’وزارت خارجہ کو نظر انداز کیا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نیٹو کے کمانڈر کی پاکستان کے سیاستدانوں کو افغانستان پر بریفنگ میں وزارت خارجہ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز سینیٹر پروفیسر خورشید کے نکتہ اعتراض میں اٹھائے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ امریکی سفارتخانے کے ترجمان ویس رابرٹسن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ نیٹو کمانڈر جنرل ڈیوڈ میکرنین امریکی سفیر کی رہائش گاہ پر آج دہشت گردی کے حوالے سے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کے اراکین کو بریفنگ دے رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کو اس حوالے سے اعتماد میں نہ لینے کے سوال پر انہوں نے کہا ’میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ آج نیٹو کمانڈر پاکستانی سیاستدانوں کو افغانستان پر بریفنگ دے رہے ہیں۔ کن اداروں کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے اس بارے میں مجھے معلوم نہیں۔‘ رضا ربانی نے کہا کہ اس حوالے سے انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر محمود درانی سے دریافت کیا تھا اور محمود درانی نے بتایا کہ امریکی سفارتخانے نے وزارت خارجہ کو اعتماد میں نہیں لیا اور ان کو بائی پاس کیا ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ ہم جب بیرون ملک جاتے ہیں تو حکام سے ملنے کے لیے اس ملک کی وزارت خارجہ سے رابطہ کرتے ہیں۔ سینیٹ میں پروفیسر خورشید نے نکتہ اعتراض میں کہا کہ ان کو چھ نومبر کو ایک خط موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تیرہ نومبر کو نیٹو کے افغانستان میں کمانڈر جنرل ڈیوڈ میکرنین دہشت گردی کے حوالے سے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کے اراکین کو بریفنگ دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خط کے مطابق اس بریفنگ کی جگہ پاکستان میں امریکی سفیر ڈبلیو این پیٹرسن کی رہائش گاہ بتائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نیٹو کا کمانڈر پاکستانی ممبران پارلیمان کو بریفنگ امریکی سفیر کے گھر پر بریفنگ دے رہا ہے۔ رضا ربانی نے جو کہ مشترکہ پارلیمان کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وزارت خارجہ کلیئرنس نہ دے اس وقت تک وہ کیسے بریفنگ میں شرکت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمانڈر نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے حوالے سے بریفنگ دینی ہے۔ یاد رہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کی مشترکہ کمیٹی نے بائیس اکتوبر کو دو ہفتے سے زائد جاری رہنے والے پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں جاری فوجی آپریشن پر تفصیل سے بحث کرنے کے بعد چودہ نکاتی قرارداد کی منظوری دی تھی۔ دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کی تجاویز پر عمل درآمد کے لئے ارکان پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سترہ رکنی اس کمیٹی میں حزب اختلاف اور اقتدار کی تمام جماعتوں کے اہم رہنما شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا اگلا اجلاس سوموار کو اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔ اس کمیٹی میں پارلیمنٹ میں جن ارکان کو شامل کیا گیا ہے ان کے نام یہ ہیں۔ رضا ربانی، شیری رحٰمن، اسفندیار ولی خان، اسرار اللہ زہری، شاہد حسن بگٹی، بابر اعوان، اسحٰق ڈار، منیر اورکزئی، مولانا سمیع الحق، سردار مہتاب عباسی، حیدر عباس رضوی، عبدلرزاق تھہیم، آفتاب شیر پاؤ، وسیم سجاد، مولانا فضل الرحٰمن، پروفیسر خورشید احمد اور عبدالرحیم مندوخیل۔ | اسی بارے میں سترہ رکنی مشترکہ کمیٹی کی تشکیل10 November, 2008 | پاکستان ڈرون حملوں پر سینیٹ کی مذمت27 October, 2008 | پاکستان ’خودمختاری کا دفاع کیا جائے گا‘22 October, 2008 | پاکستان ’بات چیت بھی، کارروائی بھی‘14 October, 2008 | پاکستان ’قبائلی لشکر کشی حوصلہ افزاء‘11 October, 2008 | پاکستان پارلیمان، فوجی پالیسیوں پر تنقید09 October, 2008 | پاکستان نیٹو کو تیل کی فراہمی کا انتقام؟26 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||