’اسلام آباد: مزید حملوں کا خطرہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں مزید حملوں کا خطرہ ہے اور شہر میں ڈمپرز کے داخلے پر پابندی کے بعد اب شدت پسند دھماکوں کے لیے چھوٹی گاڑیوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔ بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق شدت پسندوں کا وہی گروپ شہر میں دھماکوں کے لیے چھوٹی گاڑیاں استعمال کر سکتا ہے جس نے بیس ستمبر کو میریئٹ ہوٹل میں خودکش حملہ کیا تھا۔ سرکاری دستاویز میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے دھماکہ کرنے کی کوشش کی لیکن شہر میں سکیورٹی کےحفاظتی اقدامات ہونے کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اُدھر شہر میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد حامد علی خان کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا جس میں شہر کی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کے اعلی افسران میں شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے باہر تین جگہوں پرچیک پوائنٹس بنائے جائیں گے جہاں پر ڈمپر اور سامان لے جانے والی دوسری گاڑیوں کو چیک کیاجائےگا۔ ان ڈمپروں اور ٹرکوں کو رات نو بجے سے صبح چھ بجے تک اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی جبکہ شہر کی حدود میں داخل ہونے والے ڈمپرز اور ٹرکوں کے داخلے کے لیے انہیں منگوانے والوں کو خود چیک پوسٹ پر آنا ہو اور بتانا ہوگا کہ یہ ٹرک یا ڈمپر اُنہوں نے منگوایا ہے۔
چیف کمشنر اسلام آباد حامد علی خان نےبی بی سی کو بتایا کہ اسلام آباد کے رجسٹرڈ ڈمپروں کو خصوصی پاس جاری کیے جائیں گے جبکہ دوسرے شہر سے آنے والے ڈمپروں اورساز و سامان لے کر جانے والی گاڑیوں کو سلپ دکھانا ہوگی کہ یہ ٹرک اور لوڈر کس شخص نے منگوایا ہے اور وہ اس کی تصدیق کرے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کے اہلکار شہر میں واقع سبزی منڈی کے تاجروں سے مذاکرات کریں گے اور اُن سے کہا جائے گا کہ اُن ٹرکوں کو سرٹیفکیٹ جاری کریں جو روزانہ کی بنیاد پر ان کا سامان لے کر آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریڈ زون ایریا میں جہاں تعمیراتی کام ہو رہا ہے وہاں پر جانے والے ٹرک اور ڈمپروں کو پہلے چیک پوائنٹ پر اچھی طرح جانچ پڑتال کرنے کے بعد پولیس سکواڈ کی نگرانی میں اُس جگہ پر پہچایا جائے گا جہاں پر تعمیراتی کام ہو رہا ہوگا۔ اس کے علاوہ شہر کی مختلف مارکیٹوں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور تاجر یونین کے نمائندوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر سکیورٹی کے انتظامات سخت کریں۔ اُدھر میریئٹ ہوٹل میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واہ آرڈنینس فیکٹری کے باہر ہونے والے خودکش حملوں میں گرفتار ہونے والے ملزم حمید اللہ سے میریئٹ ہوٹل کی تفتیش کے سلسلے میں بنائی جانے والی جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم کے اہلکاروں نےپوچھ گچھ کی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملزم نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں جہاں اُسے واہ فیکٹری کے باہر خودکش حملےکی تربیت دی جا رہی تھی اُس کے ساتھ والے کیمپ میں اسلام آباد میں خودکش حملے کے لیے تربیت دی جا رہی تھی۔ پولیس نے میریئٹ ہوٹل کے مقدمے میں زیر حراست افراد کو نشاندہی کے لیے ملزم حمید اللہ کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔ | اسی بارے میں مزید فول پروف اقدامات ضروری ہیں22 September, 2008 | پاکستان ’اعلیٰ قیادت کو میریئٹ جانا تھا‘22 September, 2008 | پاکستان ہوٹل میں بکنگ نہیں تھی: ہاشوانی22 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان دو امریکی فوجی بھی میریئٹ دھماکے کا شکار 21 September, 2008 | پاکستان سپاہیوں اورسکیورٹی کی آخر تک دھماکہ روکنے کی کوشش: وڈیو21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان بال بچوں سمیت میریئٹ کی طرف21 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||