پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی اور جنوبی وزیرستان میں میزائل حملوں میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سرحد پار سے کیے جانے والے حملوں کے تواتر کے ساتھ ساتھ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تناؤ کی صورت حال بھی پیدا ہوئی ہے۔ جس کے بعد امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نے سترہ ستمبر کو پاکستانی وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کی اور کہا کہ ’پاکستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا‘۔۔۔ تاہم اسی شام امریکی جاسوس طیاروں نے جنوبی وزیرستان کے باغاڑ چینا علاقے میں میزائل داغے، جس سے پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ سالِ رواں میں ہونے والے اس طرح کے حملوں میں مقامی طالبان کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
| سترہ ستمبر، باغاڑ چینا، جنوبی وزیرتسان |
مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بدھ کی شام امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے جس سے پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ حکام نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے باغاڑ چینا علاقے میں چار میزائل داغے گئے جن میں سے دو ایک گھر پرگرے اور دو پہاڑیوں پر لگے۔ اگلے روز حکومتِ پاکستان نےکہا کہ امریکہ نے اسے میزائل حملے کی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی اور اس طرح کے یک طرفہ حملوں سے حالات میں بہتری آنے میں مدد نہیں ملےگی۔ واضح رہے کہ پندرہ ستمبر کو انگور اڈہ کے قریب افغانستان کے علاقے میں امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کی آمد پر پاکستانی فوجیوں نے ہوائی فائرنگ کی تھی۔ انگور اڈہ باغاڑ چینا سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق امریکی جہازوں کے اترنے کے بعد قریبی پہاڑی سلسلوں میں موجود پاکستانی فوج کے ٹھکانوں سے بگل بجائے گئے اور فائرنگ بھی کی گئی۔
تاہم ان رپورٹوں کی اشاعت اور پاکستانی حکام کی جانب سے ان پر سخت ردعمل کے باوجود میزائل حملوں کا سلسلہ تھما نہیں اور جمعہ بارہ ستمبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں نے ایک مکان اور پرائمری سکول کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔
| آٹھ ستمبر، ڈانڈے درپہ خیل |
آٹھ ستمبر کو جاسوس طیاروں نے شمالی وزیرستان میں ڈانڈے درپہ خیل میں واقع طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے کو سات میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے۔ اسی دوران امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مائیک مولن نے امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیا کہ امریکہ طالبان سے متعلق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہا ہے جس کے تحت اب سرحد پار کر کے پاکستان کے اندر طالبان پر بھی حملے ہو سکتے ہیں اور پھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ بھی منظرِ عام پر آئی جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر بش نے جولائی میں پاکستانی حکومت کو مطلع کیے بغیر پاکستان کی حدود میں کارروائی کی خفیہ اجازت دی تھی۔
اس کارروائی سے اگلے ہی دن چار ستمبر کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے علاقہ چارخیل میں رحمن والی خان اور فرمان نامی افراد کے مکان پر تین میزائل گرے، جس کے نتیجہ میں پانچ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان نے لاشوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا اس لیے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک ہونے والے مقامی ہیں یا ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
تین ستمبر کو امریکی فوج نے جنوبی وزیرستان میں موسی نیکہ کے علاقے میں زمینی کارروائی کی جس میں قریباً بیس مقامی افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔
ماہِ اگست کے آخری دن شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے قریباً پندرہ کلومیٹر مشرق کی جانب علاقہ تپئی میں داوڑ قبیلے کے ایک رکن سوار خان داوڑ کے مکان پر میزائل حملہ ہوا جس کے نتیجہ میں چار افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔
سات دن کے بعد بیس اگست کو جنوبی وزیرستان میں ہی افغانستان سے داغے گئے دو میزائل زیڑی نور میں یعقوب مغل خیل وزیر نامی قبائلی کے مکان پر گرے جس سے کم از کم چھ لوگ ہلاک ہو گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پنجابی طالبان اور غیر ملکی عرب شامل تھے۔
اٹھائیس جولائی کا حملہ مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے سرحد پار پاکستانی علاقے میں کارروائیوں میں آنے والی حالیہ تیزی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا اور تیرہ اگست کو وانا سے تیس کلومیٹر دور افغان سرحد کے قریب علاقہ باغڑ میں ایک مکان پر چار میزائل گرے جس سے ایک درجن سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق اس مکان میں ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان جنگجو رہائش پذیر تھے جو حملے کا نشانہ بنے۔
| اٹھائیس جولائی، اعظم ورسک |
جولائی کے آخر میں جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں ایک میزائل حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے جن میں اطلاعات کے مطابق القاعدہ کے اہم رہنما اور بم بنانے کے ماہر مدحت مصری المعروف ابوخباب المصری بھی شامل تھے۔
گیارہ جون کو امریکہ کی جانب سے پاکستانی حدود میں کارروائی کا ایک اور واقعہ پیش آیا جب امریکی طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ایک ٹھکانے پر بمباری کر دی جس کے نتیجہ میں گیارہ اہلکاروں سمیت انیس افراد ہلاک ہوگئے۔
چودہ مئی کو باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ کے گاؤں پوی کلی میں جاسوس طیاروں کے حملے کا تیسرا واقعہ پیش آیا۔ اس حملے میں طیاروں سے عبیداللہ نامی شخص کے گھر پر دوگائیڈ ڈ میزائل داغے گئے جن سے تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے چار افراد کا تعلق تحریک طالبان سے بتایا گیا۔ اس حملے کے بعد پہلی مرتبہ حکومتِ پاکستان نے سرکاری طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ایک گھر پر ہونے والا میزائل حملہ امریکہ نے کیا تھا۔
قریباً دو ہفتے بعد سولہ مارچ کو جنوبی وزیرستان کا گاؤں شاہ نواز کوٹ میزائل حملے کا نشانہ بنا۔ حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔پاکستانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں عرب نژاد غیر ملکیوں کے علاوہ کراچی کے کور کمانڈر پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مطلوب ڈاکٹر وحید ارشد بھی شامل تھے۔
دوسرا حملہ اٹھائیس فروری کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے قریباً دس کلومیٹر مغرب کی جانب افغان سرحد کے قریب اعظم ورسک کے علاقے کالوشہ میں ہوا اور اس میں آٹھ طالبان ہلاک ہوگئے۔مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ترکمان، عرب اور پنجابی طالبان شامل تھے۔
اس برس میزائل حملے کا پہلا واقعہ انتیس جنوری کو پیش آیا جب شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں خوشحالی میں ستار نامی شخص کے مکان پر ایک میزائل لگا جس کے نتیجہ میں مقامی حکام کے مطابق بارہ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں القاعدہ کے رہنما ابو الليث اللبي بھی شامل تھے۔ |