BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 20:45 GMT 01:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈمہ ڈولا میں میزائل حملہ، سات ہلاک‘

ڈمہ ڈولا(فائل فوٹو)
ڈمہ ڈولا کا ہی ایک مدرسہ ماضی میں بھی میزائل حملے کا نشانہ بنا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم طالبان نے دعوٰی کیا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے ایک گھر کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے واقعہ کی نوعیت سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ بدھ کی رات تقریباً آٹھ بجے باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ کے گاؤں پوی کلی میں واقع عبیداللہ نامی شخص کے گھر پر بغیر پائلٹ اڑنے والے طیاروں سے دو گائیڈ ڈ میزائل داغے گئے ہیں جن میں بقول ان کے تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔

ان کے بقول ہلاک ہونے والے چار افراد کا تعلق تحریک طالبان سے ہے۔تاہم آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

مولوی عمر نے الزام لگایا کہ حملہ امریکی طیاروں نے کیا ہے۔ مبینہ حملے کا نشانہ بننے والے گھر کے مالک عبیداللہ کے بارے میں مولوی عمر کا دعوٰی تھا کہ ان کا طالبان کی تحریک سے کسی قسم کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے اور اس گھر میں خواتین اور بچوں سمیت تقریباً پچیس افراد رہتے ہیں۔

مولوی عمر کا کہنا تھا کہ اس حملے کا حکومت اور طالبان کے درمیان جاری بات چیت پر کسی قسم کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا البتہ بقول ان کےطالبان نے ہمیشہ اپنے ’ شہیدوں‘ کا بدلہ لیا ہے۔

ا س سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ اس میں بعض ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ میزائل حملہ ہے یا بم دھماکہ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز ملوث نہیں ہیں۔

افغانستان کے سرحد کے قریب واقع باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران ہونے والا یہ تیسرا میزائل حملہ ہے۔اس سے قبل جنوری دوہزار چھ میں تحصیل مامون کے ایک سرحدی گاؤں میں اتحادی افواج کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے جبکہ اسی سال تیس اکتوبر کو چینگئی میں واقع ایک مدرسے پر پاکستانی فوج کے مبینہ فضائی حملے میں اسی سے زائد طالبعلم ہلاک ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں نے حملے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی تھی جبکہ پاکستان حکومت نے کہا تھا کہ مدرسہ کو انہوں نے حملے کا نشانہ بنایا کیونکہ اس سے’دہشت گردوں کی تربیت’ کے لیےاستعمال کیا جا رہا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد