BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2008, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملے پارلیمان کی توہین: ربانی

وزیرستان میں ایک حالیہ میزائل حملہ
وزیرستان میں ایک حالیہ میزائل حملہ
سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستانی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملے پاکستانی پارلیمنٹ کی توہین ہے۔

جمعہ کے روز سینیٹ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کےسینیٹر پروفیسر خورشید احمد کی طرف سے پیش کی جانے والی تحریک التوا کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورۂ امریکہ کے درران امریکی انتظامیہ کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ امریکہ پاکستانی سرحدوں کا احترام کرے گا اور مستقبل میں حملے نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی اس چودہ نکاتی قرارداد کی متفقہ منظوری کے چند دنوں بعد امریکی جاسوس طیاروں نے حملہ کیا ہے۔ اس چودہ نکاتی قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی خود مختاری کا دفاع کیا جائے گا اور حکومت اس ضمن میں مؤثر اقدام کرے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ امریکی حملوں میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات اکھٹی کر رہی ہے اور اس معاملے کو حکومت پہلے ہی سفارتی سطح ہر اُٹھا چکی ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ چند روز قبل ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی صرف پاکستانی افواج ہی کرسکتی ہیں اور غیرملکی طاقتوں کو پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ حکومت پاکستانی فوج کو یہ اختیار دے کہ وہ پاکستانی سرحدوں اور بالخصوص امریکی طیاروں کی طرف سے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کے خلاف جوابی کارروائی کرے۔

پاکستان مسلم لیگ قاف کے سینیٹر نثار میمن نے کہا کہ حکومت کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان میں متعین امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرنا چاہیے اور اُن سے بھر پور احتجاج کرنا چاہیے۔

سینیٹر طارق عظیم نے کہا کہ پاکستانی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے احتجاج میں قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو جمعرات کو پاکستان میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے ملاقات منسوخ کردینی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی نے امریکی اعلی حکام سے ملاقات کی تھی جس میں امریکہ نے اُنہیں یقین دلایا تھا کہ مستقبل میں امریکہ پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کرےگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر آئے روز پاکستان کا دورہ کرتے رہتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں حکومت نے پاکستانی گرین کارڈ دے دیا ہو۔ طارق عظم نے کہا کہ حکومت کو ملکی معاملات میں امریکی مداخلت کو روکنا چاہیے۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز امریکی جاسوس طیاروں نے شمالی وزیرستان میں ایک مدرسے پر مزائل فائر کیے تھے جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں رواں مہینے کے دوران افغانستان سے مبینہ طور پر کئی امریکی میزائل حملے ہوئے ہیں جن میں اسی کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
ڈرون کی تاریخ
16 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد