BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 October, 2008, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: پندرہ سو گیسٹرو سے متاثر

گیسٹرو مریض (فائل فوٹو)
ضلع سوات میں بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پانی کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے
حکام کا کہنا ہے صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں گیسٹرو کی بیماری نے شدت اختیار کرلی ہے اورگزشتہ تین دنوں کے دوران متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً پندرہ سو تک پہنچ چکی ہے۔

سول ہسپتال سوات کے ڈاکٹر محمد اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ گیسٹرو کی بیماری جمعرات کو پھیل گئی تھی جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت دیکھی جارہی ہے۔

ان کے بقول اب تک ہسپتال میں تقریباً پندرہ سو متاثرہ افراد کو لایا جاچکا ہے تاہم ان کے بقول ابھی تک کوئی بھی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔

ڈاکٹر محمد جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ تین سو سے زائد متاثرہ افراد کو ہسپتال میں داخل کیاگیا ہے اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے مریضوں کو برآمدوں اور فرش پر لٹاکرطبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایک بستر پر تین تین افراد کو علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

گیسٹرو پھیلنے کیوجہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر جاوید کا کہنا تھا کہ علاقے میں بجلی کی عدم دستیابی کے سبب پانی کی قلت پیدا ہونے کے بعد لوگ دریاؤں اور چشموں کا آلود پانی پیتے ہیں اور بیماری پھیلنے کی ممکنہ وجہ یہی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں علاج کی تمام تر سہولیات دستیاب ہیں۔ایک مریض نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے گھر کے چار افراد گیسٹرو میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ان کے بقول ہسپتال میں اس بیماری سے متاثرہ مریضوں کا رش اتنا زیادہ ہے کہ علاج کے لیے اپنی باری کے لیے آدھے گھنٹے تک انتظار کرنا پڑ تا ہے۔

یاد رہے کہ ضلع سوات سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کی درمیان ہونے والی جھڑپوں کی زد میں ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں سے بجلی نہ ہونے کے سبب علاقے میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور وہ ٹیوب ویل یا کنؤوں سے پانی حاصل کرنے کی بجائے دریاؤں اور چشموں کے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

صدر مقام مینگورہ میں قائم بجلی کا گرڈ سٹیشن اور گیس پلانٹ کو مبینہ عسکریت پسندوں نے دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا تھا جس میں سےگیس پلانٹ کو مرمت کر نے کے بعد اس سے علاقے کوگیس کی ترسیل شروع کردی گئی ہے۔

ان کے بقول بجلی گرڈ سٹیشن کو جزوی طور پر بحال کردیا گیا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں محض دو گھنٹے تک بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

ضلع سوات میں فوجی آپریشن کے دوران کرفیو کے مسلسل نفاذ اور بجلی اور گیس کی عدم فراہمی کے بعد مقامی لوگوں نے پر تشدد احتجاج کرتے ہوئے تین سرکاری بینکوں کو آگ لگائی تھی۔اس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی فائرنگ سے مبینہ طور پر چھ شہری ہلاک اور درجن بھر سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ حکام نے عید کی آمد کے موقع پع پورے علاقے سے کرفیو اٹھا لیا تھا۔

اسی بارے میں
ژوب: ہیضے سے بائیس ہلاک
08 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد