سوات سے در بدر، خوف کا سایہ ساتھ ساتھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات میں مسلسل بمباری اور کرفیو سے تنگ آ کر محمد عارف بچوں کو لیکر کراچی آگئے ہیں مگر یہاں گھر کے اوپر سے جہاز گزرنے کی آواز سے ہی بچے خوف کے مارے چیخنے چلانے لگتے ہیں کہ پھر جہاز آگئے ہیں اور بمباری کریں گے۔ محمد عارف سوات کے علاقے بڑا بانڈی کے رہائشی ہیں۔ یہ علاقہ کئی ماہ سے گولہ باری کا نشانہ رہا ہے۔ سبزی فروش محمد عارف چار بچوں سمیت بیس افراد کے ساتھ گزشتہ دنوں کراچی آئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہاں جہاز بم گراتے اور توپیں چلتی رہتی تھیں، کئی روز کے کرفیو کی وجہ سے آٹا نہیں ملتا، اس قدر کہ آلو پیاز تک دستیاب نہیں، بیس کلو آٹے کی قیمت بارہ سو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی وجہ سے وہ کراچی آگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر اور جہازوں کو آتے دیکھتے ہی لوگ دوڑنا شروع کر دیتے ہیں اور خواتین بچوں کو لیکر غسل خانے میں پناہ لیتی ہیں۔ عارف کے بڑے بیٹے شاہزیب نو سال کے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جہاز یا ہیلی کاپٹر نظر آتے ہی سکول میں چھٹی ہوجاتی ہے اور وہ دوڑتے دوڑتے گھر پہنچتے تھے۔ وہ گزشتہ ایک سال سے پانچویں کلاس میں زیر تعلیم ہیں۔ سکول اکثر بند رہنے کی وجہ سے چھٹی جماعت میں جا نہیں پا رہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہ معلوم ہے کہ یہ بمباری حکومت کرتی ہے مگر کیوں کرتی ہے یہ نہیں جانتے۔ اس بمباری کی وجہ سے والدین انہیں گاؤں میں باہر کھیلنے بھی نہیں دیتے، مگر کراچی آکر وہ خوش نہیں اور وہ واپس اپنے گاؤں جانا چاہتے ہیں۔
’حکومت کہتی ہے کہ وہاں غیرملکی ہیں مگر وہاں سبھی مقامی لوگ ہیں وہ نفاذ شریعت مانگتے ہیں۔ علاقائی خانوں کے مظالم کی وجہ سے غریب لوگ کہتے ہیں کہ شریعت نافذ کرو اور وہ طالبان کے ساتھ ہیں۔‘ محمد عارف کے مطابق جہاز بڑے بڑے میزائل پھینکتے ہیں جن میں سے چار پانچ تو ایسے ہوتے ہیں جو پھٹے ہی نہیں، سات آٹھ فٹ کا ایک میزائل اتنا بھاری ہوتا ہے جس کو تین آدمی مل کر اٹھا سکتے ہیں، گاؤں والوں نے یہ میزائل طالبان کو دے دیے۔ محمد عارف بیس افراد کے ساتھ اپنے چچا زاد بھائی کے گھر میں رہتے ہیں۔ دو کمروں کے اس مکان میں ان کے چچا زاد بھائی کا خاندان پہلے ہی پندرہ افراد پر مشتمل ہیں۔ وہ خود کو بوجھ سمجھتے ہیں۔ کراچی کی ہوا اور ماحول نے ان لوگوں کو بیمار کر دیا ہے، یہاں کا پانی بھی ان کو راس نہیں آرہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے ان میں گیسٹرو اور چمڑی کی بیماری بھی ہے کیونکہ یہ لوگ پُرفضا علاقوں سے آتے ہیں، جبکہ یہاں کا پانی اور ہوا انہیں راس نہیں آتے۔ سوات سے آنے والے بتاتے ہیں کہ عوامی نیشنل پارٹی بھی اس کی ذمہ دار ہے، پہلے وہ کہتے تھے کہ پختونوں کا خون بہایا جارہا ہے، ان کے ہاتھ میں بندوق نہیں قلم ہونا چاہیئے، اب خود بھی اس بمباری میں شامل ہوگئے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں جاری آپریشن کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے کراچی کا رخ کیا ہے جنہوں نے اپنے رشتے داروں کے پاس رہائش اختیار کی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں سے کوئی سات لاکھ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔ ’حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کی خوراک اور رہائش اور علاج و معالجے کا بندوبست کرے، مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔‘ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کراچی میں باجوڑ اور سوات کے متاثرین کی لئے امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں۔ لانڈھی میں موجود ایک کیمپ کے منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ سامان جمع کر کے سوات اور باجوڑ بھیجا جائے گا۔ نیاز محمد کا کہنا ہے کہ کراچی میں جو متاثرین آئے ہیں وہ اپنے رشتے داروں کے پاس بہتر حالت میں ہیں مگر یہ چندہ ان لوگوں کے لئے جمع کیا جارہا ہے جن کے پاس نہ گھر ہے اور نہ کوئی سہارا۔ محمد عارف اس وقت بیروزگار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات ٹھیک ہوئے تو واپس جائیں گے، بصورت دیگر مجبوری میں یہاں رہنا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||