کوئٹہ دھماکہ، درجن بھرگرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں بدھ کو ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد شہر میں’ریڈ الرٹ‘ ہے اور پولیس نے دھماکے کی تفتیش کے دوران قریباً ایک درجن افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد کوئٹہ داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے، حساس مقامات پر تعینات نفری کو بڑھا دیا گیا ہے جبکہ تجارتی اور کاروباری مراکز کے اردگرد چوکیاں قائم کی گئی ہیں اور ان مراکز کے اندر سادہ کپڑوں میں اہلکار موجود ہیں۔ پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز خودکش دھماکے کے حوالے سے قریباً ایک درجن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں اس مدرسے کے طالبعلم بھی شامل ہیں جہاں گزشتہ جمعہ کو دھماکہ ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے بعد بے گناہ افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔ یاد رہے بدھ کی دوپہر ایک نوجوان نے مبینہ طور پر اپنے آپ کو کوئٹہ چھاؤنی کی داخلی چوکی پر فرنٹیئر کور کی گاڑیوں کے پاس دھماکے سے اڑا دیا تھا جس میں پولیس کے مطابق ایک طالبہ ہلاک اور تیرہ سکیورٹی اہلکاروں سمیت بائیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ اس دھماکے میں ایف سی کے تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی جا رہی۔ یاد رہے گزشتہ جمعہ کو اسی سڑک پر بلیلی کے قریب ایک مدرسے میں دھماکہ ہوا تھا جس میں طالبعلموں اور اساتذہ سمیت کم سے کم چھ افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ چھاؤنی: خود کش دھماکہ24 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، ایک اور زخمی ہلاک20 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ میں بم دھماکہ، پانچ ہلاک19 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ: دھماکہ خیز مواد برآمد16 September, 2008 | پاکستان بلوچستان: کالعدم تنظیموں کے حملے14 September, 2008 | پاکستان کوئٹہ:تھانے میں دھماکے ایک ہلاک10 August, 2008 | پاکستان کوئٹہ:گرفتاریاں، جنازے، سوگ18 February, 2007 | پاکستان ’رمضان میں فوجی آپریشن معطل‘30 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||