میریئٹ سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی تاریخ کے طاقتور ترین بم حملے کا نشانہ بننے والے اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل کی عمارت پر گزشتہ دو روز سے جاری امدادی سرگرمیاں ختم کر دی گئی ہیں اور ہوٹل کی انتظامیہ نے تعمیر نو کے لیے ملبہ صاف کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ بم دھماکے کی تحقیق کرنے والی ٹیم نے بھی پیر کی صبح جائے حادثہ کا آخری مرتبہ جائزہ لیا اور ہوٹل کے بعض ملازمین سے سوالات کیے جس کے بعد عمارت کا کنٹرول ہوٹل انتظامیہ کے سپرد کر دیا گیا۔ امدادی کارکنوں نے بھی ہوٹل کی چوتھی اور پانچویں منزل کا معائنہ کیا اور عمارت میں مزید کسی لاش کی دستیابی کے امکانات نہ ہونے کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں سمیٹ لی ہیں۔ تاہم عمارت کی چوتھی منزل پر بعض کمروں میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث کسی کو بھی عمارت کے اس حصے میں جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔ عمارت کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ہوٹل کے مالک صدرالدین ہاشوانی نے ہوٹل انتظامیہ کے ہمراہ عمارت کا تفصیلی معائنہ کیا جس کے بعد ملبے کی صفائی کے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ہاشو گروپ کے سربراہ کے مطابق ہوٹل کی عمارت کے بنیادی ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور وہ تین ماہ کے اندر اسی عمارت میں ایک نیا ہوٹل تعمیر کر لیں گے۔ واضح رہے کہ بعض امدادی کارکن ہوٹل میں لگنے والی آگ کی شدت کے باعث اس عمارت کو ناقابل استعمال قرار دے رہے تھے۔ ملک بھر میں میریئٹ اور پرل کانٹیننٹل ہوٹلوں کے مالک کے ہوٹل کی جلد از جلد تعمیر نو کے عزم کا اظہار ہوٹل کی تباہ شدہ عمارت میں پیر کے روز شروع کیے گئے صفائی کے کام سے ہو جاتا ہے۔ ہوٹل کے باہر آگ بجھانے اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے گاڑیوں کی جگہ ملبہ صاف کرنے والے بڑے ٹرکوں اور مشینری نے لے لی ہے۔ ہوٹل کی لابی اور اس سے متصل ریسٹورنٹ سے ملبے کو دوپہر تک صاف کیا جا چکا تھا۔ صدرالدین ہاشوانی نے ہوٹل میں قائم اپنے ٹوٹے پھوٹے دفتر میں بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں قائم اپنے ہوٹلوں سے انجینئرنگ کے عملے کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے اور اس وقت پندرہ سو سے زائد افراد ہوٹل کی صفائی کے کام میں شامل ہیں۔ اس سوال پر کہ ان کے ہوٹل کو ہی بار بار بم حملوں کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے، ہاشوانی نے کہا کہ ان کا ہوٹل اسلام آباد کا نا صرف پر رونق مقام ہے بلکہ شہر کا ثقافتی مرکز بھی ہے اور اسی وجہ سے اسے ہدف بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے آگ بجھانے والے اداروں کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امدادی اداروں کے پاس ضرورت کے مطابق سامان نہ ہونے کے باعث آگ پھیلتی چلی گئی۔ صدرالدین ہاشوانی نے کہا کہ اس سانحے میں ان کے ہوٹل کے تینتالیس کارکن ہلاک ہوئے ہیں جن کے ورثا کو نا صرف معاوضہ دیا جائے گا بلکہ وہ ان کے بچوں کی کفالت کا ذمہ بھی لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل بند رہنے کے عرصے کے دوران ہوٹل ملازمین کو بیروزگار نہیں کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں ’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘21 September, 2008 | پاکستان ’عام جنگ نہیں گوریلا وار ہے‘21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان حملہ القاعدہ کے خطرے کا مظہر:بش20 September, 2008 | پاکستان ’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘20 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||