BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 October, 2008, 07:38 GMT 12:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی میزائل حملے، ہلاکتیں بیس
ڈمہ ڈولہ: فائل فوٹو
ماضی میں امریکی طیاروں کی بمباری کا نشانہ زیادہ تر عام شہری بنے تھے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جمعہ کو امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے دو گھروں کو میزائلوں سے نشانہ بنائے جانے کے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بیس بتائی جا رہی ہے۔

اس سے قبل مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی اردو کے نمائندے دلاور خان وزیر سے بات کرتے ہوئے ان حملوں کے نتیجے میں پندرہ افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بھی بیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا قیاس ہے کہ ہلاک شدگان میں سے متعدد غیر ملکی شدت پسند تھے تاہم اس سلسلے میں فوج کو تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعہ کی شام دس بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے کوئی پچیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب علاقے لانڈے محمد خیل میں داؤد جان اور عبدالرحمن نامی قبائلیوں کےگھروں کو امریکی جاسوس طیاروں نے نشانہ بنایا اور اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں دس مقامی طالبان بھی شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق داؤد جان اور عبدالرحمن دو بھائی ہیں جن کا تعلق افغانستان کے علاقے خوست کے تانڑئی قبیلے سے بتایا جاتا ہے جو تیس سال سے یہاں مقیم تھے۔ مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ داؤد جان کا مقامی طالبان سے تعلق تھا اور ان کے گھر میں ہروقت مقامی طالبان اور افغان طالبان آتے جاتے تھے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ میزائل حملے کے وقت مقامی طالبان کا داؤد جان کے گھر میں کھانے کا پروگرام تھا۔انہوں نے کہا کہ عبدالرحمن کے گھر میں دوخواتین اور ایک بچہ ہلاک ہوگیا ہے۔

لوگوں نے بتایا تھا کہ حملے کے بعد مقامی طالبان نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کسی کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسرے علاقے سے مقامی طالبان لاشوں کو ملبےسے نکالنے کے لیے محمد خیل پہنچ گئے تھے۔

دہشتگردی کی جنگ
’سات سال میں دو ہزار سے زائد جنگجو ہلاک‘
فوج’پر امید نہ ہوں‘
’یہ جنگ مزید چند برس چلے گی‘
’طالبان کینسر ہیں‘
ملک سے طالبان کا صفایا کر دیں گے:صدر زرداری
اسی بارے میں
تیس طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ
13 September, 2008 | پاکستان
خار کا محاصرہ، متضاد دعوے
10 August, 2008 | پاکستان
باجوڑ میں بیس جنگجو ہلاک
11 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد