BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2008, 10:54 GMT 15:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ چھاؤنی: خود کش دھماکہ

کوئٹہ مدرسہ
کوئٹہ میں بلیلی کے قریب واقع مدرسہ جس میں گزشتہ جمعہ کو دھماکہ ہوا
کوئٹہ میں چھاؤنی کی داخلی چوکی کے قریب فرنٹیئر کور کی گاڑیوں کے پاس مبینہ خود کش دھماکے سے ایک بچی ہلاک اور دس اہلکار سمیت سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس واقعہ کے بعد فوج اور ایف سی کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر محمد اکبر ارائیں نے بتایا ہے کہ گورا قبرستان کے پاس چھاؤنی جانے کے لیے قائم فوجیوں کی مرک چوکی پر فرنٹیئر کور کی گاڑیاں کھڑی تھیں کہ اچانک ایک شخص ایک گاڑی کے ڈرائیور گیٹ کے پاس آیا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔


جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت اس مقام سے ایک سکول وین گزر رہی تھی جس میں موجود ایک طالبہ ہلاک اور ایک طالب علم سمیت پانچ طالبات زخمی ہوئی ہیں ۔اکبر ارائیں کے مطابق خودکش حملہ آور کا سر اور دھڑ کے حصے ملے ہیں۔

زخمیوں کو چھاؤنی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال اور سول ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ سول ہسپتال سے ڈاکٹر جعفر نے بتایا ہے کہ ان کے پاس آٹھ زخمی لائے گئے جن میں پانچ بچیاں اور ایک بچہ شامل تھے۔ ایک بچی دم توڑ گئی ہے۔

واقعے کے بعد فوجیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صحافیوں سمیت کسی کو متعلقہ مقام تک جانے نہیں دیا جا رہا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ تیرہ فوجی اور ایف سی اہلکاروں کو زخمی حالت میں سی ایم ایچ لے جایا گیا ہے۔

کوئٹہ میں عام شہریوں کو اجازت نامے کے بغیر چھاؤنی جانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ چھاؤنی سے فوجی بھی کم ہی شہر کی طرف آتے ہیں۔

یاد رہے چار روز پہلے جمعہ کے دن اسی روڈ پر بلیلی کے قریب ایک مدرسے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں طالب علموں اور اساتذہ سمیت کم سے کم چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔

جمعہ کو ایک مدرسے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں طلبہ اور اساتذہ سمیت کم سے کم چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے

اس دھماکے کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آئی تھیں جن میں ایک یہ تھی کہ یہ خود کش حملہ تھا لیکن اس کے شواہد نہیں ملے تھے۔

اس کے علاوہ پولیس کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دھماکہ مدرسے میں پہلے سے موجود دھماکہ خیز مواد سے ہوا ہو اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ دھماکہ خیز مواد پھینک کر فرار ہو گئے تھے لیکن اس کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔

پولیس نے کچھ لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرا نے کے لیے نمونے حاصل کیے ہیں۔

اسی بارے میں
کوئٹہ: دھماکہ خیز مواد برآمد
16 September, 2008 | پاکستان
کوئٹہ:گرفتاریاں، جنازے، سوگ
18 February, 2007 | پاکستان
کوئٹہ دھماکے کے بعد 35 گرفتار
18 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد