BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 September, 2008, 10:18 GMT 15:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ملکی قیادت بال بال بچ گئی‘

 میریئٹ ہوٹل
میریئٹ ہوٹل میں دھماکے بعد آگ کا منظر

پاکستان میں داخلہ امور کے مشیر رحمٰن ملک نے انکشاف کیا ہے کہ سنیچر کے روز میریئٹ ہوٹل پر حملے کا ہدف ارکان پارلیمنٹ اور صدر مملکت کے اعزاز میں منعقد دعوت تھی لیکن عین وقت پر اس افطار ڈنر کو وزیراعظم ہاؤس منتقل کر دینے سے ملکی قیات اس سانحے کا شکار ہونے سے بچ گئی۔
 کھانے کے مقام کی میریئٹ سے وزیراعظم ہاؤس منتقلی کو جان بوجھ کر خفیہ رکھاگیا اور یوں صدر اور وزیراعظم سمیت ملکی قیادت بڑی ہلاکت سے بچ گئی۔
رحمٰن ملک

اس سوال پر کہ میریئٹ ہوٹل ہی کو دہشت گردی کی اس کارروائی کے لئے منتخب کیوں کیا گیا رحمٰن ملک نے کہا ’صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے دئیے جانے والے کھانے کا بندوبست اسی ہوٹل میں کیا گیا تھا‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کو علم تھا کہ اس موقع پر صدر اور وزیراعظم سمیت ملک کی پوری قیادت اس وقت ہوٹل میریئٹ میں موجود ہو گی۔

رحمٰن ملک کے مطابق عین وقت پر صدر اور وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ یہ کھانا میریئٹ ہوٹل کے بجائے ایوان وزیراعظم میں منتقل کر دیا جائے۔ ’ کھانے کے مقام کی میریئٹ سے وزیراعظم ہاؤس منتقلی کو جان بوجھ کر خفیہ رکھاگیا اور یوں صدر اور وزیراعظم سمیت ملکی قیادت بڑی ہلاکت سے بچ گئی۔‘

رحمٰن ملک نے مزید کہا کہ دارلحکومت کے لئے خصوصی سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جا رہا ہے جسکے تحت ٹرکوں کی اسلام آباد کی حدود میں آمد پر پابندی ہو گی۔ اسکے علاوہ پورے شہر میں کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب کا کام بھی آئندہ دو تین روز میں شروع کر دیا جائے گا۔

حملے سے کچھ ہی گھنٹے قبل آصف زرداری نے قوم سے خطاب کیا
رحمٰن ملک نے ہوٹل میں لگنے والی آگ پر فوری قابو پانے میں انتظامیہ کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چاروں وزراعلیٰ سے بات کر لی ہے اور بہت جلد پورے ملک میں ’ڈیزاسٹر مینیجمنٹ سیل‘ قائم کر دیے جائیں گے جو جدید سازوسامان سے لیس ہوں گے اور بلند عمارات پر لگنے والی آگ کو بجھانے کی صلاحیت کے بھی حامل ہوں گے۔

رحمٰن ملک نے کہا کہ انہوں نے اختتام ہفتہ ہونے والے اس بم حملے میں ملوث ہونے کے بارے میں کسی فرد یا گروپ کا نام نہیں لیا اور اس بارے میں اخبارات میں انکے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد