تمام راستے جنوبی وزیرستان کی طرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں جمعہ کے روز مبینہ پولیس مقابلے میں تینوں ہلاک ہونے والے اور گرفتار ہونیوالے شدت پسند کی شناخت کالعدم لشکرِ جھنگوی کے رکن کی حیثیت سے ہوئی ہے۔ پولیس حکام نے گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت علی حسن عرف رحیم اللہ کے نام سے ظاہر کی ہے جس کا تعلق کالعدم لشکرِ جھنگوی سے ہے اور اسی کی موجودگی کی اطلاع پر جمعے کو بلدیہ ٹاؤن کے ایک مکان میں چھاپہ مارا گیا تھا۔ پولیس اہلکار علی حسن سے تفتیش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مرنے والوں کی شناخت صدیق محسود، نور محمد عرف عمر اور زبیر بنگالی کے نام سے ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نور محمد عرف عمر بھی نشتر پارک بم دھماکے، علامہ حسن ترابی کے قتل اور سی آئی ڈی کے ایس پی راجہ عمر خطاب پر اقدامِ قتل میں مطلوب تھا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ہونے والا شخص علی حسن عرف رحیم اللہ وانا میں موجود عابد حسین محسود سے براہِ راست تعلق میں تھا۔ عابد محسود کی ذمہ داری تھی کہ وہ کراچی میں موجود علی حسن کو مالی امداد، اسلحہ، بارود اور خود کش بمبار فراہم کرے جبکہ علی حسن کراچی میں ممکنہ ٹارگٹ تجویز کرتا تھا اور اس کی منظوری کے بعد اس ’ٹارگٹ‘ پر کام شروع کردیا جاتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عابد محسود، قاری حسین محسود کے براہِ راست کمانڈ میں کام کرتا ہے، جو پاکستانی طالبان کی اعلٰی قیادت کے رکن ہیں۔ پولیس کے مطابق ٹرانسپورٹر شوکت آفریدی کو اس سال آٹھ مئی کو اسی گروہ نے اغواء کیا تھا اور پانچ کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس افسر نے دعوٰی کیا ہے کہ اگر تاوان کی رقم دے بھی دی جاتی تو شوکت آفریدی کو ہلاک کردیا جاتا کیونکہ شدت پسندوں کے نزدیک یہ امریکی فوج کو تیل کی رسد بہم پہنچارہے تھے اور اس طرح وہ امریکی اور نیٹو افواج کی مدد کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ شدت پسند کراچی میں امن و امان خراب کرنے کی سازش کر رہے تھے اور پولیس نے مبینہ شدت پسندوں کے اس گروہ کا صفایا کرکے کراچی کو بڑی دہشت گردی کی کارروائی سے بچا لیا۔ کراچی میں گذشتہ کچھ عرصے سے کراچی میں طالبان کی موجودگی کا چرچا کیا جا رہا ہے۔ متحدہ قومی مومنٹ یعنی ایم کیو ایم کا اس بات پر پُرزور اصرار ہے کہ طالبان کراچی پہنچ چکے ہیں جبکہ حکومت نے پہلے تو کراچی میں طالبان کی موجودگی سے بالکل ہی انکار کردیا تھا لیکن اب اگر حکومت اس امکان کو تسلیم نہیں کرتی تو مسترد بھی نہیں کرتی۔ | اسی بارے میں خودکش حملے کی دھمکی پر ہائی الرٹ25 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، درجن بھرگرفتاریاں25 September, 2008 | پاکستان ’اسلام آباد: مزید حملوں کا خطرہ ہے‘24 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ چھاؤنی: خود کش دھماکہ24 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||