BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 October, 2008, 11:56 GMT 16:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سینکڑوں غیر ملکی جنگجو ہلاک‘

پاکستان فوج
میجر مراد نے کہا ہے کہ تین سو تیس غیر ملکیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے
پاکستان فوج نے دعوی کیا ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف گزشتہ سات سال سے جاری جنگ‘ کے دوران ملک میں مجموعی طور پر پانچ سو اکیاسی غیر ملکی جنگجوؤں اور بائیس سو چوالیس مقامی عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننے کے بعد پاکستان نے غیر ملکیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک پانچ سو اکیاسی غیر ملکی جنگجؤوں کو ہلاک جبکہ تین سو گیارہ کو زخمی کیا ہے۔ ان کے دعوی کے مطابق اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں بائیس سو چوالیس مبینہ عکسریت پسندوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ تین سو تیس غیر ملکیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن میں سے بعض کو بیرونی ممالک کے حوالے کیا گیا ہے۔ میجر مراد خان نے دعوی کیا ہے کہ اسی عرصے کے دوران چوبیس چودہ مقامی عسکریت پسندوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر اب بھی تفتیشی ادراوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں ہیں۔

فوج کی کارروائی
 دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننے کے بعد پاکستان نے غیر ملکیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں اب تک پانچ سو اکیاسی غیر ملکی جنگجؤوں کو ہلاک جبکہ تین سو گیارہ کو زخمی کیا ہے۔ اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں بائیس سو چوالیس مبینہ عکسریت پسندوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے
میجر مراد

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز کے تیرہ سو اڑسٹھ اہلکار ہلاک جبکہ تینتیس سو اڑتالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جولائی دو ہزار سات میں لال مسجد کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بعد ملک بھر میں اٹھاسی مبینہ خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ایک سو چوالیس فوجی، پینتالیس ایف سی کے جوان اور آٹھ سو سینتالیس عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

اگرچہ پاکستانی فوج نے پہلی مرتبہ کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے غیر ملکی اور مقامی جنگجؤوں کی تعداد جاری کی ہے لیکن کارروائیوں کے دوران مبینہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے حوالے سے حکومتی اعداد وشمار پر اکثر اوقات شک و شبہ کا اظہار کیا گیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرِ پیکار مسلح طالبان نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کے حوالے سے حکومتی دعوؤں کو رد کیا ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران عام شہری بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے ہیں اور بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ حکومت مارے جانے والے معصوم شہریوں کو بھی ہلاک ہونے والے مبینہ عسکریت پسندوں کے اعداد و شمار میں شامل کر لیتے ہیں۔ تاہم حکومت اس الزا م کی تردید کرتی آئی ہے۔

یہ سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں کہ حکومت گزشتہ سات سال کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے مبینہ عسکریت پسندوں کی تعداد بتا تو دیتی ہے لیکن خودکش حملوں کے سوا فضائی بمباری، توپخانے اور دو طرفہ جھڑپوں میں مارے جانے والے معصوم شہریوں کی تعداد بتانے کے بارے میں اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

لال مسجد کے بعد
 جولائی دو ہزار سات میں لال مسجد کے خلاف ہونے والی کارروائی کے بعد ملک بھر میں اٹھاسی مبینہ خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ایک سو چوالیس فوجی، پینتالیس ایف سی کے جوان اور آٹھ سو سینتالیس عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں
میجر مراد

یاد رہے کہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ میں امریکہ کا اتحادی بننے کے بعد حکومتِ پاکستان نے القاعدہ کے جن اہم رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے ان میں ابو فراج الیبی، خالد شیخ محمد، رمزی بن الشبیہ، یاسر الجزیری اور احمد خلفان غلانی سمیت دیگر اہم ارکان شامل ہیں، جبکہ ابو حمزہ رابیہ، ابولیث اللیبی اور ابو مروان السوری کے ساتھ ساتھ متعدد اہم افراد کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک دو سو پچاسی غیر ملکیوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا ہے جنہیں کیوبا میں امریکی حراستی مرکز گوانتانامو بے میں رکھا گیا ہے۔ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں اتحادی بننے کے ابتدائی سالوں میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں القاعدہ سے تعلق کے شبہہ میں گرفتاری میں اضافہ دیکھا گیا تھا لیکن گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران ان گرفتاریوں میں بظاہر کمی نظر آئی ہے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ عراق میں شکست کھانے کے بعد القاعدہ کا نیٹ ورک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مضبوط ہوا ہے۔ حکومت پاکستان اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے۔

القاعدہ کے مبینہ ارکان کی گرفتاری میں بظاہر کمی آنے کے بعد امریکہ ایک اور حکمت عملی پر بڑی شدت کے ساتھ عمل پیرا ہے جس کے تحت وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرحد پار افغانستان سے بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے القاعدہ کے ارکان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

صحافیوں کو بریفنگ
پاکستان کو سورش کا سامنا: اعلیٰ حکام
طالبان مخالف عوام
قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف عوامی ردعمل
وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
فوجی ہیلی کاپٹر(فائل فوٹو)11 ستمبراور پاکستان
دہشت گردی کے خلاف جنگ سرحد کی دہلیز پر
نقل مکانی پر مجبور سواتی لڑکالڑائی میں پھنسےلوگ
تین دنوں میں بارہ شہری ہلاک ہوگئے
اسی بارے میں
’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘
15 September, 2008 | پاکستان
خار کا محاصرہ، متضاد دعوے
10 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد