BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 September, 2008, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہوٹل میں بکنگ نہیں تھی: ہاشوانی

صدرالدین ہاشوانی
حملے کے بارے میں حکومت اور ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آنے سے کافی ابہام پیدا ہوگیا
میریئٹ ہوٹل کے مالک صدرالدین ہاشوانی نے پیر کو مشیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان کو غلط قرار دیا ہے جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ صدر اور وزیر اعظم کی افطاری کے لیے ہوٹل میں کوئی بُکنگ کی گئی تھی۔

اس سے قبل نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ پیر کو اسلام آباد میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے رحمٰن ملک نے کہا تھا کہ صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد سپیکر کی جانب سے کھانے کا بندوبست ہوٹل میں کیا گیا تھا۔

رحمان ملک نے کہا تھا کہ ’دہشت گردوں کو علم ہوگیا تھا کہ ملکی قیادت میریئٹ ہوٹل میں آ رہی ہے لہذا عین وقت پر صدر اور وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ یہ کھانا میریئٹ ہوٹل کی بجائے ایوان وزیراعظم میں منتقل کر دیا جائے۔ اس بات کو جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا اور یوں صدر اور وزیراعظم سمیت ملکی قیادت بڑی ہلاکت سے بچ گئی۔‘

بی بی سی ورلڈ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدرالدین ہاشوانی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے تمام نو سو اراکین کے لیے ہوٹل میں بندوبست کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ’ہر کوئی مجھ سے پوچھ رہا ہے کہ انہوں نے یہاں آنا تھا۔ میں انہیں بتا رہا ہوں کہ ہرگز نہیں یہاں تو کوئی بُکنگ ہی نہیں ہوئی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسا بھی نہیں کہ کوئی ایک ہزار افراد کے ساتھ بغیر بتائے آ جائے اور اس کے کھانے کا بندوبست ہم کرسکیں۔ ’کس نے غلط بات کی ہے۔ انہوں نے یہاں ہونا ہی نہیں تھا۔‘

صدرالدین ہاشوانی کا کہنا تھا کہ اگر اعلیٰ شخصیات نےہوٹل میں ہوتیں تو پھر سکیورٹی وہ نہ ہوتی جو تھی۔ ’وہ ٹرک تو یہاں آ ہی نہیں سکتا۔ اسے کہیں روک ہی لیا جاتا۔‘

مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی اعلٰی ترین قیادت سنیچر کو دھماکے سے تباہ ہونے والے میریئٹ ہوٹل میں رات کے کھانے پر جمع ہونا تھی لیکن آخری وقت پر یہ فیصلہ تبدیل کر دیاگیا۔ ادھر پولیس نے بظاہر میریئٹ دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں گجرانوالہ سے دو اماموں سمیت تین لوگوں کو پکڑا ہے۔ جنوبی پنجاب سے بھی پانچ افراد گرفتار ہوئے ہیں۔

میریئٹ پر سنیچر کی رات کو ہونے والے خودکش حملے کے بارے میں حکومت اور ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آنے سے کافی ابہام پیدا ہوگیا ہے۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

ناکافی سکیورٹی
اسلحے سے بھرا ٹرک کیسے نکل گیا؟
میریئٹ ہوٹلمیریئٹ کا اندرون
میریئٹ ہوٹل: اندرونی حصے کی تصاویر
شہر کی رونق
میریئٹ ہوٹل ستر کی دہائی میں بنا تھا
میریئٹ ہوٹل’خود ہی دیکھ لیں‘
لوگ بچوں سمیت جلتا میریئٹ ہوٹل دیکھنے آئے
دھماکے کی اگلی صبح
دن کی روشنی میں تباہی کا منظر: تصاویر
قیامت خیز مناظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
اسلام آباد دھماکہجمہوریت اور امن
’جمہوریت تو آگئی لیکن امن نہیں آیا‘
اسی بارے میں
’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘
20 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد