح طالبان کی جانب سےایک سکول کو بھی نذرِ آتش نہیں کیا گیا تھا اور علاقے کے تمام تعلیمی اداروں میں تعلیم کا سلسلہ جاری تھا۔ صرف طالبان نے لڑکیوں کو پردے کا پابند کردیا تھا۔

اس دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں کے اکا دکا واقعات ہوئے تھے۔ علاقے میں موجود پُل ، بجلی کا گرڈ اسٹیشن اور گیس پلانٹ سلامت تھے۔ وادی سوات میں باہر سے آنے والے سیاحوں کا آنا مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا۔

لیکن فوجی آپریشن کے اس ایک سال کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سو بارہ سکولوں کو تباہ کردیا گیا ہے اور لڑکوں کے باسٹھ سکول اب بھی بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے مجموعی طور پر تینتیس ہزار سے زائد طلباء و طالبات علم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔مالم جبہ کے معروف پی ٹی ڈی سی موٹل کوتباہ کردیاگیا ہے۔

ہوٹل انڈسٹری کو کئی ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس دوران ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔

طالبان رات کے وقت سکولوں کو تباہ کرتے ہیں

فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد وادی سوات کے زیادہ تر پُلوں کو مسلح طالبان نے تباہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کی نقل وحرکت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گرڈ سٹیشن کی تباہی کی وجہ سے آپریشن سے قبل چوبیس گھنٹے بجلی سے مستفید ہونے والے شہریوں کو اس وقت محض دو گھنٹے بجلی میسر ہے۔

یہ سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کے چالیس ہزار سے زائد اہلکار جنہیں جیٹ طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور توپخانوں کی مدد بھی حاصل ہے صرف’ پندرہ سو‘ سے زائد جنگجؤوں کی کارروائیوں کا راستہ کیوں نہیں رو ک سکتے۔ اس ایک سال کے دوران مسلح طالبان نے جتنی بھی واراداتیں کی ہیں وہ انہوں نے درمیانی شب کو کی ہیں۔ زیادہ تر سکولوں کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز واردات کے وقت اور مقام کے بارے میں جانتے ہوئے بھی مؤثر کارروائی کیوں نہیں کرسکی ہیں۔؟

انہیں معلوم ہے کہ مسلح طالبان نے رات کی تاریکی میں سکولوں کو نذرِ آتش کرنے آنا ہے لہذا وہ پہلے ہی سے چند درجن سکول میں بھی مورچہ زن ہوکر انہیں نہ صرف سکول جلانے سے روک سکتے ہیں بلکہ مار اور گرفتار بھی کرسکتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کچھ دنوں تک بڑی تواتر کے ساتھ یہ بیانات جاری کیئے کہ سکیورٹی فورسز نے مقامی لوگوں کے ساتھ ملکر کانجو، کوزہ بانڈہ اور آس پاس کے علاقوں کا کنٹروں سنبھال لیا ہے تو پھر اس کے بعد مقامی لوگوں کے ذہن میں لا محالہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیسے مسلح طالبان نے آکر کانجو میں ایف سی قلعہ سے پچاس گز دور لڑکیوں کے ہائی سکول نذرِ آتش کردیا ۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ صدر مقام مینگورہ سے تقریباً تین کلومیٹر دور اوڈی گرامہ میں مسلح طالبان آتے ہیں گیس پلانٹ کو اور پھر مینگورہ میں گھس کر بجلی کے گرڈ سٹیشن کو تباہ کرتے ہیں؟

صوبہ سرحد کے وزیراعلی اور دیگر حکام سوات میں مسلح عسکریت پسندوں کو مٹھی بھر عناصر قرار دیتے ہوئے ان کے جلد خاتمے کا مژدہ سناتے رہتے ہیں مگر آپریشن کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے آئے دن مسلح طالبان کے ہلاک کیے جانے کے حوالے سے جاری کیے گئے اعدا وشمار کو جمع کیا جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ’یہ مٹھی بھر عناصر ہیں پھر توان کا خاتمہ کب کا ہوچکا ہے۔‘

ضلع سوات، وہاں سے منتخب ہونے والے صوبائی اسمبلی کے سات اور قومی اسمبلی کے دو ارکان کے لیے ’ نو گو ایریا ‘ بن چکا ہے۔ ایک رکنِ اسمبلی نے کہا کہ ’جن لوگوں نے ہمیں ووٹ دیکر منتخب کیا ہے ان کے پاس اب خوف کے مارے واپس جا نہیں سکتے۔‘

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کے عدم تحفط کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک رکن اسمبلی کے گھر پر جب مسلح طالبان نے حملہ کرکے ان کے خاندان کے کئی افرادکو ماردیا تو وہ ان کی فاتحہ خوانی لینے کے لیے اپنے گھر نہیں جاسکے۔

انہوں نے پشاور میں واقع ایم پی ائے ہاسٹل میں فاتحہ خوانی کی اور اپنے گھر اور گاؤں سے باہر فاتحہ خوانی کو پشتون روایات میں انتہائی ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے اور اسے ایک بہت بڑا طعنہ سمجھا جاتا ہے۔ اس دفعہ تمام اراکین اسمبلی نے عید سوات کی بجائے پشاور او دیگر علاقوں میں گزاری۔

اس صورتحال کو مدنطر رکھتے ہوئے حکمران جماعت عوامی نینشل پارٹی کے رہنماء اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا تھا کہ’ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ آخر پاکستانی فوج کی موجودگی کے باوجود وہاں پر حالات کنٹرول سے کیوں باہر ہیں۔ پاکستان میں فوج سے زیادہ طاقتور قوت کوئی اور تو نہیں؟

پاکستان کی وزیرِ اطلاعات شیری رحمان نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے اس بات کو پھر دہرایا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنی سہ رخی پالیسی جاری رکھے گی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ’حکومت کی سہ رخی پالیسی قدرے ناکام اور طالبان کی تشدد کی یک رخی پالیسی ایک حد تک کامیاب نظر ہوتی نظر آرہی ہے۔‘

اسی بارے میں
دِیر: شریعت کے حق میں دھرنا
10 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد