BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 October, 2008, 14:57 GMT 19:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف ایم ریڈیو، ایک پرخطر نوکری

نڑے کی آواز
امریکی فوج کا ماننا ہے کہ طالبان کے بیانات کا موثر طور پر جواب دینے اور ان کا مقابلہ کرنے کی غرض سے یہ ریڈیو انتہائی اہم ہے

افغانستان میں موجود امریکی فوجی جہاں بندوق اور جنگی طیاروں کے ذریعے طالبان کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں وہ اپنے ساتھ دور دراز کے علاقوں میں فوجی اڈوں پر ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کی مدد سے معلومات کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔

ایسا ہی ایک ریڈیو سٹیشن افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ میں پاکستانی سرحد کے قریب نڑے کے مقام پر کام کر رہا ہے۔ تقریباً پندرہ ہزار فٹ تک بلند پہاڑوں میں گھرا نڑے ارندوں کے سرحدی مقام سے محض آٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقعہ یہ ایک گاؤں ہے۔

امریکی افواج جلال آباد کے قدرے پرامن ہونے پر جہاں اطمینان کا سانس لے رہے ہیں وہیں وہ اب کنڑ اور نورستان کو اگلے میدان جنگ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں وقتاً فوقتاً القاعدہ اور طالبان کی قیادت کے چھپے ہونے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

اسی لیے تقریباً چار برسوں سے امریکی اڈے پر قائم اس نڑے ریڈیو کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک امریکی فوجی اہلکار کے مطابق مقامی آبادی کے دل و دماغ جیتنے کے لیے یہ ریڈیو اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ طالبان کے بیانات کا موثر طور پر جواب دینے اور ان کا مقابلہ کرنے کی غرض سے یہ ریڈیو انتہائی اہم ہے۔

’نڑے غگ‘ یعنی نڑے کی آواز نامی اس ریڈیو سے روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کی نشریات کی جاتی ہیں۔ اس میں مذہبی، شاعری، موسیقی،خبریں، سامعین کے خطوط اور لوگوں کے انٹرویوز پر مبنی پروگرام شامل ہیں۔ یہ پروگرام پشتو کے علاوہ گوجر، نورستانی اور کوہستانی زبانوں میں بھی کیے جاتے ہیں۔ یہ چترال تک سنا جاتا ہے۔

خبروں میں اکثر بی بی سی کی خبروں کے ترجمے شامل ہوتے تھے تاہم مقامی سطح پر اتحادی افواج اور افغان حکومت کے بیانات بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ آج کل پندرہ منٹ کی یہ خبریں دن میں تین مرتبہ ہی نشر کی جاتی ہیں۔

فوجی اڈے کے ایک کونے میں قائم اس سٹیشن کو اگر باہر سے دیکھیں تو اس میں توجہ حاصل کرنے والی ایسی کوئی خاص بات نہیں۔ درجنوں قسم کی اینٹنوں میں اس کا ٹرانسمٹر بھی پلائی وڈ کے بنے کے کمرے کے اوپر نصب ہے۔

اس سٹیشن کے کمرے میں داخل ہوں تو دیوار کے ساتھ لگی میزوں پر پرانے ناکارہ ٹیپ ریکارڈروں کے ساتھ ساتھ درجنوں کیسٹیں اور ہاتھ سے لکھے کاغذوں کے ڈھیر نظر آئیں گے۔ افغانستان کا قومی پرچم بھی ایک دیوار پر لٹکا ہوا ہے۔ یہی سٹوڈیو ہے اور یہی کمرہ اس سٹیشن کا دفتر بھی۔ میزبان لائیو ہو یا نہ ہو، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔

 اس سٹیشن کے کمرے میں داخل ہوں تو دیوار کے ساتھ لگی میزوں پر پرانے ناکارہ ٹیپ ریکارڈروں کے ساتھ ساتھ درجنوں کیسٹیں اور ہاتھ سے لکھے کاغذوں کے ڈھیر نظر آئیں گے۔ افغانستان کا قومی پرچم بھی ایک دیوار پر لٹکا ہوا ہے۔ یہی سٹوڈیو ہے اور یہی کمرہ اس سٹیشن کا دفتر بھی۔ میزبان لائیو ہو یا نہ ہو، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔

میں داخل ہوا تو پشتو کا ایک پروگرام جاری تھا جس میں گیتوں کے درمیان میں میزبان اہم افغان شخصیات کا تعارف ایک موٹی سی کتاب سے پڑھتا رہتا تھا۔ اردو کا ایک گانا چلانے کے بعد میزبان سفر خان جو ماضی میں فضائی انجینئر تھے نے مجھے خوش آمدید کہا۔

ان سے دریافت کیا کہ کیا آیا انہیں سننے والوں کی آراء ٹیلیفون یا کسی اور ذریعے سے موصول ہوتی ہے تو انہوں نے بتایا کہ فون کا نظام تو موجود نہیں لیکن سامعین اپنے خطوط کے ذریعے انہیں تجاویز اور فرمائشوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے بقول زیادہ غیرمعمولی بات گھریلوں خواتین کا ان کے پروگراموں میں دلچسپی لینا ہے۔

انہوں نے کئی خطوط دکھائے بھی جن میں نوجوانوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ پھول اور زخمی دل بنا کر ارسال کیے ہوئے تھے۔ ریڈیو کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے فوجیوں نے یہاں ماضی میں مفت ریڈیو سیٹ بھی تقسیم کیے ہیں۔

ایک فوجی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے لوگوں سے بارودی سرنگوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی تو روزانہ لوگوں نے اڈے پر اس قسم کی آگاہی دینے آنا شروع کر دیا۔ اسی طرح جب ریون نامی ایک جاسوس طیارہ لاپتہ ہوگیا تو اس کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک شخص اس کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔

اس سٹیشن کی کامیابی کے بعد ہی اتحادی افواج نے اس قسم کے سٹیشن دیگر اڈوں پر بھی قائم کیے۔

افغانستان میں خواندگی کی شرح سب سے کم ہے اور وہاں کئی دہائیوں سے تفریح اور معلومات کے لیے ریڈیو مقبول ترین ذریعے ہے۔ اگرچہ سیٹلائیٹ ٹی وی یہاں موجود ہے لیکن مہنگے ہونے کی وجہ سے اکثریت کی دسترس سے باہر ہیں۔

ریڈیو ٹرانسمٹر
اس ریڈیو سے پروگرام پشتو کے علاوہ گوجر، نورستانی اور کوہستانی زبانوں میں بھی کیے جاتے ہیں اور یہ چترال تک سنا جاتا ہے۔

اس ریڈیو کے علاوہ نڑے کے فوجی اڈے سے پشتو زبان میں ایک ہفت روزہ بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔ ’اولس ارمان‘ یعنی لوگوں کے ارمان نامی اس رسالے کو مقامی آبادی میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس ہفتے کے شمارے میں افغان کابینہ میں ردوبدل کے امکانات کے علاوہ جاری افغان اور اتحادی افواج کے منصوبوں کے بارے میں معلومات شائع کی گئی ہیں۔

چھاپہ خانوں کی عدم موجودگی میں یہ چار پانچ صفحات پر مشتمل ہفت نامہ پرنٹر کی مدد سے رنگین چھاپا جاتا ہے۔ اس کے مدیر محمد اسماعیل نورستانی کہتے ہیں کہ اگر طالبان اپنے بیانات انہیں فراہم کریں تو وہ ان کی بات بھی شائع کریں گے اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’انہوں نے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔‘

پشاور میں تعلیم حاصل کرنے والے محمد اجمل آج کل اس ہفت نامے کے مترجم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ اخبار نہ ہوتا تو وہ بےروزگار ہوتے کیونکہ پڑھے لکھے لوگوں کے لیے ان کے علاقے میں مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ’شاید پاکستان میں ہی رہتے اب تک۔‘

لیکن یہ ایک پرخطر نوکری بھی ہے۔ یہ علاقہ پائیدار امن سے ابھی کوسوں دور ہے۔ ایک دوسرے ملازم نے بتایا کہ یہاں کام کرنے پر ان کے رشتہ داروں نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ کب کی پڑھی ہوئی ہے۔ اس طرح کے اڈوں پر کام کرنے والے ماضی میں قتل ہوتے رہے ہیں۔

سرحد کے اس پار
ہارون رشید افغانستان میں کیا کر رہے ہیں؟
’یہ غلامی ہی ہے‘
ننگر ہار میں مزدوروں نے ہارون رشید کو کیا بتایا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد