’بات چیت بھی، کارروائی بھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی وزیر اطلاعات شیری رحمٰن نے منگل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کو بند کمرے میں دی گئی بریفنگ میں کہا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنی سہ رخی پالیسی جاری رکھے گی۔اس پالیسی کے تحت غیر مسلح ہونے والے شدت پسندوں سے بات چیت، ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عمل کرنا اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طاقت کا استعمال حکومت کا آخری آپشن ہوگا۔ بند کمرے میں دی گئی خفیہ بریفنگ کے بارے میں حکومت تو کچھ بھی بتانے کے لیے تیار نہیں تاہم مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خرم دستگیر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومتی بریفنگ میں کوئی نئی چیز نہیں تھی اور پرانے بیانات کو نئے اور خوبصورت الفاظ سے دوہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا مطالبہ تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق پارلیمان کو بریفنگ وزیراعظم، وزیر دفاع یا وزیر خارجہ کو دینی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی نے بتایا کہ وزیر اطلاعات کی ایک گھنٹے کی بریفنگ کے اختتام پر اچانک ایوان میں قومی ترانہ بجایا گیا۔ ان کے مطابق قومی ترانے کے احترام میں تمام اراکین کھڑے ہوگئے اور اس کے بعد اقبال ظفر جھگڑا اور ایاز امیر نے ترانہ بجانے کے بارے میں بات کرنا چاہی لیکن انہیں سپیکر نے اجازت نہ دی۔ خرم دستگیر کے مطابق ان کی جماعت کے بیشتر اراکین نے اس پر احتجاج کیا تو دوران احتجاج سپیکر نے اجلاس کی کارروائی بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ترانہ بجاکر مصنوعی طور پر یہ تاثر دیا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ کی پالیسی ایک قومی پالیسی ہے جس پر پورا ایوان متفق ہے۔ لیکن ان کے مطابق صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ادھر وزیراعظم نے پارلیمان کو پہلے فوج اور بعد میں حکومت کی جانب سے دی گئی بریفنگ پر بحث کے لیے بدھ کو شروع ہونے والے اجلاس سے قبل حکومتی اتحاد میں شامل پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس صبح دس بجے طلب کرلیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طور پر ایوان سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق پالیسی کی حمایت کے لیے ایک متفقہ قرار داد منظور کرائی جائے۔ بظاہر ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا کیوں کہ حکومت کی اتحادی پارٹی جمیعت علماء اسلام سمیت مذہبی جماعتیں طالبان کا موقف سننے کے مطالبات کر رہی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنماؤں کے بیانات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی اس پالیسی کی حامی نہیں لیکن اب تک کی اطلاعات کے مطابق صدر آصف علی زرداری کوشش کر رہے ہیں کہ وہ حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو اس بات پر راضی کرلیں کہ وہ اگر حمایت نہیں کرتے تو اس معاملے کو متنازعہ بھی نہ بنائیں۔ بعد ازاں پارلیمان کی ہاؤس بزنس کمیٹی کا ایک اجلاس قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں طے پایا کہ بدھ کو اراکین اسمبلی وزیر اطلاعات کی بریفنگ کی روشنی میں سوالات پوچھیں گے جبکہ جمعرات سے چار روز تک اراکین اسمبلی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے متعلق بحث کریں گے اور اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’زرداری نے وعدے پورے نہیں کیے‘12 October, 2008 | پاکستان سکیورٹی بریفنگ، دوبارہ شروع12 October, 2008 | پاکستان تمام نظریں منتخب نمائندوں پر 09 October, 2008 | پاکستان ’قبائلی لشکر کشی حوصلہ افزاء‘11 October, 2008 | پاکستان اجلاس خفیہ نہ ہو: چودھری نثار10 October, 2008 | پاکستان ہمیں بھی بریفنگ دینے دیں:طالبان 10 October, 2008 | پاکستان پارلیمان، فوجی پالیسیوں پر تنقید09 October, 2008 | پاکستان بریفنگ: مسلم لیگ کا عدم اطمینان09 October, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||