کشمیر: پیٹ کی بیماریاں پھوٹ پڑیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ضلع سدھنوتی کے چھوٹے سے علاقے میں قے اور اسہال کی وبا پھوٹ پڑی ہیں۔ ان علاقوں میں حکام نے اب تک تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ کافی تعداد میں لوگ ان بیماریوں کے شکار ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اس بیماری کی وجہ آلودہ پانی بتاتے ہیں۔ ضلع سدھنوتی کے ڈسڑکٹ ہیلتھ افسر محمد حیات کا کہنا ہے کہ قے اور اسہال کی وبا دو چھوٹے دیہات میں پھوٹ پڑی ہے جس سے اب تک چار سو سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں چند روز کے دوران اب تک ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایسی صورتحال کے بعد محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں اس بیماری کی روک تھام اور متاثرہ لوگوں کے علاج کے لیے ہنگامی طور پر طبی ٹیمیں علاقے میں بھیج دی گئی ہیں اور وہاں ایک عارضی ہسپتال قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانچ افراد کی حالت زیادہ خراب تھی جن کو عارضی ہسپتال میں داخل کیاگیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کو طبعی سہولیات فراہم کی جا رہی ہے اور صورت حال کو بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ حالیہ برسوں میں پہلی بار اس چھوٹے سے علاقے میں اتنے کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان بیماریوں کی بڑی وجہ آلودہ پانی ہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بروقت صحت کی سہولت فراہم ہونے کی وجہ سے بہت کم ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور صورتحال کافی حد تک قابو میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طبعی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں سے کہاگیا ہے کہ وہ ان چشموں کا پانی استعمال نہ کریں جن میں بارے میں شبہ ہے کہ وہ آلودہ ہیں۔ | اسی بارے میں ژوب: ہیضے سے بائیس ہلاک08 July, 2005 | پاکستان آنتوں کی سوزش سے گیارہ ہلاک02 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||