ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | ڈمہ ڈولہ پر حملہ نئی امریکی حکمتِ عملی کا پیش خیمہ تھا |
دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں تقریبا اڑھائی برس قبل امریکہ نے پہلی مرتبہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پہلا وار باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر جنوری دو ہزار چھ میں کیا تھا۔ اس سے قبل بھی اکا دوکا حملے ہوئے اور سرحدی خلاف ورزیاں بھی ہوئیں لیکن ڈمہ ڈولہ باضابطہ آغاز تھا ایک نئی امریکی پالیسی کا۔ اس حملے میں سترہ افراد کی ہلاکت کی خبر اور دیگر معلومات حاصل کرنے کے لیے باجوڑ پہنچا تو مقامی انتظامیہ نے بغیر اجازت آنے کے الزام میں دفتر طلب کر لیا۔ اس وقت کے پولیٹکل ایجنٹ سے اس موقع پر تین گھنٹے کی حراست کے دوران کافی گرماگرم بحث ہوئی۔ پولیٹکل ایجنٹ نے الزام لگایا کہ آپ کی جلی بُھنی رپورٹوں سے لوگ مشتعل ہوتے ہیں اس لیے صحافیوں پر پابندی ضروری ہے۔ میرا موقف تھا کہ اگر یہ حملہ امریکہ نے کیا ہے تو اگر ہم بحثیت قوم اس وقت اس پر احتجاج نہیں کریں گے تو کل وہ اسلام آباد پر بھی حملہ کریں گے اور ہم کچھ نہیں کرسکیں گے۔ وہ دن شاید آگیا ہے۔ اسلام آباد اب بظاہر امریکہ کے قبضے میں ہے۔ وزیر اعظم کے بیانات، وزارت خارجہ کا امریکی سفیر کو طلب کرنا اور اخبارات کی حد تک چند سیاستدانوں کے مذمتی بیانات کی اب کوئی حیثیت نہیں رہی۔ یہ تو چھوڑیں منتخب ایوان کی کوئی عزت نہیں رہی۔ یہاں کوئی ان حملوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فورا ایک اور حملے کی صورت میں اس حملے کا واضح جواب دے دیا جاتا ہے۔ حکمراں تو شاید مصلحتوں کے ہمیشہ شکار رہتے ہیں لیکن پاکستانی میڈیا بھی اس سب کو بھلا کر امریکی صدارتی انتخابات کی ایسے کوریج کر رہا ہے جیسے پاکستان امریکہ کی ایک ریاست ہیں۔ میزائل حملوں کی خبریں کہیں انتخابی خبروں میں چھپ سے گئی ہیں۔ قبائلی علاقہ بھی جیسے پاکستانی اور امریکی افواج کے درمیان تقسیم کر دیا گیا ہے۔ شمال میں سوات اور باجوڑ پاکستانی جبکہ جنوب میں وزیرستان امریکی اور نیٹو افواج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں پر وہاں تو امریکیوں نے یہاں دباؤ بنا رکھا ہے۔ امریکہ کی ترجیح افغانستان میں جبکہ پاکستان کی اپنے ملک میں امن کی ہے۔ مقصد ایک ہوتے ہوئے بھی دونوں الگ الگ پچ پر کھیل رہے ہیں۔ کئی لوگوں کے خیال میں اس وقت ضرورت ملکی خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کی نہیں بلکہ ملک کو شدت پسندی سے بچانے کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حملے شدت پسندی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں یا اضافے کا۔ وانا میں فوجی قافلے پر آج کا حملہ اس کی واضح مثال ہے۔ |