تین سابق جہادی، تین کہانیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی کہانی بھی عجیب و غریب دلخراش تغیرات پر مبنی ہے۔ وفاداریاں ایسے بدلی جاتی ہیں کہ شاید کوئی اتنی جلدی کپڑے بھی تبدیل نہ کرتا ہو۔ یہی کچھ دلکش وادی نڑی میں قائم امریکی فوجی کیمپ میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کیمپ سے باہر جانے کی اجازت نہیں لیکن اس کے اندر ہی ایسے دلچسپ لوگوں سے ملنا ہو رہا ہے کہ حیرت ہوئی ہے۔ تین ایسے لوگوں کی کہانیاں سننے کو ملیں جنہوں نے ماضی میں روسی فوجیوں کے خلاف مزاحمت کی، سٹنگر چلائے اور طالبان دورے حکومت میں ان کے شعبہ امنیت میں کام کیا لیکن اب یہ لوگ امریکیوں کے ساتھ ہیں۔ ان سب کے اپنے اپنے مقاصد ہیں اور وہ سب بظاہر ان کے حصول کے لیے اس اتحاد سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان سب سے باتیں فوجی اڈے کے اندر ہوئیں۔ پہلی کہانی ہے کنڑ کی دور افتادہ وادی نڑی کے شامسیر گاوں کے شیر علی کی۔ سولہ سال کی عمر میں روسیوں کے خلاف بندوق بلکہ سٹنگر اٹھانے والے اس شخص کا دعویٰ ہے کہ اس نے چار روسی طیارے گرائے۔ اس نے مزاحمت میں شرکت سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی پارٹی کے پلیٹ فارم سے کی۔ اب پینیس سال کی عمر میں وہ گاؤں میں اپنے مکان کے قریب امریکیوں کی مالی امداد سے لڑکیوں کا ایک سکول تعمیر کروا رہے ہیں اور اسی میں استاد بھی ہیں۔ چھ برس تک وہ جنگجوؤں کے ایک دس رکنی ٹیم کی روسیوں فوجیوں کے خلاف قیادت کرتے رہے۔
اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہیں پاکستانی شہر رسالپور میں تین دن تک سٹنگر چلانے کی تربیت دی گئی۔’پہلے ابتداء میں صرف ایک ایک طیارہ شکن میزائل ہمیں دیا گیا۔ ایک روسی ساخت کے مگ طیاروں کو کامیاب طریقے سے مار گرانے پر ہمیں بارہ مزید دیئے گئے۔‘ جو سٹنگر میزائل چلائے جاتے تھے ان کا بقیہ خول بھی انہیں واپس ریکارڈ کے لیے جمع کرنا ضروری تھا۔ بعد میں یہ سٹنگر جو روسیوں کی واپسی کا سب سے بڑا سبب بنے انہوں نے اپنے اعلی کمانڈر کے حوالے کر دیئے۔ اس وقت شیر علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے بندوق مقامی علماء اور مشران کے کہنے پر اٹھائی۔ اس سوال کے جواب میں کہ اب بھی ایک غیرملکی فوج کے علاقے میں موجود ہے جو بعض لوگوں کے خیال میں قابض فوج ہے تو وہ ان کے خلاف کیوں نہیں لڑ رہے؟ ان کا کہنا تھا:’روسیوں کو تھوڑے سے افغان افغانستان پر زبردستی قبضے کی غرض سے لائے تھے۔ لیکن اب تو وہ کافی بڑی تعداد میں افغانوں کی حمایت سے آئے ہیں۔‘ تاہم اس کی واضح دھمکی امریکیوں کو یہی تھی۔ ’اگر ہم نے ان میں روسیوں کی طرح کوئی غلطی دیکھی تو ہوسکتا ہم ان کے خلاف بھی جہاد کا اعلان کر دیں۔‘ پوچھا کہ امریکیوں کو کتنا وقت دیں گے تو کہنے لگے یہ ابھی اس مقام کو نہیں پہنچے ہیں۔ ’ان کو بھی دیکھیں گے لیکن انہوں نے ابھی روسیوں والا رویہ نہیں اپنایا ہے۔ یہ سکول اور ہسپتال تعمیر کر رہے ہیں۔ ان کو ہماری حمایت حاصل ہے۔‘ اس سے دریافت کیا کہ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کے بارے میں اب بھی شک ہے کہ اس علاقے میں موجود ہے اور کارروائیاں کر رہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ اب نہ تو ان کا ان سے کوئی رابطہ ہے اور نہ جانتا ہوں کہ یہاں ہے یا نہیں۔ ’میں ان سے کبھی نہیں ملا اور جو ہمارا کمانڈر تھا وہ بھی اب ان سے علیحدہ ہوچکا ہے۔‘ ضغبت اللہ مجددی کی جماعت نجات ملی کے پلیٹ فارم سے وادی نڑی کے غلام رحیم نے بھی روسیوں کے خلاف مزاحمت میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کنڑ میں ہی بریکوٹ کو فتح کرنے کے بعد خیوا کے علاقے میں لڑائیاں لڑیں۔’ہمارے مورچے آج بھی وہاں موجود ہیں۔ میں جلال آباد اور کابل فتح ہونے کے وقت بھی وہاں پہنچنے والے پہلے لوگوں میں سے تھا۔‘
وہ دوسرا فرق اتحادی افواج کے اقتصادی اور ترقیاتی منصوبے بتاتے ہیں۔’روسی صرف مارا کرتے تھے اور ان کا رویہ افغانوں کے ساتھ درست نہیں تھا۔‘ غلام رحیم کہتے ہیں کہ اب دنیا کی سیاست تبدیل ہو چکی ہے۔ اب سب کوششیں اقتصادی ترقی کے لیے کرتے ہیں۔’جو بھی اس اقتصادی جنگ میں افغانستان کی مدد کرے گا وہ کامیاب ہوگا۔ اگر کوئی کہے کہ وہ پانچ برس تک امریکیوں کو وقت دے کر دیکھیں گے اور پھر ان کے خلاف کارروائی کریں گے یہ درست سوچ نہیں ہے۔‘ اس کا کہنا تھا کہ روس کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں ان کے گاؤں کے گاؤں روسیوں نے بمباری کرکے تباہ کر دیئے تھے جبکہ شیر علی کا کہنا تھا کہ ان کے کئی رشتہ دار اس بمباری میں ہلاک ہوئے۔ تیسری کہانی اس عنایت الرحمان نامی اس طالب کی ہے جو طالبان کے دورےِ حکومت میں دو برس تک کابل میں امنیت کے محکمے میں فرائض انجام دیتے رہے لیکن اب افغان فوج میں ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ دل سے تاہم اس نورستانی کا ماننا ہے کہ وہ اب بھی طالبان کے حامی اور ساتھی ہیں۔
ان سے پوچھا کہ وہ اپنے مقاصد کس طرح حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ قرآن کی اپنی برکت یہ ہے کہ جس تک پہنچتا ہے وہ اس سے ہدایت حاصل کرتا ہے۔ وہ آج بھی پرامید ہے کہ طالبان کی اسلامی حکومت افغانستان میں دوبارہ ضرور آئے گی۔ ’قربانیاں اور خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||