’امریکہ حکمت عملی بدل رہا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق واشنگٹن نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے مزید حملوں کے لیے زمیینی دستوں کے بجائے اب فضائی کارروائیوں کا سہارا لینا شروع کیا ہے۔ اخبار کے مطابق واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی حکومت پاکستان کی جانب سے زمینی کارروائیوں پر شدید احتجاج کے بعد تبدیل کی ہے۔ فضائی حملوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔اگست سے لیکر اب تک قبائلی علاقوں میں ڈرون طیاروں سے کم سے کم اٹھارہ حملے کیے گئے ہیں جبکہ سال رواں کے پہلے سات مہینوں میں ایسےحملوں کی تعداد صرف پانچ تھی۔ لیکن افسران کے حوالے سے اخبار لکھتا ہے کہ صرف فضائی حملوں سے امریکہ قبائلی علاقوں پر القاعدہ کی گرفت مستقل طور پر ختم نہیں کر سکتا۔ بعض امریکی افسران کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک زمینی دستے قبائلی علاقوں میں داخل ہوکر مشتبہ افراد کو گرفتار نہیں کرتے، القاعدہ کے سرکردہ رہنماؤں کے بارے میں ٹھوس معلومات حاصل نہیں ہوسکتی۔ لیکن ڈرون طیاروں سے ’ہیلفائر‘ میزائلوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے لگتا ہے کہ بش انتظامیہ کے آخری دنوں میں القاعدہ کے خلاف امریکہ کی کسی بڑی کامیابی کے امکانات اب معدوم ہوتے جارہے ہیں۔ صدر بش نے جولائی میں اس بات کی اجازت دی تھی کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر زمینی کارروائی کی جاسکتی ہے کیونکہ امریکہ شدت پسندوں کے خلاف پاکستان کی کارروائی سے خوش نہیں تھا۔ لیکن اخبار کے مطابق تین ستمبر کو انگور اڈے کی کارروائی کے بعد پاکستان نے جس شدت سے احتجاج کیا اس پر امریکی افسران بھی حیرت زدہ رہ گئے۔ لیکن امریکی انتظامیہ کے ایک اعلی اہلکار نے اخبار کو بتایا کے زمینی کارروائیوں کے عوض ڈرون طیاروں کے حملوں میں اضافہ کرنے کے بارے میں دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی مفاہمت نہیں ہوئی ہے اور یہ کہ ضرورت پڑنے پر زمینی دستے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس اہلکار نےنام ظاہر نہ کرن کی شرط پر کہا کہ ایسے علاقوں میں بھی، جہاں پاکستانی حکومت کی اپنی فرما روانی نہیں ہے، پاکستان کی خود مختاری کا مکمل احترام کرنے اور اپنی افواج کے تحفظ کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق سی آئی نے پاکستان کے اندر اپنے اہداف کی فہرست میں اضافہ کیا ہے اور قبائلی علاقوں میں (عسکریت پسندوں کے درمیان بات چیت سن پانے کی غرض سے ) نظام بہتر بنانے کے لیے حکومت کی اجازت لی ہے۔ پہلے ڈرون طیاروں کا استعمال صرف القاعدہ کے سرکردہ رہنماؤں کو قتل کرنے کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب ان طیاروں کو بہت سے دوسرے اہداف کو نشانہ بنانے کےلیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اور ان میں سے بہت سے حملے افغانستان کی سرحد کے نزدیک ہی نہیں پاکستان کے علاقے میں پچیس میل اندر جاکر بھی کیے جارہے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس نے اس مضمون کے سلسلے میں اخبار سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن اخبار کا کہنا ہے کہ یہ تمام معلومات اس نے تقریباً ایک درجن امریکی اور پاکستانی افسران سے بات چیت کے ذریعہ حاصل کی ہے جو اپنے نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکہ کی کونسل آن فارین ریلیشنز کو اس ماہ بتایا کہ مخصوص اہداف کے خلاف فوجی آلات استعمال کرنے کے بارے میں دونوں ملک تعاون کر رہے ہیں۔ اگرچے ڈرون طیاروں کے حملوں میں عام شہریوں کے مارے جانےکی اطلاعات آئے دن آتی رہتی ہیں لیکن فوجی افسران نے اخبار کو بتایا کہ فضائی کارروائیوں سے عسکریت پسند پاکستان کے علاقے میں زیادہ اندر جانے اور رابطے کے لیے اپنے موبائل اور سیٹلائٹ فون استعال کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ امریکی ماہرین جاسوسی کے آلات سے ان کی بات چیت سن سکتے ہے۔ |
اسی بارے میں وزیرستان:میزائل حملہ، پانچ ہلاک16 October, 2008 | پاکستان شمالی وزیرستان: بچے، عورتیں ہلاک05 September, 2008 | پاکستان وزیرستان: میزائل حملہ، پانچ ہلاک04 September, 2008 | پاکستان میزائل حملے میں چار افراد ہلاک30 August, 2008 | پاکستان وانا میں ’میزائل حملہ‘ چھ ہلاک20 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میں سرحد پار سے حملہ18 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میزائل حملہ، 12 ہلاک13 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||