گجرانوالہ سے تین افراد گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میریئٹ ہوٹل میں دھماکے کے بعد گوجرانوالہ میں پولیس اور خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے مساجد کے دو امام اور فرقہ وارانہ وارداتوں میں پولیس کو مطلوب ایک شخص جمشید مرسلین کو حراست میں لے لیا ہے۔ ادھر اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انٹیلیجنس اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جنوبی پنجاب سے بھی پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ کے تھانہ پیپلز کالونی کے سٹیشن ہاؤس آفیسر انسپکٹر عامر وارثی نے بی بی سی نے اس کارروائی کی تصدیق تو کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے تھانے کی فورس نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے آئی ٹیم کو جمشید مرسلین کی تلاش تھی اور چونکہ وہ قاری ارشد کے مہمان تھے اس لیےشاید قاری ارشد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ قاری ارشد کچھ عرصہ قبل کراچی سےگوجرانوالہ منتقل ہوئےتھے۔ دریں اثناء میریئٹ ہوٹل کی عمارت پر گزشتہ دو روز سے جاری امدادی سرگرمیاں ختم کر دی گئی ہیں جبکہ ہوٹل انتظامیہ نے ہوٹل کی تعمیر نو کے لئے ملبہ صاف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ بم دھماکے کی تحقیق کرنے والی ٹیم نے بھی پیر کی صبح جائے حادثہ کا آخری مرتبہ جائزہ لیا اور ہوٹل کے بعض ملازمین سے سوالات کئے جسکے بعد عمارت کا کنٹرول ہوٹل انتظامیہ کے سپرد کر دیا گیا۔ گجرانوالہ میں مقامی لوگوں کے مطابق میریئٹ بم دھماکے سے اگلے روز اسلام آباد کی سیکیورٹی ایجنسی کے مسلح اہلکاروں نے گوجرانوالہ کے بارونق علاقے عرفات کالونی میں مرکزی جامع مسجد زبیدہ حنیف پر چھاپہ مارا اور دو افراد کو حراست میں لے لیا۔ مسلح سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لیے گئے افراد کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں مسجد کے امام قاری ارشد اور ان کے ایک مہمان جمشید مرسلین شامل ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار ٹیم کے اراکین کی تعداد چالیس کے قریب تھی اور وہ دس گاڑیوں پر آئے۔ اطلاعات کےمطابق گجرات کے نزدیک واقع شہر کھاریاں کے ایک امام مسجد قاری محمد علی کو بھی ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا ہے تاہم پولیس نے ان کی گرفتاری کی ابھی تصدیق نہیں کی ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی بڑی تعداد میں ایسی گرفتاریاں ہوتی رہی ہیں جن کی پولیس یا خفیہ سیکیورٹی ایجنسی تصدیق یا تردید سے گریز کرتی رہی ہے۔ حالیہ گرفتاریاں بھی بظاہر اسی نوعیت کی ہیں۔ اسلام آباد میں بم دھماکے کےبعد پنجاب بھر میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔لاہور سمیت مختلف شہروں میں ہوٹلوں اور قیام گاہوں پر چھاپے مارے گئے۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان چھاپوں کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہناتھا کہ کسی بھی بڑے واقعہ کے بعد یہ معمول کی کارروائی کا حصہ ہے اور حراست میں لیے جانے والے مشتبہ افراد کو ان کے نام پتے کی تصدیق کے بعد چھوڑ دیا جائے گا۔ اس سے قبل امریکی محکمۂ دفاع نے کہا تھاکہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں دو امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ سینیچر کی شام ہونے والے اس دھماکے میں پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق کم از کم ترپّن افراد ہلاک اور دو سو ساٹھ سے زائد زخمی ہوئےجن میں متعدد غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ملک میں دہشتگردوں کے ایک، دو ٹھکانے اب بھی باقی ہیں جہاں سے ملنے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر وہاں کارروائی کی جائے گی۔ تاحال کسی گروہ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم مشیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ’ان تمام حملوں کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے ملتے ہیں‘۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی محکمۂ دفاع کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں فوجی دھماکے میں شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہوں نے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ دیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دونوں فوجی اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں تعینات تھے۔ ان دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دھماکے میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ اس سے قبل روڈ لوف نامی امریکی شہری کی ہلاکت کی تصدیق سینیچر کی شب ہی ہو گئی تھی۔ |
اسی بارے میں ’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘21 September, 2008 | پاکستان ’عام جنگ نہیں گوریلا وار ہے‘21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان حملہ القاعدہ کے خطرے کا مظہر:بش20 September, 2008 | پاکستان ’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘20 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||