دو امریکی فوجی بھی میریئٹ دھماکے کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں دو امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ وزیراعظم پاکستان کے مشیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت ملک میں موجود شدت پسندوں کو چن چن کر نشانہ بنائے گی۔ پاکستانی وزارتِ داخلہ نے دھماکے سے چند منٹ قبل کی ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک ٹرک کو میریئٹ ہوٹل کے مرکزی دروازی پر موجود رکاوٹ سے ٹکراتے اور اس میں آگ لگتے دکھایا گیا ہے۔ سینیچر کی شام ہونے والے اس دھماکے میں پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق کم از کم ترپّن افراد ہلاک اور دو سو ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں جن میں متعدد غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک میں دہشتگردوں کے ایک، دو ٹھکانے اب بھی باقی ہیں جہاں سے ملنے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر وہاں کارروائی کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بس کے باوجود خودکش حملے کے لیے تیار کسی شخص کو روکنا ناممکنات میں سے ہے۔ تاحال کسی گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم مشیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ’ان تمام حملوں کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے ملتے ہیں‘۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی محکمۂ دفاع کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں فوجی دھماکے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہوں نے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دونوں فوجی اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں تعینات تھے اور جب تک ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کو مطلع نہیں کر دیا جاتا اس وقت تک ان کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔
ان دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دھماکے میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ اس سے قبل روڈ لوف نامی امریکی شہری کی ہلاکت کی تصدیق سینیچر کی شب ہی ہو گئی تھی۔ بی بی سی کے ہارن رشید کے مطابق اتوار کی صبح اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِاعظم پاکستان کے مشیرِ داخلہ سے بھی یہ پوچھا گیا تھا کہ آیا ہوٹل میں امریکی فوجی موجود تھے تو ان کا کہنا تھا کہ’ایک یا دو امریکیوں کے لیے ایک ہزار پاکستانی ہلاک کرنا کوئی انصاف نہیں‘۔ ادھر ڈنمارک کی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے ایک شہری کے لاپتہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ڈنمارک کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کلوس ہوم کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بہت کوشش کی ہے مگر لاپتہ ڈینش باشندے کی تلاش میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی ہے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھماکے وقت ڈنمارک کے چار باشندے ہوٹل میں موجود تھے جن میں سے ایک لاپتہ ہے۔ ترجمان کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والی خاتون سفارتکار کو بھی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ دو شہری اس حملے میں دو محفوظ رہے۔ اس سے قبل مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں جمہوریہ چیک کے سفیر آئیوو زدراک، ایک ویت نامی خاتون اور دو امریکی شامل ہیں جبکہ ہسپتال میں زیر علاج گیارہ زخمی غیرملکیوں میں چار امریکی، چار سعودی باشندوں کے علاوہ برطانیہ، لبنان اور افغانستان کا ایک ایک شہری شامل ہیں۔
انہوں نے تحقیقات میں مدد کی غیر ملکی پیشکش یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ ملکی ادارے ایسی تفتیش کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی سفارتخانے کے ترجمان لو فنٹر نے حملے کی تحقیقات میں پاکستانی اداروں کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں صحافیوں کو کلوز سرکٹ کیمرے سے بنائی گئی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں دھماکے سے چند لمحات قبل کے مناظر شامل تھے۔ ویڈیو میں ہوٹل کے گیٹ پر تعینات سپاہی اور سکیورٹی اہلکار آخری لمحات تک باورد سے بھرے ٹرک میں دھماکے کو روکنے اور آگ بجھانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ادھر پاکستان کے صدر مملکت آصف علی زرداری دھماکے کے بعد رات گئے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کے بعد اتوار کی صبح امریکہ روانہ ہوگئے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ صدر جارج بش سے ملاقات بھی کریں گے۔ صدر مملکت کی امریکہ روانگی کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی اور نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے تین لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے ایک لاکھ روپے فی کس کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کے عزم کو دہشت گردی کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
میریئٹ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی حتمی تعداد اب بھی معلوم نہیں کی جا سکی ہے اور میریئٹ ہوٹل میں کیے جانے والے ’سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن‘ کے انچارج ڈاکٹر محمد علی نے اتوار کی صبح بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی کو بتایا کہ ساری رات جاری رہنے والی آگ کے بعد اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا کہ ہوٹل کی عمارت سے کوئی زندہ فرد مل سکے گا اسی لیے اب ان کا کام لاشوں کی تلاش تک ہی باقی رہ گیا ہے۔ راولپنڈی سے آنے والی دو سو افراد پر مشتمل ’ریسکیو 1122’ ٹیم کے انچارج نے بی بی سی کو بتایا کہ آگ کی شدت کے باعث ایک موقع پر عمارت کے اندر درجہ حرارت چار سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا اور اس درجہ حرارت میں عمارت کے اندر کسی ذی روح کا زندہ بچ جانا معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد علی کے مطابق اتوار کی دوپہر بارہ بجے تک پانچ منزلہ عمارت میں لگی آگ پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا تھا تاہم چوتھی منزل سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا تھا۔ وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق اس خودکش بم حملے میں چھ سو کلوگرام دھماکہ خیز مواد کے علاوہ ایسا کیمیائی مادہ بھی استعمال کیا گیا جس سے ہوٹل کی عمارت کے مختلف حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ امدادی ٹیم کے انچارج کے مطابق ’بہت سے افراد اس پانچ منزلہ عمارت میں پھنس کر اس لیے ہلاک ہوگئے کیونکہ عمارت سے ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے راستے موجود نہیں تھے۔یہ ہنگامی راستے نہ ہونے کی وجہ سے بعض افراد نے عمارت کی بالائی منزلوں سے چھلانگیں بھی لگائیں‘۔
ڈاکٹر محمد علی کے مطابق یہی ہنگامی راستے آگ لگنے کی صورت میں امدادی کارکنوں کے متاثرہ عمارت کے اندر داخل ہونے کے راستوں کا کام دیتے ہیں لیکن ان کی عدم موجودگی کے باعث امدادی کارکن اس وقت تک عمارت کے زیادہ متاثر ہونے والے حصوں میں نہیں جا سکے۔ان کا کہنا تھا ’اگر یہ ہنگامی راستے موجود ہوتے تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں‘۔ امدادی کارکنوں کے علاوہ ہوٹل کی عمارت میں اتوار کو تحقیقاتی اداروں کے اہلکار بھی موجود رہے۔ ان کی آمد سے قبل متاثرہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے تمام غیر متعقلہ افراد بشمول میڈیا کے نمائندوں کو ہوٹل کے قریب جانے سے روک دیا گیا تھا۔ ان تحقیقاتی اداروں کے نمائندوں نے دھماکے کے اردگرد کے علاقے سے مختلف نمونے اکٹھے کیے جن میں دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کے علاوہ انسانی اعضا اور خون کے نمونے بھی شامل تھے۔ یہ نمونے اکٹھے کرنے والوں میں غیر ملکی بھی دیکھے گئے ہیں۔ دھماکے تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی ٹیم کے افسران نے اتوار کی صبح ہوٹل کےگرد تین کلومیٹر کے علاقے کو اپنی تحقیقات میں شامل کیا تاکہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی یا گاڑیوں کے بارے میں شواہد اکٹھے کیے جاسکیں لیکن تاحال اس بارے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔
سنیچر کی شام میریئٹ ہوٹل کے باہر ہونے والے ٹرک بم دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے لیکن اسلام آباد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں پر انگلی اٹھائی جارہی ہے جن کے خلاف پاکستانی فوج کارروائیاں کررہی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے دھماکے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔دھماکے کے بعد ملک بھر اور خصوصاً اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے ریڈ سکیورٹی زون میں واقع اس میریئٹ ہوٹل پر حالیہ برسوں میں حملے کا یہ تیسرا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل چھبیس جنوری دو ہزار سات کو ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوئے تھے اور سنہ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو عبداللہ محسود نے ہوٹل میں ہوئے ایک پراسرار دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جو اس وقت کی حکومت کے مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا تھا۔ |
اسی بارے میں ’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘21 September, 2008 | پاکستان ’عام جنگ نہیں گوریلا وار ہے‘21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان حملہ القاعدہ کے خطرے کا مظہر:بش20 September, 2008 | پاکستان ’قوم اپنے درد کو طاقت میں بدل دے‘20 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||