’مارو جتنے شدت پسند مار سکتے ہو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں برس ہا برس کی ناکامیوں کے بعد اب وہاں نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ چلانے والوں نے ایک اور پتہ قبائلی لشکروں کی تشکیل کی صورت میں پھینکا ہے۔ مطلوبہ منصوبہ بندی کے بغیر خدشہ ہے کہ یہ صورتحال بھی بہتری کی بجائے مزید ابتری کا سبب بن سکتی ہے۔ بعض لوگ تو خانہ جنگی جیسی صورت بھی پیدا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں تعینات ایک لاکھ اسی ہزار بہترین تربیت یافتہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار اگر گزشتہ سات برسوں میں حکام کے مطابق چند ہزار شدت پسندوں پر قابو نہیں پاسکے تو ایسے میں مسلح قبائلی لشکروں کی کامیابی کے امکانات کیا ہیں۔ یہ قبائلی نہ تو انسداد دہشت گردی کی مناسب تربیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس شدت پسندوں کی طرح جدید آلات و ہتھیار ہیں۔ یہ قبائلی ان عسکریت پسندوں کا مقابلہ کیسے کر پائیں گے جو پہلے افغانستان اور اب پاکستان کو میدان جنگ بنائے ہوئے ہیں۔ کئی پاکستانی پھر یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر شدت پسندوں کا مقابلہ بالآخر عام شہریوں نے ہی کرنا تھا تو پھر اربوں روپے سکیورٹی فورسز پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر بجلی کے لیے اپنے جنریٹر، پانی کے لیے اپنی بورنگ اور سکیورٹی کے لیے اپنے لشکر ہی تشکیل دینے تھے تو حکومت کی اور سکیورٹی اداروں کی کیا ضرورت ہے۔ ایک طرح سے یہ حکومت اور اس کی رٹ کی مکمل ناکامی کا اعتراف ہے۔ لیکن اس سے زیادہ خطرناک بات اس اعتراف پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک اور بھونڈا تماشا رچانا ہے جس میں قیمت قبائلیوں کو اپنی جانوں کے ساتھ پیش کرنا ہوں گی۔ بعض اطلاعات کے مطابق حکومت نے قبائلیوں کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی مکمل چھوٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کو یہ پیغام دیے جا رہے ہیں کہ ’مارو جتنے شدت پسند مار سکتے ہو تم سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی‘۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ حکومت ان لشکروں کو ’مارنے کا لائسنس‘ دینے کے علاوہ مزید کس حد تک ان کی مدد کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہیں اسلحہ دے گی یا نہیں اور ان کی مالی معاونت کرے گی یا نہیں۔ لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اقوام متحدہ کے ان قوانین کا کیا بنے گا جو عام شہریوں کو مسلح کرنے سے منع کرتے ہیں۔ یہ تجربہ اگر بغیر سوچے سمجھے اس کے مستقبل کے اثرات کو مدنظر رکھ کر نہیں کیا گیا ہے تو قوی امکان ہے کہ ان علاقوں میں بھی ’دوستم، اسماعیل خان اور احمد شاہ مسعود‘ جلد پیدا ہو جائیں گے۔ پھر ان سے نمٹنے کے لیے شاید نئے لشکر تشکیل دینے کی ضرورت ہوگی۔ اگر اب تک لشکر منظم کرنے کی سرکاری پالیسی کی قبائلی معاشرے اور روایات کو دیکھیں تو اس طرح مارنے مروانے کے لائسنس کافی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ قبائلی اور ذاتی دشمنیاں بھی انہی لشکروں کے ذریعے نبھائی جانے لگیں گی اور حکومت تماشائی بن کر رہ جائے گی۔ افغان جہاد کے وقت میں ایک دلچسپ صورتحال تب پیدا ہوئی جب گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے تو دوسری جانب ان کے فیلڈ کمانڈر چائے کے بہانے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ ان فیلڈ کمانڈروں میں سے کئی نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاداریاں بھی تبدیل کرلیں۔ یہ وفاداریاں صرف مجاہدین سے مجاہدین جماعتوں میں نہیں بلکہ بعض اوقات انہوں نے کمونیسٹوں کا ساتھ بھی چُن لیا۔ اس بات کی بھی کیا ضمانت ہوگی کہ یہ مسلح لشکر بعد میں پاکستان کے ہی خلاف نہ ہو جائیں۔ وہ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ امریکہ نے اگر علاقے میں مداخلت کی تو وہ اس کی بھی مخالفت کریں گے۔ اگر امریکہ مداخلت کرتا ہے جیسے کہ امریکی صدارتی امیدوار بارک اوبامہ اشارے دے رہے ہیں تو پھر ان لشکروں کو طالبان کے پاس جانے سے کون روک سکے گا۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں لشکر کشی ماضی میں بھی ہوچکی ہیں۔ دو ہزار تین میں وانا میں مقامی قبائلی نے روایتی ڈھول کی تھاپ پر غیرملکیوں اور انہیں پناہ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی تھی لیکن اس کا نتیجہ یہ تھا کہ دو تین سال بعد مولوی نذیر کو پھر کارروائی کرنی پڑی اور غیرملکی شدت پسندوں کو بقول ان کے بیدخل کرنا پڑا۔ اس کے بعد بھی امریکہ وہاں اب تو تقریباً روزانہ میزائل حملے کر رہا ہے اور ہر مرتبہ دو چار غیرملکیوں کے مرنے کی خبر سامنے آتی ہے۔ اس موقع پر صرف ایک جماعت اسلامی ہی ہے جو ان لشکروں کے قیام کو خانہ جنگی شروع کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔ قاضی حسین احمد کے مطابق اس کی پشت پر امریکہ ہے۔ ویسے چند ماہ قبل اس طرح کی خبر امریکہ میڈیا میں شائع ہوئی تھی کہ پاکستان امریکی امداد سے قبائلی سرداروں کو شدت پسندوں کے خلاف متحرک کرنے کے ایک منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ اگر یہ لشکر کشی اسی منصوبے کا حصہ ہے تو امریکہ نسبت اسے مزید خطرناک بناسکتی ہے۔ مقامی طالبان نے پہلے ہی ہنگو میں جرگے پر جان لیوا حملے اور کئی قبائلی رہنماؤں کے گزشتہ دنوں سرقلم کرنے سے لشکر کے حامیوں کو کافی واضح پیغام دے دیا ہے۔ اب لشکر سازی کی پالیسی کے حامیوں کو جو بھی کرنا ہے انتہائی احتیاط سے اور مستقبل میں اس کے سائڈ ایفیکٹس کو مدنظر رکھ کر کرنا ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||