BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 October, 2008, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دِیر: شریعت کے حق میں دھرنا

فائل فوٹو
دھرنے کا اعلان مولانا صوفی محمد نے جمعہ کو ایک جلسہ عام کے دوران کیا
پاکستان کے صوبہ سرحد میں ضلع دیر میں کالعدم تنظیم نفاذِ شریعت محمد کے سینکڑوں کارکنوں نے اپنے قائد مولانا صوفی محمدی کی سربراہی میں ملاکنڈ ڈویژن میں ’شریعت‘ کے نفاذ کے اپنے مطالبے کے حق میں دھرنا دیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق دھرنے کا اعلان مولانا صوفی محمد نے جمعہ کو ایک جلسہ عام کے دوران کیا جس میں تقریباً تین ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ اپنے خطاب کے دوران مولانا صوفی محمد نے صوبہ سرحد کی حکومت کی جانب سے شریعہ ریگولیشن انیس سو ننانوے کے اعلان کردہ ترمیمی مسودے کو مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک انہیں ملاکنڈ ڈویژن میں قرآن و سنت کی روشنی میں ’شریعت‘ نافذ کرنے کی ضمانت نہیں دی جاتی تب تک دھرنا جاری رہے گا۔ مولانا صوفی محمد نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے’شریعت‘ کے نفاذ کے بعد وہ اپنے حامیوں کے ہمراہ سوات جائیں گے تاکہ وہاں پر سکیورٹی فورسز کے ساتھ برِ پیکار مبینہ عسکریت پسندوں سے ہتھیار ڈلوادیں۔ ان کے بقول اگر مبینہ عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تو کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی کے کارکن ان کے خلاف اور حکومت کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔

 مولانا صوفی محمد نے کہا کہ اگر مبینہ عسکریت پسندوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تو کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی کے کارکن ان کے خلاف اور حکومت کا شانہ بشانہ لڑیں گے۔

عوامی نیشل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے سوات میں شورش سے نمٹنے کے لیےکالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو جیل سے رہا کردیا تھا مگر شریعہ ریگولیشن ایکٹ کے ترمیمی مسودے پر اختلافات کے بعد انہوں نے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ مبصرین کے بقول مولانا صوفی محمد کی ناراضگی اور احتجاجی تحریک کے آغاز سے مبینہ عسکریت پسندوں کے حوصلے بڑھ سکتے ہیں۔

سوات میں نائب ناظم اغوا، دو سکول نذر آتش
ادھر صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح طالبان نے سوات کے نائب ناظم کو مبینہ طور پر اغواء جبکہ لڑکیوں کے دو سکولوں کو نذرِ آتش کیا ہے۔

ضلع سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفسر دلاور خان بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات کو چار گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے صدر مقام مینگورہ کی نواح میں واقع سنگوٹہ کے علاقے سے نائب ناظم ملک صدیق احمد کو اپنی رہائش گاہ سے اغواء کیا ہے۔

 ضلع دیر میں کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمد کے سینکڑوں کارکنوں نے اپنے قائد مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ملاکنڈ ڈویژن میں ’شریعت‘ کے نفاذ کے اپنے مطالبے کے حق میں نامعلوم مدت تک دھرنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ پولیس ان کی بازیابی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ مغوی ملک صدیق احمد کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ق) سے ہے اور اس سے قبل ان کے ایک ہوٹل کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحصیل کبل کے علاقے علی گرامہ میں لڑکیوں کے دو مزید سکولوں کو گزشتہ رات نذرِآتش کر دیا گیا ۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سکولوں کے جلانے کی ذمہ داری قبول کی البتہ نائب ناظم کی اغواء کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اپنے ساتھیوں سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی اس ضمن میں کچھ کہا جاسکتا ہے۔

سوات سے در بدر
’کراچی میں جہاز کی آواز سے بچے خوفزدہ‘
اسی بارے میں
سوات، کار بم حملے میں نو ہلاک
22 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد