’مثبت تجویز پر غور کو تیار ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ملک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کسی بھی مثبت تجویز پر غور کرنے کو تیار ہے چاہے وہ کسی تیسرے ملک کی طرف سے پیش کی جائے۔ جمعرات کے روز اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے تر جمان محمد صادق نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور اس کے لیے پاکستان باہمی، کثیر التنظیمی یا کسی تیسرے فریق کی جانب سے پیش کی جانے والی ہر مثبت تجویز پر غور کرنے پر تیار ہے۔ واضع رہے کہ امریکہ کے نو منتخب صدر باراک ابامہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ محمد صادق نے بتایا کہ ہندوستان نے جیلوں میں قید دو خواتین سمیت انتیس قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو چودہ نومبر کو بھارت سے لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ جائیں گے جبکہ پاکستان بھی اپنی جیلوں میں قید بھارتی قیدیوں کی رہائی کے لیے مثبت اقدامات اٹھائے گا۔ انھوں نے امریکہ میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے پییش رفت ہوئی ہے جسے میڈیا پر ابھی ظاہر نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا ڈاکٹر عافیہ کے رہائی کے لیے حکومت پاکستان میں امریکی سفارت خانے، امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور کیس میں مدد گار ثابت ہونے والے تمام لوگوں سے مسلسل رابطہ میں ہے۔ جبکہ امریکی میڈیا پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے آگاہی مہم بھی شروع کی گئی ہے ۔ محمد صادق نے پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ہونے والے میزائل حملوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کا اس حوالے سے موقف واضع ہے کہ امریکی میزایل حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور پاکستان امریکی حملوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے وعدے پر قائم ہے۔ | اسی بارے میں حکومتی عملداری نافذ کریں گے08 November, 2008 | پاکستان سترہ رکنی مشترکہ کمیٹی کی تشکیل10 November, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی اور مذہب الگ الگ‘09 November, 2008 | انڈیا ’وزارت خارجہ کو نظر انداز کیا گیا‘ 13 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||