’ملکی قیادت بال بال بچ گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں داخلہ امور کے مشیر رحمٰن ملک نے انکشاف کیا ہے کہ سنیچر کے روز میریئٹ ہوٹل پر حملے کا ہدف ارکان پارلیمنٹ اور صدر مملکت کے اعزاز میں منعقد دعوت تھی لیکن عین وقت پر اس افطار ڈنر کو وزیراعظم ہاؤس منتقل کر دینے سے ملکی قیات اس سانحے کا شکار ہونے سے بچ گئی۔ اس سوال پر کہ میریئٹ ہوٹل ہی کو دہشت گردی کی اس کارروائی کے لئے منتخب کیوں کیا گیا رحمٰن ملک نے کہا ’صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے دئیے جانے والے کھانے کا بندوبست اسی ہوٹل میں کیا گیا تھا‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کو علم تھا کہ اس موقع پر صدر اور وزیراعظم سمیت ملک کی پوری قیادت اس وقت ہوٹل میریئٹ میں موجود ہو گی۔ رحمٰن ملک کے مطابق عین وقت پر صدر اور وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ یہ کھانا میریئٹ ہوٹل کے بجائے ایوان وزیراعظم میں منتقل کر دیا جائے۔ ’ کھانے کے مقام کی میریئٹ سے وزیراعظم ہاؤس منتقلی کو جان بوجھ کر خفیہ رکھاگیا اور یوں صدر اور وزیراعظم سمیت ملکی قیادت بڑی ہلاکت سے بچ گئی۔‘ رحمٰن ملک نے مزید کہا کہ دارلحکومت کے لئے خصوصی سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جا رہا ہے جسکے تحت ٹرکوں کی اسلام آباد کی حدود میں آمد پر پابندی ہو گی۔ اسکے علاوہ پورے شہر میں کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب کا کام بھی آئندہ دو تین روز میں شروع کر دیا جائے گا۔
رحمٰن ملک نے کہا کہ انہوں نے اختتام ہفتہ ہونے والے اس بم حملے میں ملوث ہونے کے بارے میں کسی فرد یا گروپ کا نام نہیں لیا اور اس بارے میں اخبارات میں انکے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ | اسی بارے میں میئریٹ جو دہشت گردی کی نظر ہوا21 September, 2008 | پاکستان دو امریکی فوجی بھی میریئٹ دھماکے کا شکار 21 September, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری دہلیز پر‘21 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||