اسفندیار ولی ہی نشانہ کیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئی حکومت کے وجود میں آنے کے بعد حکمران اتحاد کے قائدین میں سے اسفندیار ولی خان وہ پہلی شخصیت ہیں جنہیں’نشانہ‘ بنایا گیا ہے، ایسا کیوں ؟ اس حملے سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے قائدین اسی طرح مبینہ ’دہشت گردوں‘ کے نشانے پر ہیں جس طرح سابق صدر پرویز مشرف، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور دو دفعہ مبینہ خودکش حملوں میں محفوظ رہنے والے سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ تھے۔ اسفندیار ولی پر حملے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں سرِفہرست صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع سوات میں جاری آپریشن، ایک روشن خیال اور سیکولر جماعت کے طور پر پشتون سرزمین پر’مذہبی جنونیت‘ کے خلاف سیاسی جدو جہد اور ان کے خاتمے کے لیے خطے میں امریکی ’جنگجویانہ پالیسی‘ کی مبینہ حمایت ہوسکتی ہے۔
اسفندیار ولی خان پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم حکومت کی دہشت گردی کے خلاف حالیہ خارجہ پالیسی ملک میں موجود امریکہ مخالف قوتوں کو ’پسند‘ نہیں ہے۔ قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد میں جب القاعدہ اور مبینہ عسکریت پسندوں کی کارروائیاں بڑھ گئیں تو ان سے سیاسی طور پر نمٹنے کے لیے امریکہ کو عوامی نیشنل پارٹی ایک معتدل اور روشن خیال قوت کے طور پر نظر آئی اور یوں پس پردہ امریکہ اور اے این پی کے درمیان تعلقات استوار ہوتے چلےگئے۔ عام انتخابات سے تقریباً ایک سال قبل اسفندیارولی خان نے پہلی مرتبہ امریکہ کا دورہ کر کے پینٹاگون، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، سینیٹ اور کانگریس کے ارکان کے ساتھ خطے کی صورتحال پر گفتگو کی۔ اسفندیار ولی خان کے اس دورے سے پاکستان میں سرگرم مبینہ عسکریت پسندوں کے حلقوں میں ناپسندیدگی کی لہر دوڑ گئی اور یوں ان کی شخصیت اور کردار مبینہ شدت پسندوں کی نظروں میں مشکوک ہوتا چلا گیا۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں اے این پی کی واضح جیت اور امریکی سفیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے رابطوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔
اس وقت ضلع سوات میں عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی قائدین خصوصی طور پرمبینہ عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں جبکہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ باچا خان مرکز کو دھمکیاں موصول ہوچکی ہیں۔ پارٹی کے وزراء کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کے سرکاری سطح پر احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ اے این پی نے انیس اڑتالیس میں چارسدہ میں ’بابڑہ‘ کے مقام پر ہلاک ہونے والے کارکنوں کی یاد میں ہر سال’ بابڑہ شہداء‘ کے نام سے منائی جانے والی برسی ساٹھ سال کے دوران پہلی مرتبہ دہشت گردی کی خوف کی وجہ سے نہیں منائی۔ ایک طالب کمانڈر کے بقول’اسفندیار ولی خان تو آصف زرادی اور یوسف رضا گیلانی سے بھی زیادہ خراب ہوتی صورتحال کے ذمہ دار ہیں کیونکہ پشتون ہونے کے ناطے ہم ان سے یہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ وہ ہمارے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کی حمایت کریں گے۔‘ ان الفاظ میں مبینہ عسکریت پسندوں کی شدید ناراضگی کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے ساتھ بہت سے خطرات اس لیے جڑے ہوئے ہیں کہ نچلی سطح پر جڑیں رکھنے والی اس جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کے صبر کا پیمانہ کسی بھی وقت لبریز ہوسکتا ہے اور خطے میں اپنی سیاسی بقاء کی خاطر وہ مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں اور پھر بعد میں صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل ہوگا۔
دھماکے سے محض دس بارہ گز دور ہونے کے باوجود ان کے لہجے میں خوف اور ڈر محسوس نہیں ہورہا تھا مگر ’پشتون دھرتی سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیےخون کے آخری قطرے تک لڑنے کے بیان کے بعد اپنے شہر اور حلقے کو چھوڑ کر ہیلی کاپٹر میں قدرے پُرامن شہر اسلام آباد روانگی نے ان کے پیروں کاروں کوقدرے مایوس کر دیا ہے۔ | اسی بارے میں اے این پی کے نائب صدر ہلاک06 February, 2008 | پاکستان سب سے مذاکرات کرنے ہونگے: اسفند 25 February, 2008 | پاکستان ’برطانیہ طالبان سے مفاہمت کا حامی‘20 April, 2008 | پاکستان پشتون انتہا پسند نہیں: اسفندیار19 February, 2008 | پاکستان نور مینگل، امریکہ میں داخلہ نہیں02 July, 2008 | پاکستان سوات: مقامی رہنما سمیت 5 ہلاک21 August, 2008 | پاکستان شدت پسندی، ایک بڑا چیلنج23 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||