BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہنگو میں ’سولہ جنگجو ہلاک‘

ہنگو
فائرنگ کے تبادلے میں سترہ مبینہ عسکریت پسند کو ہلاک کردیا گیا
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دو آبہ کے مقام پر سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کےدرمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں سولہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

ضلع ہنگو کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی صبح گاڑی میں سوار مسلح عسکریت پسند ہنگو سے کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں قائم ایک چیک پوسٹ پر سکیورٹی فورسز نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر انہوں نے گاڑی نہیں روکی۔

ان کے بقول اس دوران فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جس میں سولہ مبینہ عسکریت پسند کو ہلاک کر دیا گیا۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ مرنے والے واقعی مسلح عسکریت پسند تھے یا اس میں عام لوگ شامل ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرنے والوں میں ایک خود کش بمبار بھی شامل ہے۔ ان کے بقول اس واقعہ میں سکیورٹی فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجرمراد نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں دو غیر ملکیوں سمیت سولہ مبینہ عسکریت پسند ہلاک جبکہ ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان کے بقول ہلاک ہونے والے دونوں غیر ملکی خودکش بمبار تھے جنہوں نے فائرنگ کے دوران خود کو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ اڑادیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جھڑپ کے دوران ایک مبینہ شدت پسند فرار ہونے کی کوشش کررہا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے اس سے گرفتار کرلیا جس سے بقول ان کے تفتیش جاری ہے۔

طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے ضلع ہنگو میں اپنے سولہ ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے طالبان کا تعلق درہ آدم خیل سے ہے اور وہ میران شاہ جارہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ انکا کوئی ساتھی گرفتار نہیں ہوا ہے اور نہ ہی جھڑپ کے دوران دو خود کش حملہ آوروں نے خود کو دھماکہ سے اڑایا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کا بدلہ ضرور لیں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ میں نو جولائی کو بھی چھ عسکریت پسندوں کی گرفتاری کے بعد سخت جھڑپیں ہوئی تھیں اور اس دوران سکیورٹی فورسز کے تقریباً سترہ اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا تھا جنکی لاشیں کئی روز کے بعد مقامی جرگے کے حوالے کردی گئی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد