BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 October, 2008, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی مہاجرین کے لیے نئے کیمپ

لوگ کیمپ کے حدود میں نظر آنے والے ہر خوش پوش آدمی کو حکومتی اہلکار سمجھ کر رجسٹریشن کی درخواست کرتے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ دو ماہ سے جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ ہرگزرتے دن کے ساتھ تیز ہورہا ہے اور حکومت نے اقوام متحدہ کے مختلف امدادی اداروں کی مدد سے مزید کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قبائلی علاقوں کے تشدد کی لپیٹ میں آنے کے بعد صوبہ سرحد میں افغان مہاجرین کے نام سے مشہور کیمپوں کو ان کی بیدخلی کے بعد اب پاکستانی مہاجرین کیمپ سے یاد کیا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ باجوڑ کے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو شمشتو، جلوزئی اور کچہ گڑھی کیمپ میں بسایا جائے گا۔

پشاور میں واقع کچہ گڑھی کیمپ میں قطار در قطار خیمے نظر آتے ہیں۔ کیمپ کے آس پاس نوجوان، بوڑھے اور بچے غیر یقینی کے عالم میں اپنے مسائل کے حل کی تلاش میں سرگردان پھر رہے ہیں۔ زمین پر بیٹھے ایک سات سالہ بچے نے فروخت کے لیے کچھ میوہ اور ایک ہاتھ سے تولنے والا ترازو رکھا ہواہے جسے وہ بمشکل ہی اٹھا پاتا ہے۔

ایک خاتون دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے نڈھال بیٹھی ہیں اور گزشتہ تین دنوں سے رجسٹریشن کے انتظار کررہی ہیں۔کئی خاندان کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور کیمپ کے حدود میں نظر آنے والے ہر خوش پوش آدمی کو حکومتی اہلکار سمجھ کر رجسٹریشن کی درخواست کرتے ہیں۔ایک آٹھ سالہ بچی نے پشتو میں مجھ سے التجا کی’ کا کا میں، میری ماں اور دو چھوٹے چھوٹے بچوں کا کوئی سرپرست نہیں ہے، آپ ہمیں خیمہ دیدیں‘۔

پناہ گزین
ابھی تک سات سو اُ ناسی خاندانوں کو رجسٹر کیا گیا ہے

مغرب کا وقت تھا کہ کیمپ کے قریبی مسجد سے نماز پڑھ کر باجوڑ کے درجنوں مہاجرین باہر نکل آئے۔ میرے سوال کرنے پر سب ہی نے شکایتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا۔

ماموند کے ایک شخص نے کہا ’ کیمپ تو قائم کر دیا گیا ہے لیکن پھر بھی ہم رات کو بھوکا سوئے ۔ ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اپنا کھانا پکاؤ ،یہاں لیٹرین کم ہیں مرد اور خواتین اور بچے اپنی قبائلی عزت کو بالائے طاق رکھ کر قطار میں کھڑے رہتے ہیں اور بہت سے لوگ تو آتے ہی نہیں ہیں‘۔

اس مجمع میں کھڑے ایک اور نوجوان نے کہا کہ’ کیمپ میں بجلی کی سہولت نہیں ہے، گرمی کی وجہ سے مچھر زیادہ ہیں، قبائلی روایات کے مطابق ہم نے ایک خاندان کے لیے مختص خیمے میں اپنے رشتہ داروں کے گھر والوں کو بھی جگہ دی ہوئی ہے۔

درجنوں افراد کے اس مجمع میں ہر کوئی اپنا داستان غم سنانا چاہ رہا تھا۔ایک شخص نے کہا کہ’ باجوڑ میں حکومت طالبان پر نہیں معصوم لوگوں پر بمباری کررہی ہے۔طالبان ان کے سامنے گھوم پھررہے ہیں مگر انہیں نشانہ بنانے کی بجائے عام شہریوں پر گولے گرائے جاتے ہیں۔

ایک اور شخص قدرے غصے میں کہنے لگا’ ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت گولی بھی دیتی ہے اور روٹی بھی۔ ایک طرف باجوڑ میں بمباری کرکے ہمیں بے گھر کردیا گیا ہےتو دوسری طرف کیمپ لگاکر ہمیں گھر فراہم کرنے کا ڈھونگ رچا یا جارہا ہے۔

 حکومت ’ ٹارگٹ آپریشن’ نہیں کررہی ہے اور نہ ہی اس نے آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے عام شہریوں کی نقل مکانی یا محفوظ بنانے کی کوئی حکمت عملی طے کی ہے۔’ ہمارے خلاف اتنا اسلِحہ استعمال کیا گیا ہے جیسے فوج انڈیا کے ساتھ لڑائی لڑ رہی ہو
عبدالشکور

ان لوگوں کی شکایات لیکر جب میں کیمپ کے منتظم اور افغان کمشنریٹ کے آفسر کے دفتر پہنچا تو وہاں پر بھی درجنوں افراد ہاتھ میں شناختی کارڈ لیکر کھڑے تھے اور ایک نوجوان ان کے مسائل سننے میں مصروف تھا۔

وہاں پر موجود باجوڑ کے عبدالشکور نامی ایک نوجوان نے کہا کہ انہوں نے صرف تین ماہ کے دوران تین مرتبہ نقل مکانی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے بعد میں اپنے بال بچوں کے ہمراہ افغانستان کے صوبہ کُنڑ چلا گیا، وہاں پر ضروریات زندگی کی عدم دستیابی کی وجہ سے واپس صوبہ سرحد کے ضلع دیر آیا جہاں پر کچھ دنوں بعد فوجیوں نے آ کر ہمیں آپریشن کی معطلی کی یقین دہانی کراکر واپس گھر جانے کو کہا۔جب ہم لوٹے تو ایک دن بعد پھر بمباری شروع ہوئی اور ہم نے تیسری مرتبہ نقل مکانی کی اور پشاور کے کچہ گڑھی کیمپ آگئے ہیں۔،

عبدالشکور کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس جدید دور میں بھی آٹھ آٹھ گھنٹے کی مسافت پیدل چل کر طے کی ہے اور اس دوران توپ کے گولے بھی آس پاس گرتے رہے۔ان کے مطابق ان کے گھر کے ساتھ ایک مکان پر گولہ گرا جس میں بارہ افراد ہلاک ہوئے جس میں ایک مرد تھا باقی سارے بچے اور خواتین تھیں۔

پناہ گزین
کئی خاندان کھلے آسمان تلے پڑے ہیں

باقیوں کی طرح عبدالشکور بھی فوجی آپریشن کے طریقہ کار پر بر ہم نظر آئے’ حکومت ’ ٹارگٹ آپریشن’ نہیں کررہی ہے اور نہ ہی اس نے آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے عام شہریوں کی نقل مکانی یا محفوظ بنانے کی کوئی حکمت عملی طے کی ہے۔’ ہمارے خلاف اتنا اسلِحہ استعمال کیا گیا ہے جیسے فوج انڈیا کے ساتھ لڑائی لڑ رہی ہو‘۔

افغان کمشنریٹ کے آفسر اور کیمپ کے منتظم ظاہر شاہ سے ملاقات ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ کیمپ میں ایک طریقہ کار کے مطابق لوگوں کی رجسٹریشن ہوتی ہے کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں غیر متعلقہ اور غیر مستحق افراد کو یہاں گھسنے کا موقع نہ ملے۔

ان کے مطابق ابھی تک سات سو اُ ناسی خاندانوں کو رجسٹر کیا گیا ہے جبکہ منصوبے کے مطابق یہاں پر آٹھ سو خاندانوں کو بسایا جائے گا۔ظاہر شاہ نے مزید کہا کہ شمشتو اور جلوزئی کیمپ میں بھی لوگوں کے بسانے کا انتظام ہورہا ہے۔

کیمپ میں رہائش پذیر افراد کی شکایت کے بارے میں ان کاکہنا تھا کہ انہیں اقوام متحدہ کے مختلف امدادی اداروں کی تعاون سے خوراک، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات پہنچائی جارہی ہیں جبکہ پشاور کے ضلعی رابطہ آفسر کی جانب سے روزانہ انہیں دو وقت کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
حملے نہ کرنے کا مشروط اعلان
08 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد