’یہ غلامی نہیں تو اور کیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ مراسلہ افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے صدر مقام جلال آباد کے ہوائی اڈے سے لکھ رہا ہوں جس کا اصل نام تو ننگرہار ہوائی ڈگر ہے لیکن امریکی قبضے کے بعد سے یہ اتحادی افواج کے ایک بڑے اڈے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہاں سے کبھی آریانہ فضائی کمپنی کے طیارے پروازیں کیا کرتے تھے لیکن اب یہاں فوجی راج ہے۔ صرف اتحادی افواج، جن میں اکثریت امریکیوں کی ہے، یہاں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اتحادی فوجی طیارے، جن میں پاک افغان سرحد پر نظر رکھنے والے بغیر پائیلٹ کے جاسوسی طیارے شامل ہیں، دن رات پروازیں کرتے رہتے ہیں۔ اس ائیر بیس سے افغانستان کے ننگرہار سمیت چار مشرقی صوبوں میں جاری فوجی سرگرمیوں کا انتظام سنبھالا جاتا ہے۔ باقی تین صوبوں میں کونڑ، نورستان اور لغمان شامل ہیں۔ لیکن فوجیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں مقامی افغان بھی مختلف حیثیتوں میں یہاں کام کرتے ہیں۔ تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والے اکثر مزدور روزانہ کام پر آتے ہیں تو وہیں ایسے بھی ہیں جو مستقل بنیادوں پر یہاں کام کے ساتھ ساتھ رہائش اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ کابل کے قریب واقع بگرام بیس کی نسبت یہاں کام کرنے والوں کی اکثریت فارسی بولنے والوں کی ہے۔ جلال آباد میں اکثریت پشتونوں کی ہے۔ ان کی تعداد تقریبا دو ہزار کے قریب ہے۔ باہر سے آئے کسی شخص کے ساتھ انہیں بغیر اجازت بات کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ مجھے بھی ایک امریکی فوجی اور اس کے مترجم کی موجودگی میں ان مقامی کارکنوں میں سے چند سے بات کرنے کی اجازت ملی۔ یہ انٹرویوز ان کی موجودگی میں ہوئے۔ علی فوج کے قانونی امور کے شعبے میں گزشتہ دو برس سے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف اتحادی افواج کی خدمت نہیں بلکہ تمام افغانستان کی مدد کرتے ہیں۔ ’ہمارا ملک گزشتہ تیس برسوں کی لڑائی سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہمارا نوجوان طبقہ چاہتا ہے کہ ہم کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں۔‘ پوچھا کہ یہاں کام کرنا کیسا لگتا ہے تو اس کا کہنا تھا کام تو کام ہے پیٹ بھرنے کے لیئے کرنا ہی ہے۔ اتحادی افواج کے لیئے کام کرنے میں کسی قسم کا عار محسوس نہ کرنے کا تاثر دیتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں میں ملک کی خدمت کر رہا ہوں۔‘ مشکلات کے بارے میں دریافت کیا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ تو سارے افغانستان کو درپیش ہیں صرف اسے نہیں۔ ’جہاں امن نہ ہو جہاں سکیورٹی نہ ہو وہاں کیا میں اور کیا کوئی اور۔‘ پوچھا کہ بعض افغانوں کا ماننا ہے کہ یہ قابض فوج ہے اور اس کے ساتھ کام کرنا درست نہیں تو علی نے جواب دیا کہ افغانستان کی پچہتر فیصد آبادی ناخواندہ ہے۔ ’وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں۔ یہ ملک پر قبضے کے لیئے آئے ہیں یا اس کی خدمت کے لیئے آئے ہیں۔‘ نوجوان محمد اسماعیل بھی اسی شعبے میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس نوکری سے خوش نہ ہوتا تو یہاں نہ ہوتا۔ ان کا خطرے کے بارے میں کہنا تھا کہ انہوں نے خطرہ قبول کیا ہے تاکہ اپنے ملک کو خطرے سے باہر نکال سکیں۔ ان سے مستقبل کے بارے میں دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر غیرملکی فوج ملک سے چلی جائے تو انہیں امید ہے کہ حکومت انہیں نوکری دے گی۔ ’یہاں کام کا تجربہ اتنا ہوگیا ہے کہ نوکری کا مسئلہ نہیں ہوگا۔‘ جلال آباد کے اس اڈے پر تعمراتی کام بھی جاری ہے۔ عارضی خیموں اور لکڑی کے کمروں کی جگہ یہاں اب مستقل عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ بڑی تعداد میں مزدور روزانہ کی بنیاد پر یہاں ڈھائی سو روپے کے عوض کام کرنے آتے ہیں۔ انہیں یہ مزدوری پاکستانی روپے میں ادا کی جاتی ہے۔ محمد زمان بھی اس بیس پر کافی عرصے سے ٹھیکیداری کر رہے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ انہیں باقی علاقے کے حساب سے ہی مزدوری ملتی ہے اور کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کا بھی کہنا تھا کہ اسے بھی کوئی دھمکی اب تک نہیں ملی ہے اور صورتحال پرامن ہے۔ یہ سب باتیں تو ایک فوجی کی موجودگی میں ہوئیں لیکن ایک ملازم سے بغیر ٹیپ کے اکیلے میں بات ہوئی تو اس نے کہا کہ غلامی تو غلامی ہے۔ غیرملکی فوجیوں کی موجودگی کی جانب اس نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’غلامی نہیں تو اور کیا ہے؟‘ (ہارون رشید افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ سفر کر رہے ہیں) | اسی بارے میں ’افغانستان: فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس لڑائی میں’درجنوں طالبان ہلاک‘12 October, 2008 | آس پاس طالبان پروپیگنڈے سے نمٹنے کا منصوبہ10 October, 2008 | آس پاس طالبان سے بات کی جا سکتی ہے: گیٹس07 October, 2008 | آس پاس افغان پولیس سربراہ کو قتل کر دیا28 September, 2008 | آس پاس جنگ پاکستان آنے کا خطرہ: طارق علی 23 September, 2008 | آس پاس ’ضرورت پرکارروائی سےگریز نہیں‘19 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||