BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 October, 2008, 20:58 GMT 01:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: ڈرون حملےمیں 20 ہلاک

فائل فوٹو
وزیرستان میں پہلی بھی کئی میزائل حملے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک مبینہ میزائل حملے میں مقامی طالبان کمانڈ محمد عمر سمیت بیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حملے میں ایک مکان مکمل طور پر تباہ جبکہ دو مکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

محمد عمر طالبان کے ہلاک شدہ کمانڈر نیک محمد کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے افغانستان میں شمالی اتحاد کے خلاف طالبان کی لڑائی میں بھی حصہ لیا تھا۔ نیک محمد چار سال قبل ایک فوجی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو رات گیارہ بجے کے قریب جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور شمال کی جانب تحصیل شکائی کے علاقہ مندتہ میں محمد عمر کے مکان پر جاسوس طیارے سے ایک میزائل داغا گیا۔

اس کے نتیجہ میں بیس افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام کے مطابق حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے لاشوں کو ملبے سے نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق میزائل گرنے کے بعد زبردست خوف و ہراس پھیل گیا لیکن اس کے باوجود بھی مدد کے لیے لوگ دور دراز علاقوں سے پہنچ گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے میرانشاہ وانا اور ملحقہ علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کی پروازوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک ہی وقت میں تین سے زیادہ جاسوس طیاریں فضاء میں گشت لگا رہے ہیں۔

عام لوگ جاسوس طیاروں اور میزائل حملوں سے سخت پریشان ہیں اور کئ دنوں سے لوگوں نے جاسوس طیاروں پر فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے تین دن پہلے شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں سراج العلوم پرجو میزائل حملہ ہوا تھا اس میں کمانڈر محمد عمر کے سات ساتھی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے افغانستان کی سرحد کے قریب انگور اڈہ میں افغانستان کے جانب سے تین امریکی ہیلی کاپیٹر انگورڈہ کے مشرقی حصہ میں موسی نیکہ زیارت کے خالی میدان میں اترے تھے جس میں امریکی اور اتحادی فوجی اہلکار سوار تھے۔

حکام کے مطابق اس واقعہ میں بھی بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جس پر حکومت نے سخت احتجاج کیا تھا۔

یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب پاکستانی پارلیمان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ قرار داد میں کہا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری کے دفاع اور قوم بیرونی جارحیت کے خلاف یکجا ہے۔

وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
طالبان سے بات چیت
مذاکرات سے مسائل حل ہوتے نظر نہیں آ رہے
گائیڈڈ میزائل حملہگائیڈڈ میزائل حملے
قبائلی علاقوں میں گائیڈڈ میزائل حملوں میں اضافہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد