BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 October, 2008, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نقل و حرکت روکنا مشکل ہے‘

کرنل سپائیزر نےساڑھے تین ماہ قبل اس علاقے کی کمان سنبھالی ہے
پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغانستان کے تین شمال مشرقی صوبوں میں امریکی فوج کے کمانڈر کا پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی آمدو رفت روکنا ایک بہت ’بڑا ٹاسک‘ ہے۔

افغانستان کے چار شمال مشرقی صوبوں ننگرہار، کنڑ، نورستان اور لغمان کی کمان سنبھالنے والے امریکی کمانڈر کرنل جان سپائیزر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اب بھی شدت پسندوں، اسلحے اور ان کے حامیوں کی آمدورفت جاری ہے البتہ وہ اس میں کمی یا اضافے کے بارے میں اعدادوشمار نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

’جو میں بتا سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہاں سے پیسے اور ہتھیاروں کے آنے میں یقیناً تھوڑی بہت کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ شاید ان کا وہیں (پاکستان) میں لڑائی میں مصروف ہونا ہوسکتا ہے۔ اس اعتبار سے میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں کچھ فائدہ ہوا ہے۔ اس برس بھی صورتحال کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔‘

 امریکی فوجی ذرائع نے بتایا کہ ان کے پاس بغیر پائلٹ طیاروں کے علاوہ ہیٹ امجنگ ٹیکنالوجی ہے جو گرمیوں کی نسبت سردیوں میں زیادہ بہتر کام کرتی ہیں۔ ان آلات کے ذریعے وہ درخت یا کسی پتھر کے پیچھے چھپے شخص کا باآسانی پتہ لگاسکتے ہیں۔

کرنل سپائیزر نے پاکستانی فوج کے اس تاثر کو درست قرار نہیں دیا کہ باجوڑ اور سوات میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کی وجہ سے طالبان نے سرحد پار افغانستان کے کنڑ علاقے میں پناہ لے لی ہے۔

حکومت پاکستان کی شکایت کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز اور وہاں موجود بین الاقوامی فوج کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سرحد پر نظر رکھیں، کرنل سپائیزر کا کہنا تھا کہ اگر چند برس پہلے کے افغانستان پر نظر ڈالیں تو یہاں کوئی باضابطہ فوج نہیں تھی، افغان پولیس تھوڑا پیچھے رہ گئی ہے لیکن وہ بھی ترقی کر رہی ہے اور افغان سرحدی پولیس بھی اب توجہ حاصل کرنے لگی ہے۔

’یہاں امریکہ، افغانستان اور میڈیا میں ایک اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ افغانستان کو ایک بڑی فوج کی ہے۔ ہمیں جو موجود ہیں انہیں بہتر تربیت اور مسلح کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تمام چیزیں اب ہو رہی ہیں۔ یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھی مزید بہت کچھ کیا جانا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ننگرہار، کنڑ اور نورستان میں ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل صرف چھ سو سرحدی پولیس موجود تھی جو اب بڑھ کر تیئس سو ہوگئی ہے۔ ’میں کہوں گا کہ پیش رفت یقیناً ہو رہی ہے۔ اس میں آئندہ چند ماہ میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔‘

ٹاسک فورس ڈیوک کے بریگیڈ کمانڈر کرنل سپائیزر سے جب پوچھا گیا کہ موسم سرما کی آمد پر طالبان کی جانب سے کارروائیوں میں وہ اضافے یا کمی کی توقع کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ روایتی طور پر سرد موسم میں کمی ہی آئی ہے وہ کبھی رکتے نہیں ہیں۔

’یہ پہاڑی درے برف سے بند ہوجاتے ہیں تو ان کی کمک نہیں آ پاتی۔ میں ان کی کارروائیوں میں کمی دیکھ رہا ہوں لیکن ہم اپنی کارروائیاں کم نہیں کریں گے۔ ہمارے پاس اسے ہر وقت مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔‘

کرنل سپائیزر کا جنہوں نے تقریباً ساڑھے تین ماہ قبل اس علاقے کی کمان سنبھالی ہے کہنا تھا کہ وہ ٹیکنالوجی اور وسائل کی اعتبار سے یقیناً اچھی حالت میں ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی میں برتری پر زیادہ روشنی نہیں ڈالیں گے جس سے ان کے دشمن کو فائدہ ہو لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ جس تعداد میں وہ افغانستان میں ہیں وہ نہیں سمجھتے وہ اس ٹیکنالوجی کے بغیر کچھ بہتر کرسکتے تھے۔

امریکی فوجی ذرائع نے بتایا کہ ان کے پاس بغیر پائلٹ طیاروں کے علاوہ ہیٹ امجنگ ٹیکنالوجی ہے جو گرمیوں کی نسبت سردیوں میں زیادہ بہتر کام کرتی ہیں۔ ان آلات کے ذریعے وہ درخت یا کسی پتھر کے پیچھے چھپے شخص کا باآسانی پتہ لگاسکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ان کے لیئے سردیوں میں زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔

اس سوال پر کہ کیا مقامی آبادی کو شدت پسندوں سے الگ کرنے کی ان کی حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی ہے، کرنل سپائیزر کا کہنا تھا کہ ان کی زیادہ تر لڑائیاں آبادی سے دور علاقوں میں ہو رہی ہیں۔

’وہ پہاڑوں میں اس لیئے جانے پر مجبور ہیں کیونکہ وہاں ہم اُن کا تعاقب نہیں کرسکتے انہیں پکڑ نہیں سکتے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس سے، افغان حکومت اور عالمی برادری کو اس بات کا موقع ملا ہے کہ وہ پرامن آبادی والے علاقوں میں ترقیاتی کام کرسکیں۔

افغان فوج ابھی اس قابل نہیں کہ حالات کو سنبھال سکے

’یہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ مقامی آبادی کو بتا سکیں کہ ہم ترقی لے کر آئے ہیں۔ سڑکیں، سکول، نہری نظام بہتر کیا جا رہا ہے۔ جو علاقے زیادہ پرامن ہیں وہاں یہ زیادہ کام ہو رہا ہے۔ لوگ اب فرق محسوس کر رہے ہیں لہذا انہیں بتایا جاتا ہے کہ پہلے علاقے سے شدت پسندوں کا نکلنا ضروری ہے۔‘

کرنل سپائیزر نے اعتراف کیا کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کے لیئے مزید فنڈز مانگتے رہتے ہیں لیکن دوسرا بڑا مسئلہ فنڈز کا استعمال بھی ہے۔

’آپ کے پاس پیسہ خرچ کرنے کا نظام بھی تو ہونا چاہیے۔ تین دہائیوں کی لڑائی سے تعلیم یافتہ محنت کشوں کی کمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں سڑکیں تعمیر کرنے والے لوگ فارغ نہیں ہیں لہذا ہم مزید سڑکیں تعمیر کر نہیں سکتے جب تک یہ پہلا منصوبہ مکمل نہ کر لیں۔ کیا میں مزید سکول کھولنا چاہتا ہوں ہاں لیکن میرے پاس اساتذہ نہیں ہیں۔ کیا میں مزید کلینک قائم کرنا چاہتا ہوں ہاں لیکن میرے پاس مطلوبہ طبی عملہ نہیں ہے۔‘

اس سوال پر کہ اتنے ترقیاتی منصوبوں اور فوج کی موجودگی کے باوجود کنڑ اور نورستان کا علاقہ کیوں حملوں اور جھڑپوں کی وجہ سے خبروں میں رہتا ہے؟ بریگیڈ کمانڈر کا کہنا تھا کہ یہ مشکل علاقہ ہے اور پاکستان کے ساتھ سرحد کی دونوں اطراف سے بہترین سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں بھی مکمل بندش ممکن نہیں۔ یہاں شدت پسندوں کے لیئے سرگرمیاں کرنا آسان ہے۔

’البتہ وہ ان علاقوں میں لڑ رہے ہیں جو ترقی پانے والے علاقوں سے دور ہیں۔ وہ ترقیاتی عمل کو نہیں متاثر کر رہے ہیں۔ اگر وہ ان علاقوں میں ساری عمر گزارنا چاہیں اور لڑنا چاہیں تو شاید وہ ایسا کر سکیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس وقت تک وہ غیرموثر غیراہم ہو جائیں گے اور پھر افغان سکیورٹی فورسز ان سے نمٹ سکیں گی۔ پھر ہماری ضرورت نہیں ہو گی۔‘

ان سے پوچھا کہ کیا ان کے ذہن میں شدت پسندوں پر مکمل قابو پانے کے لیئے کوئی ڈیڈلائن ہے تو ان کا جواب تھا نہیں۔ ’اگر ہم موجود رفتار سے چلتے رہے تو زیادہ وقت لگے گا لیکن اگر ہم افغان فوجیوں کی تربیت اور تعداد جلد از جلد بہتر بناتے ہیں۔ پھر سرحد کے اس پار کیا حالات رہتے ہیں اس کا بھی کردار ہوگا اس ساری صورتحال میں۔‘

’میرا نہیں خیال میرا بیٹا جو اب چودہ سال کا ہے اگلے چار پانچ برسوں میں یہاں آکر لڑسکے گا اور وہ فوج میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو۔ تاہم اگر اگلے سال یا اس کے بعد کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

عراق میں کافی جلد کامیابی کے قریب پہنچنے والی پالیسی کیا افغانستان میں بھی اپنائی جاسکتی ہے، اس کا جواب انہوں نے یہ کہتے ہوئے دیا کہ کچھ لوگ اس پر غور ضرور کر رہے ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان حالات یکسر مختلف ہیں۔

اسامہ بن لادن یا دیگر اہم القاعدہ رہنماؤں کی کنڑ میں موجودگی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں لیکن اگر وہ ہے تو ان کے سپاہی اسے پکڑنے کی خواہش ضرور رکھتے ہیں تاکہ ان کا ذکر ہو۔

فائل فوٹواہم قدم یا سیاسی چال
افغان حکومت اور طالبان کے خفیہ مذاکرات
’یہ غلامی ہی ہے‘
ننگر ہار میں مزدوروں نے ہارون رشید کو کیا بتایا؟
ملا عمر ملا عمر کا پیغام
’انخلاء کا فیصلہ کر لو تو محفوظ راستہ دیں گے‘
نڑے ریڈیو’نڑے کی آواز‘ ریڈیو
ایف ایم سٹیشنوں سے معلومات کی جنگ
نڑے ریڈیوتین کہانیاں
تین سابق افغان جہادیوں کی تین کہانیاں
افغانستان کے چیلنج
عراق کے بعد امریکی جنرل کا نیا امتحان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد